🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
661. -- باب: ما لا يجوز من الكلام في الصلاة
-- باب: نماز میں جو کلام کرنا جائز نہیں اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3348
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السِّنْدِيَّ ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنَّنِي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الْأُولَى ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ بنی مصطلق میں) مجھے ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں کام پورا کر کے لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی، میں نے اپنے دل میں کہا: شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ اب میرے دل میں پہلے سے زیادہ خیال آیا، پھر میں نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا: ”سنو! میں نے اس لیے تمہارے سلام کا جواب نہ دیا کیونکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے، اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3348]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3349
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُوعَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ ⦗٣٥٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ ‍‍ قَالَ: فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ دَعَانِي فَبِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا سَبَّنِي قَالَ:" إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“۔ لوگ میری طرف گھورنے لگے۔ میں نے کہا: ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہو۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا، بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے اس میں باتیں وغیرہ کرنا جائز نہیں اس میں تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 537۔ ابوداود 930»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قِيلَ لِي: إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللهَ وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شَزْرٍ؟ قَالَ: فَسَبَّحُوا فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟" قِيلَ: هَذَا الْأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنَكَ" فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کے بہت سے احکام سکھائے، یعنی: ”جب تو چھینک مارے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہہ اور جب کوئی اور چھینک مارے، وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے اور تو «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہہ۔“ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک آدمی نے چھینک ماری، اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا تو میں نے اونچی آواز میں «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہا، لوگ میری طرف گھورنے لگے حتیٰ کہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ تمہیں کیا ہوا ہے، مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو پوچھا: ”کلام کرنے والا کون آدمی تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ دیہاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: ”نماز میں صرف تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی ہوتا ہے، لہٰذا جب تم نماز میں ہو تو صرف تلاوت اور ذکر ہی کیا کرو۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم کسی اور کو نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3350]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
662. -- باب: من تكلم جاهلا بتحريم الكلام
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کلام کے حرام ہونے سے ناواقفیت کی بنا پر کلام کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ قَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ قَالَ:" فَلَا يَأْتُوهُمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ" قَالَ: وَبَيَنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ قَالَ: فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ⦗٣٥٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، فَقَالَ:" إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ" وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ" وَإِنَّمَا قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَّا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”ہم لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نواز دیا ہے۔ ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ محض وہم ہے جو ان کے ذہنوں میں ہے۔ یہ فال وغیرہ انھیں (کسی کام کے کرنے سے) نہ روکے“۔
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والوں) کے پاس جاتے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہ جایا کریں“۔ انہوں نے پھر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں (اور ان سے فال لیتے ہیں)“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے صرف ایک نبی (حضرت ادریس علیہ السلام) خط کھینچتے تھے، لہٰذا جس کا خط ان کے موافق ہو تو وہ درست ہے“۔
فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک نمازی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، تو لوگ میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“۔
(ب) یہ حدیث دوسری سند سے بھی اسی طرح ہے مگر اس میں ان الفاظ «إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللّٰهُ بِالْإِسْلَامِ» ”بے شک ہم جاہلیت کے زمانے کے قریب تھے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام لے آیا“ کی جگہ یہ الفاظ ہیں: «قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَّا» ”کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: بے شک ہم میں سے کچھ لوگ“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله فهو حديث واحد مع اختلاف يسير»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا لِي أَرَاكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ يُصَمِّتُونِي، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَكِنَّهُ قَالَ لِي:" إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ الصَّلَاةُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَا ذَكَرَ الْأَوْزَاعِيُّ مِنَ التَّطَيُّرِ وَغَيْرِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يُحْكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِإِعَادَةٍ وَحُكِيَ أَنَّهُ تَكَلَّمَ وَهُوَ جَاهِلٌ بِذَلِكَ.
(ا) سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میرے پہلو میں کھڑے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں نے کہا: ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، میں نماز پڑھ رہا ہوں اور تم مجھے دیکھے جا رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ وہ مجھے خاموش کروانا چاہتے تھے (میں چپ ہو گیا)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، آپ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے نہ مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا درست نہیں، یہ صرف تسبیح، تحمید اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیونکہ اس نے نماز میں ناواقفیت سے کلام کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3352]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
663. -- باب: من سلم أو تكلم مخطئا أو ناسيا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے غلطی یا بھول کر سلام پھیرا یا کلام کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3353
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ أَوْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِأَصْحَابِهِ أَحَقٌّ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ ⦗٣٥٦⦘ السَّهْوِ قَالَ سَعْدٌ: وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ، فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَتَمَامُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ يَرِدُ فِي بَابِ السُّجُودِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز (بھول کر) دو رکعتیں پڑھائیں تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کیے۔ سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر لیا، پھر باتیں کیں اور باقی ماندہ (ایک رکعت) ادا کرنے کے بعد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
اس مسئلہ میں مکمل بحث سجدہ سہو کے باب میں آئے گی، ان شاء اللہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 468»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
664. -- باب: من بكى في صلاته فلم يظهر من صوته ما يكون كلاما له هجاء
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں رویا لیکن اس کی آواز سے کوئی ایسی بات ظاہر نہ ہوئی جس کے حروف تہجی بنتے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو (قراءت) نہ سنا پائیں گے۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو کثرتِ گریہ کے سبب لوگوں کو قراءت نہ سنا سکیں گے، آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے تم سے کوئی خیر نہیں پہنچی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 633»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مَقَالَتِهَا فَقَالَ:" أَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ.
(ا) حمزہ بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرات نہ سنا سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابوبکر سے کہیے وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ انہوں نے پھر اسی طرح بات کی جیسے پہلے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام کی عورتوں جیسی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“
(ب) صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب قرآن پڑھتے ہیں تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ثنا ⦗٣٥٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ".
مطرف اپنے والد عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے چکی چلنے جیسی آواز آرہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 904»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ.
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله۔ النساء 1214»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں