السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
577. -- باب: مبتدأ فرض التشهد
-- باب: تشہد کے فرض ہونے کی ابتداء کا بیان
حدیث نمبر: 2819
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ إِمْلَاءً ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ السَّلَامُ عَلَى جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا هَكَذَا فَإِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم تشہد کی فرضیت سے پہلے کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ» ”اللہ پر سلام ہو، جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے۔ یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ”ہر قسم کی عبادتیں، نمازیں اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ہوں اور ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““
علی (بن عمر دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2819]
علی (بن عمر دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2820
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا، قَالُوا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ⦗١٩٩⦘ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ.
ابو معمر عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں تھا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے: «اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ یہ اس وقت تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ» ”نبی پر سلام ہو“ کہنے لگے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وله شاهد قوي عند عبدالرزاق فتح الباري 831»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا: وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ فَوَقَفَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَدَّهُ إِلَى حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُنَّا نَقُولُهَا فِي حَيَاتِهِ، فَلَمَّا مَاتَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ يَرَى رِوَايَةَ سَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ هِيَ الْمَحْفُوظَةَ دُونَ رِوَايَةِ أَبِي بِشْرٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ كَذَا إِلَّا أَنَّهُ أَخَّرَ قَوْلَهُ لِلَّهِ، وَزَادَ فِي الْأَصْلِ وَبَرَكَاتُهُ وَرُوِيَ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مُخْتَصَرًا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تمام قولی بدنی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت بھی۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ کیا۔ ”ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس میں «وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ» کا اضافہ کیا ”اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ب) ابن ابی عدی نے یہ روایت شعبہ سے نقل کی ہے۔ انہوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت ہو۔“ جب آپ فوت ہو گئے تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”نبی پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔“ کہنے لگ گئے۔
ایک دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اس میں «لِلّٰهِ» مؤخر ہے، یعنی «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے اور اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ بھی ہے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سیف عن مجاہد عن ابی معمر عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو محفوظ سمجھتے تھے، نہ کہ ابوبشر کی روایت کو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2821]
(ب) ابن ابی عدی نے یہ روایت شعبہ سے نقل کی ہے۔ انہوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت ہو۔“ جب آپ فوت ہو گئے تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”نبی پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔“ کہنے لگ گئے۔
ایک دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اس میں «لِلّٰهِ» مؤخر ہے، یعنی «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے اور اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ بھی ہے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سیف عن مجاہد عن ابی معمر عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو محفوظ سمجھتے تھے، نہ کہ ابوبشر کی روایت کو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال الدار قطني هذا اسناد صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2822
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ فِي آخِرِ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ" فَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ وَرَوَاهُ الْقَعْنَبِيُّ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام اپنی نماز کی آخری رکعت میں قعدہ کی حالت میں (بیٹھا) ہو اور تشہد پڑھنے سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔“
یہ حدیث ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2822]
یہ حدیث ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2823
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيَّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ⦗٢٠٠⦘ وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ" وَهَكَذَا رَوَاهُ الْعَدَنِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْهُمَا إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ:" ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ" رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ وَزَادَ فِيهِ وَقَضَى فِيهِ تَشَهُّدَهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ وَهُوَ بِعِلَلِهِ مَذْكُورٌ فِي كِتَابِ الْخِلَافِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی نماز کے آخر میں (آخری) سجدے سے سر اٹھانے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز ہو گئی۔“
عبدالرحمن بن زیاد سے روایت ہے کہ جب امام (آخری قعدہ میں) بیٹھ جائے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
اسی روایت کو معاذ بن حکم نے عبدالرحمن بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ «وَقَضَىٰ فِيهِ تَشَهُّدَهُ» ”کہ اس میں تشہد مکمل کر چکا ہو۔“
عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہیں، انہیں یحییٰ القطان، عبدالرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت میں ان پر اختلاف بھی کیا گیا ہے اور یہ اپنی علتوں سمیت کتاب الخلاف میں مذکور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2823]
عبدالرحمن بن زیاد سے روایت ہے کہ جب امام (آخری قعدہ میں) بیٹھ جائے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
اسی روایت کو معاذ بن حکم نے عبدالرحمن بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ «وَقَضَىٰ فِيهِ تَشَهُّدَهُ» ”کہ اس میں تشہد مکمل کر چکا ہو۔“
عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہیں، انہیں یحییٰ القطان، عبدالرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت میں ان پر اختلاف بھی کیا گیا ہے اور یہ اپنی علتوں سمیت کتاب الخلاف میں مذکور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا أَبَا النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ" لَا صَلَاةَ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ" فَالَّذِي رُوِيَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ مِنْ قَوْلِهِ إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ لَا يَصِحُّ، وَعَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
(ا) حملہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جو قول منقول ہے کہ جب وہ تشہد کی مقدار بیٹھ جائے، پھر بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی، وہ صحیح نہیں ہے اور عاصم بن ضمرہ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2824]
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جو قول منقول ہے کہ جب وہ تشہد کی مقدار بیٹھ جائے، پھر بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی، وہ صحیح نہیں ہے اور عاصم بن ضمرہ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2825
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ مَنْ تَرَكَ التَّشَهُّدَ، فَقَالَ:" يُعِيدُ" قُلْتُ فَحَدِيثُ عَلِيٍّ مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، فَقَالَ:" لَا يَصِحُّ".
علی بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو تشہد نہیں پڑھتا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نماز لوٹائے۔“ میں نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یعنی «مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ» ”جو تشہد کی مقدار بیٹھا“ تو انہوں نے کہا: ”وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
578. -- باب: التشهد الذي علمه رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن عمه عبد الله بن عباس رضي الله عنه وأقرانه، ولا شك في كونه بعد التشهد الذي علمه ابن مسعود رضي الله عنه وأضرابه
-- باب: اس تشہد کا بیان جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے ہم عصروں کو سکھایا، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس تشہد کے بعد کا ہے جو آپ ﷺ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان جیسے دیگر صحابہ کو سکھایا تھا
حدیث نمبر: 2826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ بِمِصْرَ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ ⦗٢٠١⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو عِمْرَانَ الْبَزَّارُ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، وَكَانَ يَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَقَالَ فِي لَفْظِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ: كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُخْتَصَرًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے جس طرح قرآن سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”تمام بابرکت اعمال، نمازیں اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیکوکار بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“
قتیبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: «كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ”جس طرح ہمیں قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2826]
قتیبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: «كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ”جس طرح ہمیں قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 2665»
الحكم على الحديث: صحيح
579. -- باب: الدليل على أنه لا يبدأ بشيء قبل كلمة التحية
-- باب: اس بات کی دلیل کہ التحیات کے کلمات سے پہلے کسی چیز سے ابتدا نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2827
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، صَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَعَدَ قَالَ رَجُلٌ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو مُوسَى قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قَائِلُهَا، قُلْتُ: وَاللهِ مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا قَائِلُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" أَمَا تَدْرُونَ كَيْفَ تُصَلُّونَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا، وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يُكَبِّرُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ ⦗٢٠٢⦘ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقُعُودِ فَلْيَقُلْ أَوَّلَ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ:" التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حطان بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ (نماز کے آخر میں) بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ تمام لوگ خاموش رہے۔ انھوں نے پھر دریافت کیا کہ یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ تو خود ہی کہنے لگے: اے حطان! شاید تم نے یہ کلمات کہے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ کلمہ نہیں کہا، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھے اس وجہ سے سزا نہ دیں۔ تب ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یہ کلمات میں نے کہے ہیں اور میری نیت درست تھی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم کس طرح نماز پڑھتے ہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا، ہمیں وضاحت سے سنت کی تعلیم دی اور ہمیں نماز سکھائی اور فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کرلو۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب امام تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے تکبیر کہے اور تم سے پہلے اٹھے۔ پس یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، جب وہ بیٹھے تو سب سے پہلے یہ کہے: «التَّحِیَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاکِيَاتُ لِلّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَيُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکاتُہٗ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِينَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُولُہٗ» ”تمام قولی، مالی اور بہترین عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلامتی ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 19017، 19098، 19130۔ ابوداود 972۔ مسلم 404»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لِي: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا، قُلْتُ: مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعِ اللهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَلَيْسَ فِيمَا رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
(ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز میں بیٹھے تو ایک آدمی نے کہا: ”نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔“ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ سب لوگ خاموش ہو گئے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے حطان! لگتا ہے تم نے کہے ہیں، میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں کہے اور میں ڈر گیا کہ کہیں آپ مجھے اس کی وجہ سے سزا نہ دیں، پھر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنتیں سکھائیں اور ہمارے لیے نماز کی تعلیم فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امامت کروائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو؛ کیونکہ امام رکوع بھی تم سے پہلے کرتا ہے اور اٹھتا بھی تم سے پہلے ہے، یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت وہ رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ کہلوایا ہے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ۔ جب وہ تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ اس کا بدل ہے، جب وہ آخر میں ہو تو تم میں سب سے پہلے امام کہے: «التَّحِيَّاتُ» ... ”تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“”
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2828]
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح