السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
344. -- باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما
-- باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1762
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو الْأَشْعَثِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ثنا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مُجَاهِدٍ، كَانَ يَقُولُ: انْظُرُوا يُوَافِقُ حَدِيثِي مَا سَمِعْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ صَلُّوا الظُّهْرَ حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ يَعْنِي تَزُولُ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ، وَصَلُّوا الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ بِغَلَسٍ أَوْ بِسَوَادٍ وَأَطِيلُوا الْقِرَاءَةَ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو میری حدیث اس (خط) کے موافق ہے جو تم نے تحریر سے سنا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ جس وقت سورج بلند ہو تو ظہر کی نماز پڑھو، یعنی جب وہ ڈھل جائے، اور عصر کی نماز پڑھو سورج سفید صاف ہو اور مغرب کی نماز پڑھو جس وقت سورج غائب ہو جائے، اور فرمایا: عشا کی نماز آدھی رات تک پڑھو اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو یا سیاہی میں اور قراءت کو لمبا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق 2035»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
345. -- باب: آخر وقت الجواز لصلاة العشاء
-- باب: نمازِ عشاء کے آخری وقتِ جواز کا بیان
حدیث نمبر: Q1763
رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: وَقْتِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ وَعَنْهُ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةٍ: مَا أَفْرَاطُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ؟ قَالَ: طُلُوعُ الْفَجْرِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةِ بِالْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَقَدْ نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي" وَهَذَا يَرِدُ فِي بَابِ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ.
ہمیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے فرمایا: ”عشاء کا وقت فجر تک ہے۔“ اور ان سے اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں مروی ہے جو طلوع فجر سے پہلے پاک ہو جائے کہ وہ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے گی۔ اور عبید بن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”عشاء کی نماز کا آخری وقت کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”فجر کا طلوع ہونا۔“
اور ہمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی گئی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا اور مسجد والے سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، اور فرمایا: ”یقیناً یہی اس کا (اصل) وقت ہے، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔“ اور یہ بات عشاء کی نماز کو مؤخر کرنے کے باب میں وارد ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q1763]
اور ہمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی گئی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا اور مسجد والے سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، اور فرمایا: ”یقیناً یہی اس کا (اصل) وقت ہے، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔“ اور یہ بات عشاء کی نماز کو مؤخر کرنے کے باب میں وارد ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q1763]
حدیث نمبر: 1763
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٥٤⦘ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى" رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں: لمبی حدیث ہے، اس میں ہے: ”نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی تو اس شخص کی ہے جس نے نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آگیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 681»
الحكم على الحديث: صحيح
346. -- باب: السنة في تسمية صلاة الصبح بالفجر والصبح
-- باب: صبح کی نماز کو فجر اور صبح کا نام دینے کی سنت کا بیان
اس باب کے تحت حدیث نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: A1]
347. -- باب: أول وقت صلاة الصبح
-- باب: نمازِ صبح کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1764
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتُ مَرَّتَيْنِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى:" وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ" وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الْآخِرَةِ:" فَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ" وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ وَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ: حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا.
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی... پہلی مرتبہ مجھ کو فجر کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں پر کھانا پینا حرام ہو گیا اور دوسری مرتبہ مجھ کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس کو روشن کیا۔“ (ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ کے متعلق روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ فجر کی روشنی بلند ہو گئی، انہوں نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھیے!“ آپ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھائی، دوسری مرتبہ خوب روشنی میں نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
348. -- باب: الفجر فجران ودخول وقت الصبح بطلوع الآخر منهما
-- باب: فجر کی دو قسمیں ہیں اور نمازِ صبح کا وقت ان میں سے دوسری (فجرِ صادق) کے طلوع ہونے سے داخل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارْبَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِي يَكُونُ كَذَنَبِ السِّرْحَانِ فَلَا يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَلَا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَأَمَّا الَّذِي يَذْهَبُ مُسْتَطِيلًا فِي الْأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ" هَكَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْصُولًا وَرُوِيَ مُرْسَلًا وَهُوَ أَصَحُّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہیں، وہ فجر جو بھیڑیے کی دم کی طرح ہوتی ہے، اس میں نماز درست نہیں اور کھانا بھی حرام نہیں ہوتا اور وہ فجر جو کنارے میں بالکل سیدھی جاتی ہے وہ نماز کو حلال اور کھانے کو حرام کر دیتی ہے۔“
اسی سند سے یہ روایت اسی طرح موصولاً بیان کی گئی ہے اور مرسلاً بھی بیان کی گئی ہے، اور (مرسل) زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1765]
اسی سند سے یہ روایت اسی طرح موصولاً بیان کی گئی ہے اور مرسلاً بھی بیان کی گئی ہے، اور (مرسل) زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/304»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1766
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: وَثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا وَمَوْقُوفًا.
محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہیں۔“ باقی حدیث اسی طرح ہے۔ (ایک دوسری سند سے مرفوع اور موقوف روایت بھی بیان کی گئی ہے) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مرسلا امه دارقطني 1/268»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقٍ الطَّبَرِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي النَّاقِدَ ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ وَيَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ يَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ وَيَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ" هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ مُسْنَدًا وَرَوَاهُ غَيْرُهُ مَوْقُوفًا وَالْمُوقُوفُ أَصَحُّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہیں: وہ فجر جس میں کھانا حلال ہوتا ہے اور نماز حرام ہوتی ہے اور وہ فجر جس میں نماز حلال ہوتی ہے اور کھانا حرام ہوتا ہے۔“
ابو احمد نے اسے اسی طرح مسند بیان کیا ہے اور دوسروں نے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور موقوف زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1767]
ابو احمد نے اسے اسی طرح مسند بیان کیا ہے اور دوسروں نے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور موقوف زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن خزيمة 356»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1768
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يَطْلُعُ بِلَيْلٍ يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَلَا يَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ يَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ وَيَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَهُوَ الَّذِي يَنْتَشِرُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”فجر دو ہیں: وہ فجر جو رات کو طلوع ہوتی ہے جس میں کھانا اور پینا حلال ہوتا ہے اور اس میں نماز حلال نہیں ہوتی، اور وہ دوسری فجر جس میں نماز حلال ہے اور کھانا اور پینا حرام ہے اور یہ وہی ہے جو پہاڑوں کے سروں پر پھیلتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
349. -- باب: آخر وقت الاختيار لصلاة الصبح
-- باب: نمازِ صبح کے آخری وقتِ اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1769
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ فَقَالَ:" أَشَهِدْتَ الصَّلَاةَ أَمْسِ وَالْيَوْمَ؟"، وَقَالَ: نَعَمْ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ" وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ فِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحَصِيبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صبح کی نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ جب اگلی صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مؤخر کیا یہاں تک کہ (سویرا) روشن ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اقامت کہے، انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا: ”تو آج اور کل نماز کے ساتھ حاضر ہوا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور اس کے درمیان (نماز کا) وقت ہے۔“
اسی معنی کی روایت سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1769]
اسی معنی کی روایت سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 642»
الحكم على الحديث: صحيح