السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
533. -- باب: السجود على الكفين ومن كشف عنهما في السجود
-- باب: دونوں ہتھیلیوں پر سجدہ کرنے اور سجدے میں انہیں کھلا رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2673
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ وَضَعَ ⦗١٥٥⦘ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ، ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو آدمی سجدے کے لیے اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی ہتھیلیاں بھی زمین پر رکھے، پھر جب اٹھائے تو دونوں کو اکٹھے اٹھائے؛ کیونکہ ہاتھ بھی اسی طرح سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ (پیشانی) سجدہ کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 2639»
الحكم على الحديث: صحيح
534. -- باب: من سجد عليهما في ثوبه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے کپڑے کے اندر ان دونوں (ہتھیلیوں) پر سجدہ کیا
حدیث نمبر: Q2674
قَدْ مَضَى حَدِيثُ حَسَنٍ الْبَصْرِيِّ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُونَ وَأَيْدِيهِمْ فِي ثِيَابِهِمْ.
امام حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس حالت میں سجدہ کرتے تھے کہ ان کے ہاتھ ان کے کپڑوں کے اندر ہوتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2674]
حدیث نمبر: 2674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ سَعْدًا،" صَلَّى بِالنَّاسِ فِي مُسْتُقَةٍ يَدَاهُ فِيهَا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالْمُسْتُقَةُ: الْفَرْوُ الطَّوِيلُ الْكُمَّيْنِ. وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" كَانُوا يُصَلُّونَ فِي مَسَاتِقِهِمْ وَبَرَانِسِهِمْ وَطَيَالِسِهِمْ مَا يُخْرِجُونَ أَيْدِيَهُمْ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ، فِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ الضَّعْفِ.
حکم سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کے ہاتھ آستینوں میں تھے۔
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «المُسْتَقَةُ» سے مراد لمبے آستینوں والا کپڑا ہے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے لمبے آستینوں والے کپڑوں، چادروں اور بڑی بڑی شالوں (سبز رنگ کی چادر جو عموماً مشائخ رکھتے ہیں) میں نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند میں کچھ ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2674]
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «المُسْتَقَةُ» سے مراد لمبے آستینوں والا کپڑا ہے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے لمبے آستینوں والے کپڑوں، چادروں اور بڑی بڑی شالوں (سبز رنگ کی چادر جو عموماً مشائخ رکھتے ہیں) میں نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند میں کچھ ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2675
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ صَامِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مُلْتَفٌّ بِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ يَقِيهِ بَرْدَ الْحَصَا" وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ثابت بن صامت اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عبد الاشہل کی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک چادر تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوڑھ رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اس کے اوپر رکھے ہوئے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچ رہے تھے۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2675]
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ماجه 1032»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2676
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ ⦗١٥٦⦘ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي كِسَاءٍ أَبْيَضَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ يَتَّقِي بِالْكِسَاءِ بَرْدَ الْأَرْضِ بِيَدِهِ وَرِجْلِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید چادر میں سردی کی صبح کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اس چادر کے ذریعے زمین کی سردی سے اپنے ہاتھ اور ٹانگوں کو بچاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
535. -- باب: لا يكف ثوبا ولا شعرا ولا يصلي عاقصا شعرا
-- باب: نماز میں نہ کپڑے سمیٹے جائیں اور نہ بال، اور نہ ہی کوئی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا يَكُفَّ ثَوْبًا، وَلَا شَعْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سات ہڈیوں یعنی سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ کوئی اپنے کپڑوں اور بالوں کو دورانِ نماز نہ سمیٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2640»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2678
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَلَى سَبْعٍ وَأَنْ لَا يَكُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعْرًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
ایک دوسری سند سے بھی اسی جیسی حدیث منقول ہے مگر اس میں «سَبْعَةِ أَعْظُمٍ» کی جگہ «عَلَى سَبْعٍ» کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2679
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنے سر کے بالوں کو پچھلی طرف اکٹھا کر کے باندھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور ان کے بالوں کو کھولنا شروع کر دیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا سروکار؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی «مَكْتُوفٌ» ”مشکیں بندھے ہوئے“ نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 492»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2680
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ⦗١٥٧⦘ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ يُصَلِّي قَائِمًا قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَيْهِ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهُمَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرِزَ ضَفْرَتَيْهِ" لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ:" هِيَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ" وَرُوِّينَا فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
(ا) سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرتے دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور آپ نے زلفوں کی مینڈھیاں بنا کر گردن کے پیچھے ڈال رکھی تھیں۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے وہ مینڈھیاں کھول دیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں ان کی طرف مڑے تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نماز جاری رکھو اور غصہ نہ کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”یہ بالوں کی مینڈھیاں شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہیں“ یعنی مینڈھیوں کا جوڑا بنانا منع ہے۔
(ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے“۔
(ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں سیدنا عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی روایات گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2680]
(ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے“۔
(ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں سیدنا عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی روایات گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 2991»
الحكم على الحديث: ضعيف
536. -- باب: الذكر في السجود
-- باب: سجدے کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: Q2681
وَقَدْ مَضَى فِيهِ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَرَّجُ فِي كِتَابِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ.
اور اس باب میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث گزر چکی ہے، جس کی تخریج امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2681]