السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. -- باب: الاختيار في استيعاب الرأس بالمسح
-- باب: مسح میں پورے سر کا احاطہ کرنے کے مختار و پسندیدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ:" نَعَمْ" فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. ⦗٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مَالِكٍ.
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عمرو بن یحییٰ کے دادا سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھا سکتے ہیں؟“ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ پھر انہوں نے پانی منگوایا، اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور انہیں دو دو مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا، پھر دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور ہاتھ کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے آئے، یعنی سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے، پھر ان دونوں کو واپس لوٹایا اور اپنی جگہ لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں کو دھویا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 183»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 271
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وُضُوئِهِ قَالَ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ مَرَّةً، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا كَانَ طُهُورَهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کی حدیث ذکر کی اور اپنے ہاتھوں سے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر فرمایا: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرف دیکھے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 112»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَإِذَا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَاءَ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ". قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ حَتَّى يَرْفَعَ.
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے مسح تک پہنچے تو اپنی ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو گدی تک لے گئے، پھر اس جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا۔ (ب) حریز رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 123، 122»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ" تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وضو کر کے دکھلایا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ اپنے سر تک پہنچے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو اپنے سر کے درمیان رکھ دیا، یہاں تک کہ پانی بہہ گیا یا قریب تھا کہ بہہ پڑتا، پھر اپنے سر کے اگلے حصے سے پچھلے اور پچھلے حصے سے اگلے حصے تک مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 124»
الحكم على الحديث: صحيح
65. -- باب: تحري الصدغين في مسح الرأس
-- باب: سر کے مسح میں دونوں کنپٹیوں کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٩٩⦘ يَتَوَضَّأُ فَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْ رَأْسِهِ وَمَا أَدْبَرَ، وَمَسَحَ صُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَمَنْبَتَهُمَا".
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کیا اس طرح کہ اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا اور اپنی کنپٹی (کے بالوں) کا مسح کیا اور اپنے کانوں کے باہر اور اندرونی حصے کا اور ان کی جڑ کا مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 274]
66. -- باب: المسح على شعر الرأس
-- باب: سر کے بالوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 275
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ فَوْقِ الشَّعْرِ، كُلَّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ". وَفِي رِوَايَةٍ غَيْرِهَا مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ.
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا تو اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے بالوں کے اوپر مکمل سر کا ہر بال اگنے کی جانب سے مسح کیا اور بالوں کو ان کی حالت سے ہلاتے نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 128»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 276
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ لَمْ يُقَلِّبْ شَعْرَهُ". وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا وَحَدِيثُ الرُّبَيِّعِ مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ، لَا يُقَلِّبُ الشَّعْرَ عَنْ مَجَارِيهِ.
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتے تو اپنے بالوں کو الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ (امام احمد) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت اور سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی ایک ہی ہے کہ بالوں کو ان کی جگہ سے الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 276]
(ب) ابو عبداللہ (امام احمد) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت اور سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی ایک ہی ہے کہ بالوں کو ان کی جگہ سے الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
67. -- باب: إمرار الماء على القفا
-- باب: گدی (گردن کے پچھلے حصے) پر پانی بہانے کا بیان
حدیث نمبر: 277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَا: ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، أنا لَيْثٌ، أنبأ طَلْحَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ اسْتَقْبَلَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أُذُنَيْهِ وَسَالِفَتِهِ".
طلحہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کا مسح کرتے تو اپنے ہاتھوں کو سر کے سامنے سے شروع کرتے، یہاں تک کہ اس کو اپنے کانوں کے پیچھے تک لے جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 278
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَخْمَسِيُّ، ثنا أَبُو حَصِينٍ الْوَادِعِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ" أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ وَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى قَفَاهُ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: مَسَحَ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمْرَارَ.
(الف) طلحہ رحمہ اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو گدی پر پھیرا۔
(ب) لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے سر کا مسح کیا اور گدی کے شروع حصے تک پہنچ گئے، لیکن گدی پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 278]
(ب) لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے سر کا مسح کیا اور گدی کے شروع حصے تک پہنچ گئے، لیکن گدی پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 132»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 279
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو حَصِينٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو ⦗١٠٠⦘ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ مَسَحَ قَفَاهُ مَعَ رَأْسِهِ". هَذَا مَوْقُوفٌ وَالْمُسْنَدُ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اپنے سر کا مسح کرتے تھے تو اپنے سر کے ساتھ گدی کا بھی مسح کرتے تھے۔
(ب) یہ روایت موقوف ہے اور مسند (مرفوع) روایت کی سند میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 279]
(ب) یہ روایت موقوف ہے اور مسند (مرفوع) روایت کی سند میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف