السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
581. -- باب: من قدم كلمتي الشهادة على كلمتي التسليم
-- باب: اس قول کا بیان جس نے شہادت کے دونوں کلموں کو سلام کے دونوں کلموں پر مقدم کیا ہے
حدیث نمبر: 2839
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُّدَ فَقَالَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ مَعْمَرٌ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يَأْخُذُ بِهِ وَيَقُولُ: عَلَّمَهُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ لَا يُنْكِرُونَهُ قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَنَا آخُذُ بِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقْدِيمُ كَلِمَتَيِ الشَّهَادَةِ.
(ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں کو تشہد سکھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ، الزَّاكِيَاتُ لِلّٰهِ، الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں کو تشہد سکھلا رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کی کسی بات کا انکار نہیں کر رہے تھے۔ زہری اسی پر عمل کرتے تھے، اور معمر کہتے ہیں: میں بھی اسی پر عمل کرتا ہوں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں شہادت کے کلمات، سلام سے مقدم ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2839]
(ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں کو تشہد سکھلا رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کی کسی بات کا انکار نہیں کر رہے تھے۔ زہری اسی پر عمل کرتے تھے، اور معمر کہتے ہیں: میں بھی اسی پر عمل کرتا ہوں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں شہادت کے کلمات، سلام سے مقدم ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2839]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2840
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَتْ:" التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
زوجہ رسول ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ آپ جب تشہد میں بیٹھتی تھیں تو یہ پڑھتی تھیں: «التَّحِيَّاتُ...» ”تمام قولی، مالی اور بدنی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اس کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، سلام ہو تم پر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2841
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقْدِيمَ كَلِمَتَيِ التَّسْلِيمِ.
ایک اور سند سے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے مگر اس میں «وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ» کا ذکر نہیں ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سلام کے کلمات کو مقدم کرنے کی روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2841]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سلام کے کلمات کو مقدم کرنے کی روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ وَتُشِيرُ بِيَدِهَا تَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَدْعُو الْإِنْسَانُ لِنَفْسِهِ بَعْدُ" وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیں تشہد سکھایا کرتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہتی تھیں: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، مالی، فعلی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر فرماتی: ”اس کے بعد اپنے لیے دعا مانگو۔“
یہ روایت محمد بن صالح بن دینار کے واسطے سے قاسم بن محمد سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
یہ روایت محمد بن صالح بن دینار کے واسطے سے قاسم بن محمد سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2843
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: عَلَّمَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: هَذَا تَشَهُّدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ: مُحَمَّدٌ: قُلْتُ بِسْمِ اللهِ، فَقَالَ الْقَاسِمُ: بِسْمِ اللهِ كُلَّ سَاعَةٍ.
قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشہد: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات سب کی سب کا سزاوار اللہ ہے، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: «بِسْمِ اللَّهِ» ؟ تو قاسم رحمہ اللہ نے کہا کہ «بِسْمِ اللَّهِ» تو ہر وقت ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2843]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
582. -- باب: التوسع في الأخذ بجميع ما روينا في التشهد مسندا وموقوفا، واختيار المسند الزائد على غيره
-- باب: تشہد کے بارے میں مروی تمام مسند اور موقوف روایات پر عمل کرنے میں وسعت، اور اس مسند روایت کو اختیار کرنے کا بیان جس میں دیگر کے مقابلے میں زیادتی ہے
حدیث نمبر: 2844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ فَذَكَرَ حَدِيثَ عُمَرَ فِي التَّشَهُّدِ كَمَا مَضَى، ثُمَّ قَالَ:" فَكَانَ هَذَا الَّذِي عَلَّمَنَا مَنْ سَبَقَنَا بِالْعِلْمِ مِنْ فُقَهَائِنَا صِغَارًا، ثُمَّ سَمِعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ وَسَمِعْنَا مَا خَالَفَهُ فَكَانَ الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّ عُمَرَ لَا يُعَلِّمُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى مَا عَلَّمَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ حَدِيثِ أَصْحَابِنَا حَدِيثٌ نُثْبِتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِرْنَا إِلَيْهِ وَكَانَ أَوْلَى بِنَا فَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ فِي ذَلِكَ فَإِنَّا نَرَى الرِّوَايَةَ قَدِ اخْتَلَفَتْ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَ هَذَا، وَرَوَى أَبُو مُوسَى، وَجَابِرٌ وَقَدْ يُخَالِفُ بَعْضُهَا بَعْضًا فِي شَيْءٍ مِنْ لَفْظِهِ، ثُمَّ عَلَّمَهُ عُمَرُ خِلَافَ هَذَا كُلِّهِ فِي بَعْضِ لَفْظِهِ، وَكَذَلِكَ تَشَهُّدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ يَزِيدُ بَعْضُهُمُ الشَّيْءَ عَلَى بَعْضٍ" ⦗٢٠٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَقُلْتُ الْأَمْرُ فِي هَذَا بَيِّنٌ، كُلُّ كَلَامٍ أُرِيدَ بِهِ تَعْظِيمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَعَلَّمَهُمُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَحْفَظُهُ أَحَدُهُمْ عَلَى لَفْظِهِ، وَيَحْفَظُهُ الْآخَرُ عَلَى لَفْظٍ يُخَالِفُهُ، لَا يَخْتَلِفَانِ فِي مَعْنًى فَلَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ كَمَا حَفِظَ إِذَا كَانَ لَا مَعْنَى فِيهِ يُحِيلُ شَيْئًا عَنْ حُكْمِهِ، وَاسْتُدِلَّ عَلَى ذَلِكَ بِحَدِيثِ حُرُوفِ الْقُرْآنِ".
(ا) امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تشہد والی حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ ہے وہ تشہد جو ہمیں ہمارے ان فقہاء نے بچپن میں سکھایا جو علم میں ہم سے سبقت لے گئے تھے۔ پھر ہم نے یہ تشہد سند کے ساتھ سنا اور اس کے مخالف بھی سنا۔ ہماری رائے یہ تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے درمیان منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں کو وہی سکھاتے ہوں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سکھایا۔ پھر جب ہمارے اصحاب کی طرف سے ہمارے پاس ایک ایسی حدیث پہنچی جسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سمجھتے ہیں تو ہم نے اسی کو اختیار کر لیا اور وہ ہمارے لیے زیادہ بہتر تھی۔ پھر انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے اس بارے میں گفتگو کرنے والے ایک شخص نے کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے نقل کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی اختلاف کیا گیا ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف روایت کیا اور ابوموسیٰ اور جابر رضی اللہ عنہما نے بھی روایت کیا، اور ان کی روایات میں آپس میں کچھ اختلاف ہے۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف سکھایا۔ یہ سب اصل میں لفظی اختلاف ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تشہد ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے پر اضافہ کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس سے عظمتِ الٰہی مراد لی جائے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سکھائی تو ان میں سے کسی نے ایک لفظ کے ساتھ یاد کرلی اور کسی نے دوسرے لفظ سے یاد کرلی۔ لفظ مختلف ہیں مگر معنی ایک ہی ہے۔
شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو اجازت دی ہو کہ جس نے جس طرح یاد کیا ہو اس کے لیے اسی طرح جائز ہے جبکہ معنی نہ بدلتا ہو اور اس کا حکم بدل نہ جائے اور انھوں نے اس پر حروف القرآن والی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2844]
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف سکھایا۔ یہ سب اصل میں لفظی اختلاف ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تشہد ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے پر اضافہ کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس سے عظمتِ الٰہی مراد لی جائے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سکھائی تو ان میں سے کسی نے ایک لفظ کے ساتھ یاد کرلی اور کسی نے دوسرے لفظ سے یاد کرلی۔ لفظ مختلف ہیں مگر معنی ایک ہی ہے۔
شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو اجازت دی ہو کہ جس نے جس طرح یاد کیا ہو اس کے لیے اسی طرح جائز ہے جبکہ معنی نہ بدلتا ہو اور اس کا حکم بدل نہ جائے اور انھوں نے اس پر حروف القرآن والی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قد تقدم اسناده في 2838»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2845
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ" ثُمَّ قَالَ لِي:" اقْرَأْ" فَقَرَأْتُ فَقَالَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَإِذَا كَانَ اللهُ بِرَأْفَتِهِ بِخَلْقِهِ أَنْزَلَ كِتَابَهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ مَعْرِفَةً مِنْهُ بِأَنَّ الْحِفْظَ قَدْ نَزَلَ لِيَجْعَلَ لَهُمْ قِرَاءَتَهُ، وَإِنِ اخْتَلَفَ لَفْظُهُمْ فِيهِ، كَانَ مَا سِوَى كِتَابِ اللهِ أَوْلَى أَنْ يَجُوزَ فِيهِ اخْتِلَافُ اللَّفْظِ مَا لَمْ يَخِلَّ مَعْنَاهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعْمِدَ أَنْ يَكُفَّ عَنْ قِرَاءَةِ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا بِنِسْيَانٍ، وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ وَفِي جَمِيعِ الذِّكْرِ أَخَفُّ وَقَالَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ: كَيْفَ صِرْتَ إِلَى اخْتِيَارِ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّشَهُّدِ دُونَ غَيْرِهِ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لَمَّا رَأَيْتُهُ وَاسِعًا وَسَمِعْتُهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَحِيحًا كَانَ عِنْدِي أَجْمَعَ وَأَكْثَرَ لَفْظًا مِنْ غَيْرِهِ فَأَخَذْتُ بِهِ غَيْرَ مُعَنِّفٍ لِمَنْ أَخَذَ بِغَيْرِهِ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.
(ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ سورہ الفرقان کی تلاوت اس طرح کر رہے تھے جس طرح میں اسے نہیں پڑھتا تھا۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورت پڑھائی تھی، میں دورانِ نماز ہی ان پر غصہ ہونے لگا، لیکن میں نے تلاوت مکمل ہونے تک مہلت دی۔
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورہ الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”پڑھ“ تو انہوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”یہ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءتوں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کر رہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کر دیا تاکہ حفظ میں سہولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے، جب تک اس کا معنی متاثر نہ ہو۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کے کسی حرف کی قراءت سے رک جائے، سوائے بھول کے۔ تشہد اور باقی تمام اذکار میں یہ معاملہ زیادہ ہلکا ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو پسند کر لیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کسی دوسری روایت کو اختیار کرنے والے پر سختی نہیں کرتا۔
(ہ) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی احادیث ثابت ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2845]
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورہ الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”پڑھ“ تو انہوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”یہ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءتوں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کر رہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کر دیا تاکہ حفظ میں سہولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے، جب تک اس کا معنی متاثر نہ ہو۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کے کسی حرف کی قراءت سے رک جائے، سوائے بھول کے۔ تشہد اور باقی تمام اذکار میں یہ معاملہ زیادہ ہلکا ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو پسند کر لیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کسی دوسری روایت کو اختیار کرنے والے پر سختی نہیں کرتا۔
(ہ) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی احادیث ثابت ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2419»
الحكم على الحديث: صحيح
583. -- باب: السنة في إخفاء التشهد
-- باب: تشہد کو آہستہ پڑھنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 2846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ" وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تشہد کو آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 986»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2847
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا، ثنا سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبُخَارِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ:" مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”تشہد کو آہستہ پڑھنا سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
584. -- باب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في التشهد
-- باب: تشہد میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2848
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ، هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے تو ہم کیسے آپ پر درود پڑھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ہم نے سوچا کہ بشیر بن سعد آپ سے نہ ہی سوال کرتے تو اچھا ہوتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت بھیج اور ان کی آل پر جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکتوں کا نزول فرما اور ان کی آل پر رحمت بھیج جس طرح تو نے تمام جہانوں میں ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کی ہیں۔ بیشک تو تعریفوں والا بزرگی والا ہے۔““ پھر فرمایا: ”اور سلام تو تم جانتے ہو۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں «كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ» کے الفاظ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2848]
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں «كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ» کے الفاظ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 120»
الحكم على الحديث: صحيح