🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
125. -- باب: الجمع في الاستنجاء بين المسح بالأحجار والغسل بالماء
-- باب: استنجاء میں پتھروں سے پونچھنے اور پانی سے دھونے کو جمع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبِي دَاوُدَ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحَبَلِ أَوِ الْحَبَلَةِ هَكَذَا حَدَّثَ شُعْبَةُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةَ مَالَهُ خِلْطٌ. وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتواں شخص تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتے کھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی طرح شعبہ نے بیان کیا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح مینگنیاں کرتا تھا، پھر بنو اسد اسلام کی وجہ سے میری ملامت کرتے تھے، البتہ اس وقت میں خسارہ اٹھاؤں گا جب میری کوشش ضائع ہو جائے۔
(ب) ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ درخت کے پتے یا لوبیے جیسی ترکاری استعمال کرتے تھے، ہم تمام بکری کی طرح مینگنیاں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5096»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
126. -- باب: دلك اليد بالأرض بعد الاستنجاء
-- باب: استنجاء کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، قَالَ أَبُو دَاودَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ ⦗١٧٣⦘ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ" قَالَ أَبُو دَاودَ: وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا جاتے تو میں ایک برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجا کرتے، پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملتے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دوسرا برتن لے کر آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 45»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رِجْلَيْكَ قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَينِ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے پاؤں؟ (یعنی پاؤں نہیں دھوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه النسائي50»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَضِّئْنِي". فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ، فَاسْتَنْجَى بِمَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا بِهِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَوَضَّأْتَ وَلَمْ تَغْسِلْ رِجْلَيْكَ؟ قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ".
ابووہب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وضو کراؤ“، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کو ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہاتھ کو دھویا اور وضو کیا، موزوں پر مسح بھی کیا، میں نے کہا کہ آپ نے وضو کیا اور پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 2/358»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ" كَانَ يُوضَعُ لَهُ الْمَاءُ وَالْأُشْنَانُ يَعْنِي لِلِاسْتِنْجَاءِ".
انس بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے پانی اور «الْأُشْنَان» (صابن نما بوٹی) رکھا جاتا، یعنی استنجا کرنے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
127. -- باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به
-- باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدَاوَةٍ لِوُضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ وَقَالَ: فَأَدْرَكَهُ يَوْمًا فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟". قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ، وَلَا رَوْثٍ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ فِي ثَوْبِي، فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ:" أَتَانِي وَفْدُ نَصِيبِينَ فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِرَوْثَةٍ وَلَا بِعَظْمٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهِ طَعَامًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔“ میں اپنے کپڑوں میں پتھر لایا وہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہا۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3647»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ إِدَاوَتِي، فَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَاجَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى مُخْتَصَرًا دُونَ سُؤَالِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدُونَ ذِكْرِ الْجِنِّ مِنْ نَصِيبِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن اٹھائے ہوئے نکلا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ. قَالَ: فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً وَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ:" هَذَا رِكْسٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، فَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا، وَاعْتَمَدَهُ الْبُخَارِيُّ وَوَضَعَهُ فِي الْجَامِعِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ:" ايْتِنِي بِحَجَرٍ". وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي ⦗١٧٥⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عِنْدِي أَثْبَتُ وَأَصَحُّ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَالَ: وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ لَيْسَ بِذَلِكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخِرِهِ، وَأَبُو إِسْحَاقَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ كَانَ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ.
سیدنا عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لے کر آؤں، مجھے دو پتھر مل گئے اور تیسرے کو میں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر میں نے گوبر لیا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دونوں پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: ” «هَذَا رِكْسٌ» یہ پلید ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 100»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ:" ايتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ، وَلَا تُقَرِّبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا". ⦗١٧٦⦘ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِنْ صَحَّتْ تُقَوِّي رِوَايَةَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کروں اور میرے پاس گوبر نہ لانا۔“
یہ روایت اگر صحیح ہو تو عبدالرحمن بن اسود سے ابو اسحاق کی روایت کو تقویت دیتی ہے، مگر لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 1/426»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاودَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ:" أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ". قَالَ:" فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ"، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ:" كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى هَكَذَا..
عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جنوں والی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا جنوں والی رات تم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے آپ کو وادیوں اور ٹیلوں میں تلاش کیا، پھر ہم نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اڑا لیا گیا ہے یا اغوا کر لیا گیا ہے، ہم نے وہ رات اتنی بری گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ جب ہم نے صبح دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے آ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا اور آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈ نہ سکے۔ اور ہم نے ایسی بری رات گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کے داعی آئے تھے، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان پر قرآن پڑھا“۔ راوی کہتا ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور ہمیں ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہو گی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 450»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں