السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. -- باب: النهي عن البول في الثقب
-- باب: بل اور سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 479
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَبْدُ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، فَإِنَّ ⦗١٦١⦘ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتُحْرِقَ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ". فَقِيلَ لِقَتَادَةَ: وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ فَقَالَ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ".
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی سوراخ میں پیشاب نہ کرے اور جب تم سوؤ تو اپنے چراغوں کو بجھا دو، بلاشبہ چوہیا بتی کو پکڑ لیتی ہے اور گھر کو جلا دیتی ہے اور اپنے برتنوں کے منہ بند کرو اور مشروبات کو ڈھانپ دو اور دروازوں کو بند کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں منع ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ جنوں کی رہائش گاہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 29»
الحكم على الحديث: ضعيف
117. -- باب: البول في الطست وغير ذلك من الأواني
-- باب: طشت اور اس جیسے دیگر برتنوں میں پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَتْ:" بِمَا أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ دَعَا بِطَسْتٍ لِيَبُولَ فِيهَا وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَانْخَنَثَ أَوْ قَالَتْ: فَانْخَنَثَ فَمَاتَ وَمَا شَعَرْتُ، فَبِمَ يَقُولُ هَؤُلَاءِ أَنَّهُ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ؟" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَزْهَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، وَإِبْرَاهِيمُ هَذَا يُقَالُ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ التَّيْمِيُّ.
اسود کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: علی رضی اللہ عنہ کو کس چیز کی وصیت کی ہے؟ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تھال منگوایا تاکہ اس میں پیشاب کریں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک طرف) جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور مجھے پتا بھی نہ چلا، تو یہ لوگ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ہے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4190»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 481
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانَ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ".
حکیمہ بنت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے ہوتا تھا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 24»
الحكم على الحديث: ضعيف
118. -- باب: كراهية الكلام عند الخلاء
-- باب: قضائے حاجت کے وقت بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 482
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ". مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پیشاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 115»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 483
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ:" لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو شخص قضائے حاجت کو اس طرح نہ جائیں کہ ان کی شرمگاہیں کھلی (ننگی) ہوں اور وہ باتیں کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 15»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، أنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَقِيبَ هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، هَذَا الشَّيْخُ هُوَ عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ، رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ فِيهِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ: عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَّا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ.
عیاض بن ہلال رحمہ اللہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔
(ب) ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ یہ دو روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہی صحیح ہے اور وہ عیاض بن ہلال ہیں، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے حدیث نقل کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہلال بن عیاض سے روایت کرنا عکرمہ بن عمار کا وہم ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عکرمہ بن عمار کے سوا کسی نے مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 484]
(ب) ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ یہ دو روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہی صحیح ہے اور وہ عیاض بن ہلال ہیں، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے حدیث نقل کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہلال بن عیاض سے روایت کرنا عکرمہ بن عمار کا وہم ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عکرمہ بن عمار کے سوا کسی نے مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/260»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَمْشَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/260»
الحكم على الحديث: ضعيف
119. -- باب: البول قائما
-- باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 486
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ:" ادْنُهْ". فَدَنَوْتُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ۔“ تو میں قریب ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 222»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانَ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ الْحَائِطِ فَبَالَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ. قَالَ: فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلِيَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے چل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پیچھے آئے اور پیشاب کیا جس طرح تم سے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے: میں پیچھے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 223»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 488
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَلَقِيتُ مَنْصُورًا فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا". كَذَا رَوَاهُ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ. وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، كَذَا قَالَهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَقَدْ رُوِيَ فِي الْعِلَّةِ فِي بَوْلِهِ قَائِمًا حَدِيثٌ لَا يَثْبُتْ مِثْلُهُ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں منصور سے ملا تو ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے ابو وائل سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
عاصم بن بہدلہ اور حماد بن ابی سلیمان نے اسے ابو وائل عن مغیرہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن صحیح وہ ہے جو منصور اور اعمش نے ابو وائل عن حذیفہ کی سند سے روایت کیا ہے، یہی بات امام ابو عیسیٰ ترمذی اور حفاظ کی ایک جماعت نے کہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی وجہ کے بارے میں ایک حدیث مروی ہے جو ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 488]
عاصم بن بہدلہ اور حماد بن ابی سلیمان نے اسے ابو وائل عن مغیرہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن صحیح وہ ہے جو منصور اور اعمش نے ابو وائل عن حذیفہ کی سند سے روایت کیا ہے، یہی بات امام ابو عیسیٰ ترمذی اور حفاظ کی ایک جماعت نے کہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی وجہ کے بارے میں ایک حدیث مروی ہے جو ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/295»
الحكم على الحديث: صحيح