🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
627. -- باب: دعاء القنوت
-- باب: دعائے قنوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ:" اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعَ مَنْ يَكْفُرُكَ" كَذَا قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا فَمَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ قُنُوتَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو رَافِعٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ وَهْبٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَفِي حُسْنِ سِيَاقِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ لِلْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى حِفْظِهِ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَقَالَ:" اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ:" إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ" يَعْنِي بِخَفْضِ الْحَاءِ.
سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہیں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے یہ پڑھتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَكْفُرُكَ» ”اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔ اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور بھلائی کے ساتھ تیری ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے آگے جھکتے ہیں اور جو تیرا انکار کرے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں۔“ انہوں نے اسی طرح رکوع سے پہلے کہا۔
اگرچہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے رکوع کے بعد قنوت پڑھنا روایت کیا ہے ان کی تعداد زیادہ ہے۔ اسے ابورافع، عبید بن عمیر، ابوعثمان نہدی اور زید بن وہب نے روایت کیا ہے، اور ایک سے زیادہ راوی ایک راوی کی نسبت حفظ کے زیادہ لائق ہیں اور عبید بن عمیر کے سیاق کلام کی خوبصورتی ان کے حفظ پر اور جس نے ان سے حفظ کیا پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی تو یہ دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ» ”اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔“
اور ابوعمرو بن علا کے واسطے سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ وہ دعائے قنوت میں پڑھتے تھے: «إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ» ”بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے“، یعنی حاء کے زیر کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
628. -- باب: رفع اليدين في القنوت
-- باب: قنوت میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ صَقْرِ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُوسَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ فِي سُوَيْقَةِ غَالِبٍ مِنْ كِتَابِهِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ وَقَتْلِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لِي أَنَسٌ: لَقَدْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، يَعْنِي عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء اور ان کی اندوہناک شہادت کے بارے میں منقول ہے کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب بھی صبح کی نماز ادا کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھا کر ان (قبائل کفار) پر بددعا کرتے یعنی ان لوگوں پر جنہوں نے قراء صحابہ رضی اللہ عنہم کو شہید کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 3/ 137»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3146
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَيْخٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ زَعَمُوا أَنَّهُ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ بَيَّاعِ الْأَنْمَاطِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ" رَفَعَهُ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ هَكَذَا وَوَقَفَهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ وَالْحَدِيثُ فِي الدُّعَاءِ جُمْلَةً إِلَّا أَنَّ عَدَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فِي الْقُنُوتِ مَعَ مَا رُوِّينَاهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ شرم و حیا والا اور سخی ہے۔ جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے انہیں خالی لوٹاتے ہوئے حیا آتی ہے۔“
اس حدیث کو جعفر بن میمون نے اسی طرح مرفوع بیان کیا ہے اور سلیمان تیمی نے دو روایتوں میں سے ایک کو ابوعثمان سے موقوف بیان کیا ہے۔ یہ حدیث صرف دعا کے بارے میں ہے۔ صحابہ کی کثیر تعداد نے قنوت میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے پاس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابو يعلي 1868۔ ابوداود 1488»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي عَلِيٍّ بَيَّاعِ الْأَنْمَاطِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ قَالَ:" رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمُدُّ يَدَيْهِ فِي الْقُنُوتِ".
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ قنوت میں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه البخاري في رفع اليدين 95، وسنده ضعيف»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ قَالَ:" كُنَّا نَجِيءُ وَعُمَرُ يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ يَقْنُتُ بِنَا بَعْدَ الرُّكُوعِ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ كَفَّاهُ وَيُخْرِجَ ضَبْعَيْهِ".
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھنے آیا کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کروا رہے ہوتے، پھر رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے، وہ اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کرتے کہ ان کی ہتھیلیاں نظر آنے لگتیں اور وہ اپنے بازوؤں کو پھیلا کر رکھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه البخاري في رفع اليدين 94»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3149
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَرَأَ ثَمَانِينَ آيَةً مِنَ الْبَقَرَةِ، وَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالدُّعَاءِ حَتَّى سُمِعَ مِنْ وَرَاءِ الْحَائِطِ".
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے ﴿سورة البقرة﴾ کی اسی آیات تلاوت کیں اور رکوع کے بعد قنوت کی اور اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ اونچی آواز سے دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ دیوار کے اس طرف آدمی سن لیتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3150
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَهَرَ بِالدُّعَاءِ" قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ وَهَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَّا مَسْحُ الْيَدَيْنِ بِالْوَجْهِ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ فَلَسْتُ أَحْفَظُهُ، عَنْ أَحَدٍ مِنَ ⦗٣٠١⦘ السَّلَفِ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ وَإِنْ كَانَ يُرْوى عَنْ بَعْضِهِمْ فِي الدُّعَاءِ خَارِجَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَهُوَ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ بَعْضِهِمْ خَارِجَ الصَّلَاةِ، وَأَمَّا فِي الصَّلَاةِ فَهُوَ عَمَلٌ لَمْ يَثْبُتَ بِخَبَرٍ صَحِيحٍ وَلَا أَثَرٍ ثَابِتٍ وَلَا قِيَاسٍ، فَالْأُولَى أَنْ لَا يَفْعَلَهُ وَيَقْتَصِرَ عَلَى مَا فَعَلَهُ السَّلَفُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، مِنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ دُونَ مَسْحِهِمَا بِالْوَجْهِ فِي الصَّلَاةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ابورافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے دعا کی۔
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے مگر وہ سند ضعیف ہے، اور قنوتِ وتر کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دعا سے فارغ ہوتے وقت جو چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا مسئلہ ہے، یہ دعائے قنوت میں میں نے سلف میں سے کسی سے بھی یاد نہیں کیا، اگرچہ یہ بعض حضرات سے نماز کے علاوہ دعا میں روایت بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایک ضعیف حدیث منقول ہے اور یہ بعض لوگوں کا نماز سے باہر کا عمل بھی ہے۔ رہا نماز کے اندر منہ پر ہاتھ پھیرنا تو یہ عمل نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے، نہ کسی ثابت اثر سے اور نہ قیاس سے، لہٰذا زیادہ بہتر یہ ہے کہ یہ عمل نہ کیا جائے اور صرف اسی پر اکتفا کر لیا جائے جو سلف نے کیا ہے، یعنی صرف دعا میں ہاتھ اٹھائے جائیں۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3150]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3151
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ" قَالَ: أَبُو دَاوُدَ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے ہاتھ سیدھے پھیلا کر دعا کرو اور ہاتھوں کی پشت اوپر کر کے دعا نہ کرو۔ جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لو۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب قرظی سے مختلف واسطوں سے منقول ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ یہ سند بہتر ہے لیکن اس میں بھی ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3151]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 1485»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3152
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجَرَّاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الَّذِي إِذَا دَعَا مَسَحَ وَجْهَهُ قَالَ:" لَمْ أَجِدْ لَهُ ثَبْتًا" قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ أَرَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ" يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي الْوِتْرِ وَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ".
علی باشانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو دعا کرتے وقت اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس اس کا ثبوت نہیں ہے۔ علی کہتے ہیں: میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ رحمہ اللہ تو خود وتروں میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور اپنے ہاتھ بھی اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
629. -- باب: المأموم يؤمن على دعاء القنوت
-- باب: مقتدی کا دعائے قنوت پر آمین کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3153
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک نمازِ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہنے کے بعد قنوت پڑھتے رہے۔ آپ اس میں قبائل عرب میں سے بنو سلیم کے رعل، ذکوان اور عصیہ کے لیے بددعا کرتے اور مقتدی ”آمین“ کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: «قوي۔ اخرجه ابوداود 443، ومعني 3098»

الحكم على الحديث: قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں