السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
344. -- باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما
-- باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1752
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ" وَلَا تُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانُوا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةُ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ شَفَقُ اللَّيْلِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَمَنْ قَالَ: بِالْقَوْلِ الثَّانِي احْتَجَّ.
زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ نماز! بچے اور عورتیں سو گئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا۔“ ان دنوں یہ نماز صرف مدینہ ہی میں پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1544»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1753
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا تَمْتَامٌ ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثنا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" وَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔“
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1753]
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1612»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ ⦗٥٥١⦘ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: هَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ" أَخَّرَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ:" النَّاسُ قَدْ صَلُّوا وَرَقَدُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ" فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنائی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخر کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔“ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5531»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا قُرَّةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ثنا قُرَّةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" نَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى قَالَ: فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ حَلْقَةُ فِضَّةٍ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا یہاں تک کہ تقریباً نصف رات ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نماز پڑھائی۔ گویا میں چاندی کے حلقے کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نصف رات گزر گئی اور باقی اسی کے ہم معنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ثنا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ: هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ" قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَوَصَفَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کو مؤخر کر دیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1756]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ.
ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے متعلق سوال کیا۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے، صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بائیں چھوٹی انگلی اٹھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 640»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ:" إِنَّكُمْ ⦗٥٥٢⦘ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" هَكَذَا رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَيْرُهُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ وَخَالَفَهُمْ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو نصف رات کے قریب تک مؤخر کیا، پھر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم نماز ہی میں رہے ہو جب تک تم اس کا انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا“ (راوی کہتا ہے: میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا) ”اور کام والے کے کام کا، تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان 1529»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1759
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْفَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ فَقَالَ:" صَلُّوا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَهَا أَمَا إِنَّكُمْ فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَكِبَرُ الْكَبِيرِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" وَفِي رِوَايَةِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا وَفِي رِوَايَةِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَكَانَ لَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَقَالَ مُعَاذٌ: قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ غُرَّةً فَقَالَ: أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ: إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ: إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ.
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے پاس آئے، وہ عشا کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم اس کا انتظار کر رہے ہو، یقیناً تم نماز میں رہے ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو۔ اگر مجھے ضعیف کے ضعف اور بوڑھے کے بڑھاپے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا: یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: نصف رات تک۔ ابو منہال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1759]
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا: یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: نصف رات تک۔ ابو منہال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو يعليٰ 1939»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا أَبُو مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتَ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءُ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ ⦗٥٥٣⦘ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحْسَبُ يَحْيَى يُرِيدُ أَنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّارِيخِ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا" رَوَاهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ ظہر کا اول وقت جس وقت سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت (نماز) عصر (کا وقت) ہو جائے اور عصر کا اول وقت جس وقت اس کا وقت داخل ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سورج زرد ہو جائے اور مغرب کا اول وقت جس وقت سورج غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سرخی غائب ہو جائے اور عشا کا اول وقت جس وقت سرخی غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت نصف رات ہو جائے اور فجر کا اول وقت جس وقت فجر طلوع ہو جائے اور اس کا آخری وقت جب سورج طلوع ہو جائے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔“
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے محمد بن فضیل کی اعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ والی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اعمش سے مجاہد ہی کے واسطے سے مروی ہے، اور سب لوگوں نے اسے اعمش سے مجاہد کے واسطے سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1760]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔“
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے محمد بن فضیل کی اعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ والی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اعمش سے مجاہد ہی کے واسطے سے مروی ہے، اور سب لوگوں نے اسے اعمش سے مجاہد کے واسطے سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 151»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّضْرِ ثنا مُعَاوِيَةُ عَنْ عَمْرٍو وَثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ:" إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا" فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ وَأَبُو زُبَيْدٍ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ.
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نماز کا اول اور آخری وقت ہے، پھر انہوں نے اس روایت کو بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 151»
الحكم على الحديث: صحيح