السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
524. -- باب: كيف القيام من الركوع
-- باب: رکوع سے کھڑے ہونے (قومہ) کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ: قَالَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا" قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ بِنَا شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ: كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ اسْتَوَى جَالِسًا، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: قَدْ نَسِيَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ كِلَاهُمَا، عَنْ حَمَّادٍ.
ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھاؤں گا جس طرح آپ ہمیں پڑھاتے تھے۔ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثابت رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں جیسی نماز پڑھاتے تھے، تم ویسی نہیں پڑھتے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے رہتے حتیٰ کہ گمان ہونے لگتا کہ آپ بھول چکے ہیں اور جب سجدے سے اٹھ کر بیٹھتے تو بھی گمان ہوتا کہ شاید آپ بھول چکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 821»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ: (ح) وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّي فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ:" اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ" قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ كَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَمْرٍو وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
(ا) حکم فرماتے ہیں کہ ابن اشعث کے زمانے میں کوفہ پر ایک شخص غالب آ گیا (حکم نے اس کا نام بھی لیا)۔ اس نے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے ہوئے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لیے تعریف ہے جس سے آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق! جس کو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔“ حکم کہتے ہیں: میں نے یہ بات عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ”نماز میں قیام اور رکوع اور رکوع سے اٹھنے کے بعد اور سجدے اور سجدوں کے درمیان کا جلسہ، ان تمام حالتوں کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا تھا۔“
(ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمرو بن مرہ کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے پر اس کی نماز اس طرح نہیں تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2626]
(ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمرو بن مرہ کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے پر اس کی نماز اس طرح نہیں تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 820»
الحكم على الحديث: صحيح
525. -- باب: التكبير عند الهوي للسجود
-- باب: سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2627
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ ثُمَّ" يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا" ⦗١٤٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”سجدے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیر کہتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 803»
الحكم على الحديث: صحيح
526. -- باب: وضع الركبتين قبل اليدين
-- باب: (سجدے میں جاتے وقت) ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2628
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَجَدَ تَقَعُ رُكْبَتَاهُ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر ٹکتے (لگتے) اور جب اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھا لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الترمذي 268»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2629
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَالَ هَكَذَا بِثَوْبِهِ، وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَكَبَّرَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ وَقَعَتْ رُكْبَتَاهُ عَلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَا كَفَّاهُ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبِطَيْهِ" وَقَالَ هَمَّامٌ: وَثنا شَقِيقٌ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلَ هَذَا قَالَ: وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا قَالَ هَمَّامٌ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ فَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ.
(ا) عبدالجبار اپنے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر اپنے ہاتھ کپڑے میں لپیٹ لیتے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے۔ جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اس طرح کرتے، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کپڑے سے باہر نکالے، پھر رفع یدین کیا اور تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے کا ارادہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر لگ چکے ہوتے۔ جب سجدہ کرتے تو آپ کی پیشانی دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغلوں کو کشادہ رکھتے۔
(ب) ہمام کہتے ہیں: پھر جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں پر اٹھتے اور اپنی رانوں کا سہارا لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2629]
(ب) ہمام کہتے ہیں: پھر جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں پر اٹھتے اور اپنی رانوں کا سہارا لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 18362»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا شَقِيقٌ أَبُو اللَّيْثِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا سَجَدَ وَقَعَتْ رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ" قَالَ عَفَّانُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ قَالَ الشَّيْخُ:" هَذَا حَدِيثٌ يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ شَرِيكٍ الْقَاضِي، وَإِنَّمَا تَابَعَهُ هَمَّامٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مُرْسَلًا" هَكَذَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتَقَدِّمِينَ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى.
عاصم بن کلیب رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر ٹک چکے ہوتے تھے۔
عفان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ یہ حدیث قاضی شریک کے تفردات میں شمار ہوتی ہے، اور ہمام نے اس سند سے صرف مرسل طور پر ان کی متابعت کی ہے۔ امام بخاری اور دیگر متقدمین حفاظ رحمہم اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2630]
عفان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ یہ حدیث قاضی شریک کے تفردات میں شمار ہوتی ہے، اور ہمام نے اس سند سے صرف مرسل طور پر ان کی متابعت کی ہے۔ امام بخاری اور دیگر متقدمین حفاظ رحمہم اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2630]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2631
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا وَصَلَ إِلَى الْأَرْضِ رُكْبَتَاهُ".
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور سجدے میں جاتے وقت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے زمین پر لگے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارُ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ مَفْصِلٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ مَفْصِلٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ انْحَطَّ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى سَبَقَتْ رُكْبَتَاهُ يَدَيْهِ" تَفَرَّدَ بِهِ الْعَلَاءُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي وَضْعِ الرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ الْيَدَيْنِ مِنْ فِعْلِهِمَا.
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے تکبیر کہی تو اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں تک اٹھایا، پھر رکوع کیا حتیٰ کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہر جوڑ اپنی جگہ سیدھا ہو گیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں گئے حتیٰ کہ آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر لگے۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے عمل سے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے کا بیان۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علاء بن اسماعیل منفرد ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2632]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے عمل سے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے کا بیان۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علاء بن اسماعیل منفرد ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الدار قطني في سننه 7»
الحكم على الحديث: منكر
527. -- باب: من قال يضع يديه قبل ركبتيه
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ (سجدے میں جاتے وقت) گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھے
حدیث نمبر: 2633
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكُ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ، ثُمَّ رُكْبَتَيْهِ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ غَيْرُهُمَا، عَنْ سَعِيدِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے پھر اپنے گھٹنے۔“
(ب) ابوداؤد کی روایت ہے کہ مجھے محمد بن عبداللہ بن حسن نے خبر دی کہ ”اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے رکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2633]
(ب) ابوداؤد کی روایت ہے کہ مجھے محمد بن عبداللہ بن حسن نے خبر دی کہ ”اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے رکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 8732»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2634
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ" كَذَا قَالَ: عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا كَانَ دَلِيلًا عَلَى أَنَّهُ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ عِنْدَ الْإِهْوَاءِ إِلَى السُّجُودِ (ح) .
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرنے لگے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے۔“
(ب) انہوں نے «عَلَى رُكْبَتَيْهِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ اگر یہ روایت درست ہو تو یہ دلیل ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2634]
(ب) انہوں نے «عَلَى رُكْبَتَيْهِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ اگر یہ روایت درست ہو تو یہ دلیل ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح