🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
73. -- باب: مسح الأذنين بماء جديد
-- باب: نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُعِيدُ أُصْبُعَيْهِ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا أُذُنَيْهِ".
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب وضو کرتے تھے تو اپنے کانوں کے لیے اپنی انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 67»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ، وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ". فَرُوِيَ ذَلِكَ بِأَسَانِيدَ ضِعَافٍ ذَكَرْنَاهَا فِي الْخِلَافِ.
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کانوں کے مسح کے لیے انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت میں ”کان سر کا حصہ ہیں“۔ یہ روایت ضعیف اسناد کے ساتھ منقول ہے، جنہیں ہم نے (اپنی کتاب) الخلاف میں ذکر کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بطرقه أخرجه ابو داؤد 134»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ثنا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَقَالَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ". وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ. وَهَذَا الْحَدِيثُ يُقَالُ فِيهِ مِنْ وَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا ضَعْفُ بَعْضِ الرُّوَاةِ، وَالْآخَرُ دُخُولُ الشَّكِّ فِي رَفْعِهِ. وَبِصِحَّةِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلَّالُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، فَقَالَ: إِنَّ شَهْرًا تَرَكُوهُ. قَوْلُهُ تَرَكُوهُ: أَيْ طَعَنْوا فِيهِ وَأَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ. ⦗١٠٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا شَبَابَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: كَانَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَافَقَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَسَرَقَ عَيْبَتَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: كَانَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَخَذَ خَرِيطَةً فِيهَا دَرَاهِمُ، فَقَالَ الْقَائِلُ:.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: «الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ”کان سر کا حصہ ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کرتے تھے۔
(ب) اس حدیث میں دو لحاظ سے کلام ہے: 1 بعض راوی ضعیف ہیں 2 اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنان بن ربیعہ جو حماد بن زید سے نقل کرتا ہے قوی نہیں۔
(د) ابن عون رحمہ اللہ کے پاس شہر بن حوشب کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: شہر کے بارے میں لوگوں نے طعن کیا ہے۔
(ر) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب اہل شام میں سے کسی شخص کا ہم سفر بنا تو اس کا (سامان کا) تھیلا چرا لیا۔
(س) ابوبکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب کی ذمہ داری بیت المال پر تھی تو اس نے درہموں کی ایک تھیلی چرا لی تو کسی نے کہا: شہر نے اپنا دین ایک تھیلی کے عوض بیچ دیا ہے۔ اے شہر! تیرے بعد قراء کیسے محفوظ رہیں گے۔
(ش) موسیٰ بن ہارون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ اس میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بطرقه أخرجه ابو داؤد 134»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَاقَيْهِ بِالْمَاءِ". وَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ". ⦗١١٠⦘ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ إِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ، فَمَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ كَلِمَةً قَالَهَا سُلَيْمَانُ أَيْ أَخْطَأَ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے تو پانی سے اپنی آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کرتے تھے اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ ”کان سر کا حصہ ہیں“، یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا اس نے اسے بدل دیا (یا سلیمان نے اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا) یعنی اس نے غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الدار قطني 1/104»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ذُكِرَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ. قَالَ: وَقَالَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ". قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَبِي أُمَامَةَ يَعْنِي قِصَّةَ الْأُذُنَيْنِ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ: كَذَا فِي كِتَابِي: الْمَاقَيْنِ، وَهُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ ابْنِ دَاسَةَ: الْمَاقَيْنِ، فَسَّرَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ بِطَرْفِ الْعَيْنِ الَّذِي يَلِي الْأَنْفَ، وَهُوَ مَخْرَجُ الدَّمْعِ، وَالَّذِي رُوِيَ مِنْ مَسْحِهِ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ فِي بَعْضِ مَا مَضَى مُجْمَلًا كَيْفِيَّتُهُ مَوْجُودَةٌ فِيمَا.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا تذکرہ کیا، فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (ج) حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا۔
(د) قتیبہ رحمہ اللہ نے سنان بن ربیعہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: میری کتاب میں «مَأْقَيْنِ» کے الفاظ ہیں، ابن داسہ رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے «مَأْقَيْنِ» کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أبوداؤد 134»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ ⦗١١١⦘ الْحَدِيثَ قَالَ:" ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ، قَالَ: بِالْوُسْطَيَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ فِي بَاطِنِ أُذُنَيْهِ، وَالْإِبْهَامَيْنِ مِنْ وَرَاءِ أُذُنَيْهِ". وَقَالَ أَصْحَابُنَا: فَكَأَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ مِنْ كُلِّ يَدٍ أُصْبُعَيْنِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَسْحِ الرَّأْسِ مَسَحَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پانی لیا تو اس کے ساتھ سر کا مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے اندرونی حصے میں اپنی درمیانی انگلیوں سے اور انگوٹھوں سے اپنے کانوں کی پچھلی جانب کا مسح کیا۔ حسن۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں کی دو دو انگلیاں (سر کے مسح سے) الگ رکھتے تھے، پھر جب سر کے مسح سے فارغ ہوتے تو انہی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 315]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مَسَحُ أُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَابَتَيْنِ، وَخَالَفَ بِإِبْهَامَيْهِ فَمَسَحَ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ.
اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنی دونوں سبابہ انگلیوں کو داخل کر کے اپنے کانوں کا مسح کیا اور انگوٹھوں کے ساتھ مخالف سمت میں مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔“ حسن، أخرجه ابن حبان: [1086] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 316]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. -- باب: غسل الرجلين
-- باب: دونوں پاؤں دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا وَرْقَاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَضْمَضَ مَرَّةً، وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا میں تم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤں؟“ پھر وضو کا طریقہ بیان کیا اور آپ نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور ایک مرتبہ ہی اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: ”یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الشافعي 51»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. -- باب: التكرار في غسل الرجلين
-- باب: دونوں پاؤں دھونے میں تکرار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". ⦗١١٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ، وَأَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دن پانی منگوا کر وضو کیا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں ہاتھ کو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے دل میں کوئی خیال پیدا نہیں ہونے دیا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 226»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أَنَا الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَا: أَتَانَا عَلِيٌّ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، مَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ مِنْهُ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا".
عبد خیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، آپ نے نماز پڑھی، پھر پانی منگوایا۔ ہم نے عرض کیا: آپ پانی سے کیا کریں گے حالانکہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے؟ وہ ہمیں وضو کا طریقہ سکھلانا چاہتے تھے، چنانچہ ایک برتن اور تھال لایا گیا، جس میں پانی تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، آپ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑتے جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا: ”جس کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو جانے تو یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 111»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں