🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
631. -- باب: الترغيب في حفظ وقت الصلاة والتشديد على من أضاعه
-- باب: نماز کے وقت کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور اسے ضائع کرنے والے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3163
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَهْرَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ قَوْلِهِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] قَالَ:" هُمُ الَّذِينَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ﴾ [سورة الماعون: 5] کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الطبري في تفسيره 12/ 706»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3164
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] قَالَ:" إِضَاعَةُ الْوَقْتِ" وَهَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا يَصِحُّ مَوْقُوفًا وَعِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ.
عکرمہ بن ابراہیم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] ”ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو نماز سے غفلت برتتے ہیں“ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وقت کا ضائع کر دینا ہے۔“
یہ حدیث صرف موقوف ہی صحیح ہے، اور عکرمہ بن ابراہیم کو یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحُسَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا" قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ" قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ" قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي" ⦗٣٠٥⦘ هَكَذَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ولید بن عیزار بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا کام اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا کام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر میں اور پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بیان کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 504»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3166
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ مُطَرِّفٍ، ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِي قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللهُ مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَوَاتِهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" لَيْسَ فِي حَدِيثِ آدَمَ ذِكْرُ الْوِتْرِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ.
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ اور عبداللہ صنابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو محمد کا خیال یہ ہے کہ وتر واجب ہیں۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انہیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 1692»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَلِيسٍ لِمِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي تَأْخِيرُهُمُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، وَتَعْجِيلُهُمُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ خوف ہے وہ نماز کو اس کے وقت سے پہلے اور مؤخر کرکے پڑھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه البخاري في تاريخه 5/ 372»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3168
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَحْمَدُ قَالَ: ثنا الْأَشْعَثِيُّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا أَدْرِي أَيْشْ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا يُعْرَفُ حَالُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ مَضَتِ الْأَخْبَارُ فِي الْمَوَاقِيتِ، وَفِيهَا كِفَايَةٌ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ الْأَشْعَثِيِّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حَفْصٍ فَأَسْنَدَهُ.
(ا) اشعثی اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا یہ حدیث کیسی ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ وہ عبدالرحمن کے بارے میں نہیں جانتے۔ «وَاللّٰہُ أَعْلَمُ»
یقیناً نماز کے اوقات کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث: «منكر۔ سنده صحيح الي البخاري وهو في تاريخه 5/372»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عِصَامٍ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ایک دوسری سند سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسی جیسی روایت بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ قَالَ: تَعْنِي فِي خِدَمَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" ⦗٣٠٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: گھر کے کام کاج، یعنی اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کام کاج چھوڑ کر نماز کے لیے نکل پڑتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 644»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ حُصَيْنٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّئُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں قیام کی اجازت دے دیں؟“ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی۔۔۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا تمہاری روحوں کو روکے رکھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔“ پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قضائے حاجت کو نکل گئے، پھر انہوں نے وضو کیا اور سورج بلند ہوچکا تھا۔ پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 681»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَسِيرِهِمْ قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ:" احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا" فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ فَقُمْنَا فَزِعِينَ فَقَالَ:" ارْكَبُوا" فَسِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَاةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَاءِ، فَتَوَضَّأْنَا مِنْهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ نَادَى بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى صَّلَاةَ الْغَدَاةِ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا الَّذِي تَهْمِسُونَ دُونِي؟" فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ تَفْرِيطُنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ:" أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَسْتَيْقِظُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي لَأَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، حَدِّثْ أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ ⦗٣٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَقَالَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لِيُبَيِّنَ أَنَّ وَقْتَهَا لَمْ يَتَحَوَّلْ إِلَى مَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ صَلَّاهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، يَعْنِي صَلَاةَ الْغَدِ، وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَلَى الْوَهْمِ.
(ا) عبداللہ بن رباح نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے صحابہ کے سفر والی مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے تھوڑا ہٹ گئے، پھر اپنا سر مبارک رکھا (یعنی آرام کے لیے لیٹ گئے)، پھر فرمایا: ”ہماری نماز کا خیال رکھنا۔“ سب سے پہلے بیدار ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سورج بھی نکل چکا تھا۔ ہم بھی گھبرا کر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو سواریوں پر سوار ہو کر نکلو۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح روشن ہو گیا، پھر آپ نے وضو کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا۔ اس میں کچھ پانی تھا، پھر ہم سب نے اس سے وضو کیا۔ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پھر مؤذنِ رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز (فجر کی سنتیں) ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے۔ ہم میں سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہم نے جو نماز میں کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھ کر پوچھا: ”تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز میں ہماری کوتاہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟“ پھر فرمایا: ”نیند کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے سے کوتاہی نہیں ہوتی۔ کوتاہی تو اس شخص سے ہوتی ہے جو بیداری اور یادداشت میں نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اسے چاہیے کہ جب اٹھے تو اسی وقت پڑھ لے اور آئندہ وقت پر نماز ادا کرے۔“
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ارے نوجوان بھائی! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابونجید! آپ بیان کیجیے، آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے عرض کیا: انصار سے۔ انہوں نے فرمایا: تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو۔ میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جو اس طرح کرے تو جب اسے پتا چلے وہ نماز ادا کر لے، اور جب اگلا دن ہو تو اسے اس کے وقت پر ادا کرے۔“
(ج) اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ واضح کرنا تھا کہ اس نماز کا وقت سورج نکلنے کے بعد کی طرف منتقل نہیں ہوا، لہٰذا جب اگلا دن ہو تو (اگلے دن کی) نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
بعض علماء نے اسے عبداللہ بن رباح کا وہم قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 681»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں