السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
530. -- باب: ما جاء في السجود على الأنف
-- باب: ناک پر (بھی) سجدہ کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2655
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ وَأَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ أَنْفَكَ عَلَى الْأَرْضِ مَعَ جَبْهَتِكَ" وَفِي حَدِيثِ الصَّفَّارِ" ثُمَّ جَبْهَتَكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کے ساتھ ساتھ ناک بھی زمین پر رکھ۔“ صفار کی حدیث میں «مَعَ جَبْهَتِكَ» کی جگہ «ثُمَّ جَبْهَتِكَ» کے الفاظ ہیں یعنی ”پھر اپنی پیشانی رکھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2656
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ أَنْفَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أُمِرْتُمْ بِذَلِكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗١٥١⦘ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَعْ أَنْفَكَ لِيَسْجُدَ مَعَكَ" قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا أَصَحُّ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب بھی تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنی ناک کو زمین پر ضرور رکھے، کیونکہ تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
(ب) اسی طرح شریک نے یہ روایت سماک سے نقل کی ہے، وہ بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ناک کو زمین پر رکھ تاکہ تمہاری ناک بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرے۔“
(ج) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عکرمہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2656]
(ب) اسی طرح شریک نے یہ روایت سماک سے نقل کی ہے، وہ بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ناک کو زمین پر رکھ تاکہ تمہاری ناک بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرے۔“
(ج) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عکرمہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره تقدم في الذي قبله زياده صحيح هي۔»
الحكم على الحديث: حسن لغيره تقدم في الذي قبله زياده صحيح هي
531. -- باب: الكشف عن الجبهة في السجود
-- باب: سجدے میں پیشانی کو کھلا رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: Q2657
قَدْ مَضَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرِفَاعَةَ فِي السُّجُودِ عَلَى الْجَبْهَةِ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي سُجُودِهِ فِي الطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ.
پیشانی پر سجدہ کرنے کے حوالے سے سیدنا ابن عباس اور سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہم کی حدیث گزر چکی ہے۔
اور اسی طرح سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں ان کی پیشانی پر کیچڑ میں سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2657]
اور اسی طرح سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں ان کی پیشانی پر کیچڑ میں سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2657]
حدیث نمبر: 2657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ الرَّمْضَاءِ فِي جِبَاهِنَا وَأَكُفِّنَا فَلَمْ يُشْكِنَا".
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت دھوپ کی شکایت کی کہ ہماری پیشانی اور ہتھیلیاں جلتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت تسلیم نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد رواه مسلم من طريق آخر»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى فِي كَفِّي حَتَّى تَبْرُدَ وَأَضَعُهَا بِجَبْهَتِي إِذَا سَجَدْتُ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ جَازَ السُّجُودُ عَلَى ثَوْبٍ مُتَّصِلٍ بِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَسْهَلَ مِنْ تَبْرِيدِ الْحَصَا فِي الْكَفِّ وَوَضْعِهَا لِلسُّجُودِ عَلَيْهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا۔ میں اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر کنکریاں پکڑ لیا کرتا تھا، تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور میں انھیں اپنے سجدے کی جگہ پر رکھتا تھا تاکہ گرمی کی تپش سے بچتے ہوئے میں ان پر سجدہ کروں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایسے کپڑے پر جو ساتھ ملا ہوتا (پر) سجدہ کرنا جائز ہوتا تو یہ ہاتھوں میں کنکریاں ٹھنڈی کرنے سے اور اسی طرح ان کو مقام سجدہ پر رکھنے سے زیادہ آسان ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2658]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایسے کپڑے پر جو ساتھ ملا ہوتا (پر) سجدہ کرنا جائز ہوتا تو یہ ہاتھوں میں کنکریاں ٹھنڈی کرنے سے اور اسی طرح ان کو مقام سجدہ پر رکھنے سے زیادہ آسان ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 14098»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2659
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَيَوَانَ السَّبَائِيِّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى رَجُلًا يَسْجُدُ بِجَنْبِهِ وَقَدِ اعْتَمَّ عَلَى جَبْهَتِهِ فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ" ⦗١٥٢⦘ وَفِيمَا رَوَى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسْجُدُ عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ارْفَعْ عِمَامَتَكَ، وَأَوْمَأَ إِلَى جَبْهَتِهِ" وَهَذَا الْمُرْسَلُ شَاهِدٌ لِمُرْسَلٍ صَالِحٍ.
(ا) صالح بن خیوان سبائی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پہلو میں (یعنی اپنے برابر) سجدہ کرتے دیکھا، وہ اپنی پیشانی کو ڈھانپے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی کو کھول دیا۔
(ب) عیاض بن عبداللہ قرشی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پگڑی پر سجدہ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اپنے عمامہ کو پیچھے کرو“ اور آپ نے اس کی پیشانی کی طرف اشارہ کیا۔
یہ مرسل روایت صالح کی مرسل روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2659]
(ب) عیاض بن عبداللہ قرشی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پگڑی پر سجدہ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اپنے عمامہ کو پیچھے کرو“ اور آپ نے اس کی پیشانی کی طرف اشارہ کیا۔
یہ مرسل روایت صالح کی مرسل روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن وهب 391»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2660
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا هَنَّادٌ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلْيَحْسِرِ الْعِمَامَةَ عَنْ جَبْهَتِهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنی پیشانی سے پگڑی یا عمامہ وغیرہ کو پیچھے کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 2759»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا هَنَّادٌ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" إِذَا سَجَدَ وَعَلَيْهِ الْعِمَامَةُ يَرْفَعُهَا حَتَّى يَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ".
سیدنا عبیداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب سجدہ کرتے اور ان کے سر پر پگڑی ہوتی تو پگڑی کو پیچھے کر کے اپنی پیشانی زمین پر لگاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا هَنَّادٌ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَكَنِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ كَانَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَسَرَ الْعِمَامَةَ عَنْ جَبْهَتِهِ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی پیشانی سے پگڑی کو ہٹا کر پیچھے کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة»
الحكم على الحديث: ضعيف
532. -- باب: من بسط ثوبا فسجد عليه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کپڑا بچھایا اور اس پر سجدہ کیا
حدیث نمبر: 2663
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا" إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ طَرَحَ ثَوْبَهُ، ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے، جب گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم میں سے کسی کے لیے پیشانی زمین پر رکھنی ممکن نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2663]