🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
104. -- باب: الرخصة في ذلك في الأبنية
-- باب: عمارتوں کے اندر ایسا کرنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاودَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
صفوان بن عیسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 11»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرٍ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ، ثُمَّ قَدْ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةِ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ" بِعَامٍ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاودَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَفِيهِ: فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو منع کیا کرتے تھے کہ ”ہم قبلہ کی طرف منہ کریں یا اپنی شرمگاہوں کے ساتھ قبلہ کی طرف پشت کریں، جب ہم پانی بہائیں (یعنی پیشاب کریں)“، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے ایک سال پہلے قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
(ب) سنن ابوداؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے آپ کی روح قبض ہونے سے ایک سال پہلے دیکھا کہ آپ قبلہ کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 11»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عِرَاكٌ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ، فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ" تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ فِي إِقَامَةِ إِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عَائِشَةَ.
خالد بن ابو صلت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس تھا اور ان کے پاس عراک بن مالک رحمہ اللہ بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اتنے عرصہ سے میں نے پیشاب اور قضائے حاجت کرنے کے لیے نہ قبلہ کی طرف رخ کیا ہے اور نہ ہی پیٹھ۔“ عراک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں لوگوں کی بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قضائے حاجت کی نشست کو قبلہ کی طرف کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 6/184»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، قَدِمَ عَلَيْنَا قَصَبَةَ خِسْرُوجِرْدَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا عَبْدِ الْمَلِكِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، نا حَاتِمٌ، عَنْ عِيسَى الْخَيَّاطِ، قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: وَأَنَا أَعْجَبُ مِنَ اخْتِلَافِ أَبِي ⦗١٥١⦘ هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" دَخَلْتُ بَيْتَ حَفْصَةَ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَيْتُ كَنِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوا، اچانک نظر پڑی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت الخلاء کا منہ قبلہ کی طرف دیکھا۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرے۔“
(ج) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں نے سچ کہا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول صحرا کے بارے میں ہے کہ بلاشبہ اللہ کے بندے فرشتے اور جن نماز ادا کرتے ہیں، تو صحرا میں قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت ان کی طرف منہ نہ کیا کریں اور نہ ہی پیٹھ کریں اور ان کے بیت الخلاء گھر ہیں جن میں قبلہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. -- باب: التخلي عند الحاجة
-- باب: قضائے حاجت کے لیے خلوت اختیار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (قضائے حاجت کو) جاتے تو بہت دور جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 1»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ وَلَا شَجَرٌ، فَقَالَ لِي:" يَا جَابِرُ، خُذِ الْإِدَاوَةَ وَانْطَلِقْ بِنَا". فَمَلَأْتُ الْإِدَاوَةَ مَاءً، وَانْطَلَقْنَا، فَمَشَيْنَا حَتَّى لَا نَكَادُ نُرَى، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بَيْنَهُمَا أَذْرُعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَقُلْ لِهَذِهِ الشَّجَرَةِ: يَقُولُ لَكِ رَسُولُ اللهِ: الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا" فَفَعَلْتُ، فَرَجَفَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِصَاحِبَتِهَا، فَجَلَسَ خَلْفَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ" وَرُوِيَ فِي إبْعَادِ الْمَذْهَبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی نہ دیکھتا۔ ہم ایک صاف زمین میں اترے جس میں کوئی نشان اور درخت نہ تھا (صحرا وغیرہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے جابر! برتن پکڑ اور میرے ساتھ چل۔“ میں نے پانی کا برتن بھرا، ہم پیدل ہی چلے یہاں تک کہ ہم اتنے قریب نہ رہے کہ دیکھے جائیں۔ دو درخت الگ الگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! جا اور اس درخت کو کہہ: تم کو رسول اللہ کہہ رہے ہیں کہ اپنے ساتھی (درخت) سے مل جاؤ، تاکہ میں تم دونوں کے پیچھے بیٹھ جاؤں۔“ میں نے ایسے ہی کہا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس درخت نے حرکت کی اور اپنے ساتھی درخت سے مل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھے اور اپنی حاجت کو پورا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بشواهده أخرجه الدارمي 17»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. -- باب: الارتياد للبول
-- باب: پیشاب کے لیے مناسب اور نرم جگہ تلاش کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ سَمِعَ أَهْلَ الْبَصْرَةِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ ⦗١٥٢⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يمْشَى إِذْ مَالَ فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ فَقَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ فَأَصَابَ جَسَدَهُ الْبَوْلُ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ". رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَتَى دَمْثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ، فَبَالَ ثُمَّ قَالَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
(الف) ابو تیاح ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ تشریف لائے تو انہوں نے بصرہ والوں سے سنا کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں، تو آپ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھ کر اس کے بارے میں پوچھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانب مڑ گئے اور دیوار کی ایک جانب بیٹھے اور پیشاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل والے جب پیشاب کرتے اور ان کے جسم کو پیشاب لگ جاتا تو اس کو قینچیوں کے ساتھ کاٹ دیتے، جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ پیشاب کے لیے (نرم) جگہ تلاش کرے۔“
(ب) ابو تیاح ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کی جڑ میں نرم جگہ پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر فرمایا: ”جب تم سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 3»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. -- باب: الاستتار عند قضاء الحاجة
-- باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ:" أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ" يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک پوشیدہ بات کی، وہ بات میں لوگوں سے بیان نہیں کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے کسی رکاوٹ (پتھر وغیرہ) سے یا کھجوروں کے باغ میں چھپ جانا بہت پسند تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه مسلم 242»

الحكم على الحديث: صحيح أخرجه مسلم 242
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَتَسَتَّرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِيءِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا فَقَالَ:" الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". ⦗١٥٣⦘ فَالْتَأَمَتَا. قَالَ جَابِرٌ: فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا۔“ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا۔“ تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا: ”تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد و متفق ہو جاؤ۔“ تو وہ دونوں جڑ گئیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں نے ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 2/3»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ يَجْمَعُهُ، ثُمَّ يَسْتَدْبِرُهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَلْعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو قضائے حاجت کو جائے تو وہ چھپ جائے۔ اگر کوئی چیز نہ پائے تو ریت کا ایک ٹیلہ اکٹھا کرے پھر اس کی طرف پیٹھ کرے؛ اس لیے کہ شیطان بنی آدم کی شرم گاہوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 35»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں