السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
670. -- باب: من قال يبني من سبقه الحدث على ما مضى من صلاته
-- باب: اس قول کا بیان کہ جس شخص کو حدث لاحق ہو جائے وہ اپنی بقیہ نماز کو گزشتہ نماز پر بنا کرے
حدیث نمبر: 3388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَرْعُفُ فَيَخْرُجُ فَيَغْسِلُ الدَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَبْنِي عَلَى مَا قَدْ صَلَّى".
امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جب نکسیر پھوٹتی تو نماز چھوڑ کر چلے جاتے اور خون دھو کر واپس آتے اور اسی پر بنا کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3388]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 78»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3389
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ رَأَى سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَرْعُفُ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَأْتِي حُجْرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَبَنَى عَلَى مَا قَدْ صَلَّى".
یزید بن عبداللہ بن قسیط رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو دیکھا کہ دورانِ نماز ان کی نکسیر چل پڑی تو وہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آئے، پانی والا برتن لایا گیا تو انہوں نے وضو کیا پھر نکلے اور اسی پر بنا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 79»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ:" يَرْجِعُ فَيَبْنِي عَلَى مَا قَدْ صَلَّى" يَعْنِي فِي الرُّعَافِ وَقَالَ عَطِيَّةُ: وَكَتَبَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ فَقَرَأَ عَلَيْنَا كِتَابَهُمَا بِذَلِكَ.
ابوادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر نماز میں نکسیر بہہ پڑے تو وہ واپس آ کر جتنی نماز پڑھ چکا ہے اسی پر بنا کرے۔ عطیہ کہتے ہیں: ابن عمر اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے امیہ بن خالد بن اسید کو اس بارے میں خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کا خط ہمیں پڑھ کر سنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3391
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً يَقُولُ:" يَنْصَرِفُ فَيَتَوَضَّأُ وَلَا يُكَلِّمُ أَحَدًا ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَبْنِي عَلَى مَا قَدْ صَلَّى" وَرُوِّينَاهُ عَنْ طَاوُسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَغَيْرِهِمَا.
ابو عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عطاء رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی نماز توڑ کر چلا جائے اور وضو کرے۔ اگر (اس دوران) کسی سے کلام نہ کیا ہو تو واپس پلٹ کر اسی پر بناء رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3391]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 572»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3392
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: قَالَ: أَبُو عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي وَاصِلٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" إِذَا صَرَفْتَ وَجْهَكَ عَنِ الْقِبْلَةِ فَأَعِدِ الصَّلَاةَ".
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب تو قبلے سے پھر جائے تو مکمل نماز کا اعادہ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3392]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اسناد حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3393
قَالَ: وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ:" إِذَا صَرَفْتَ وَجْهَكَ عَنِ الْقِبْلَةِ، فَأَعِدْ".
یزید بن ابی مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تو اپنا رخ قبلہ سے پھیر لے تو مکمل نماز کا اعادہ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3393]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3394
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْحَسَنِ مِثْلَ ذَلِكَ.
عمر بن عبدالعزیز اور حسن رحمہما اللہ سے اسی طرح کی روایت ایک دوسری سند سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3395
قَالَ الْوَلِيدُ: وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" يَسْتَأْنِفُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" أَحَبُّ الْأَقَاوِيلِ إِلَيَّ فِيهِ أَنَّهُ قَاطِعٌ لِلصَّلَاةِ وَهَذَا قَوْلُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ" قَالَ:" وَقَوْلُ الْمِسْوَرِ أَشْبَهُ بِقَوْلِ الْعَامَّةِ فِيمَنْ وَلَّى ظَهْرَهُ الْقِبْلَةَ عَامِدًا أَنَّهُ يَبْتَدِئُ" قَالَ:" وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فِي حَالٍ لَا يَحِلُّ لَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ مَا كَانَ بِهَا ثُمَّ يَبْنِي عَلَى صَلَاتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ" وَكَانَ فِي الْقَدِيمِ يَقُولُ:" يَبْنِي" وَقَالَ فِي الْإِمْلَاءِ:" لَوْلَا مَذْهَبُ الْفُقَهَاءِ لَرَأَيْتُ أَنَّ مَنْ تَحَرَّفَ عَنِ الْقِبْلَةِ لِرُعَافٍ أَوْ غَيْرِهِ فَعَلَيْهِ الِاسْتِئْنَافُ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الْآثَارِ إِلَّا التَّسْلِيمُ" قَالَ: ذَلِكَ بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَسَائِلَ أُخَرَ، وَقَدْ رَجَعَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى قَوْلِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نئے سرے سے نماز دوبارہ سے پڑھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک سب سے بہتر قول یہی ہے کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہ عام حضرات کے قول کے بہت زیادہ مشابہ ہے، اس بارے میں کہ جو جان بوجھ کر اپنی پیٹھ قبلہ سے پھیر لے وہ نئے سرے سے نماز شروع کرے گا۔
(ج) فرماتے ہیں: یہ بات جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت میں ہو جس میں نماز درست نہیں ہوتی، پھر اسی طرح اپنی نماز پر بنا رکھے۔
(د) ان کا قدیم قول اسی پر بنا کے بارے میں ہے۔
(ہ) وہ «الإِمْلَاءُ» میں کہتے ہیں کہ اگر فقہاء کے مذاہب نہ ہوتے تو میں یہ رائے دیتا کہ جو بھی قبلہ سے پھر جائے چاہے نکسیر بہنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، اس کے لیے نماز از سر نو شروع کرنا ضروری ہے، لیکن آثار میں صرف سلام آیا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ اس مسئلہ اور دوسرے مسائل کے بارے میں ہے اور تحقیق انہوں نے اپنے نئے قول میں مسور رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع بھی کر لیا ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3395]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک سب سے بہتر قول یہی ہے کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہ عام حضرات کے قول کے بہت زیادہ مشابہ ہے، اس بارے میں کہ جو جان بوجھ کر اپنی پیٹھ قبلہ سے پھیر لے وہ نئے سرے سے نماز شروع کرے گا۔
(ج) فرماتے ہیں: یہ بات جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت میں ہو جس میں نماز درست نہیں ہوتی، پھر اسی طرح اپنی نماز پر بنا رکھے۔
(د) ان کا قدیم قول اسی پر بنا کے بارے میں ہے۔
(ہ) وہ «الإِمْلَاءُ» میں کہتے ہیں کہ اگر فقہاء کے مذاہب نہ ہوتے تو میں یہ رائے دیتا کہ جو بھی قبلہ سے پھر جائے چاہے نکسیر بہنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، اس کے لیے نماز از سر نو شروع کرنا ضروری ہے، لیکن آثار میں صرف سلام آیا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ اس مسئلہ اور دوسرے مسائل کے بارے میں ہے اور تحقیق انہوں نے اپنے نئے قول میں مسور رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع بھی کر لیا ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
671. جماع أبواب ما يجوز من العمل في الصلاة -- باب: الإشارة برد السلام
نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ:" إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي" وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پایا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم نے مجھے ابھی ابھی سلام کہا تھا اور میں نماز میں تھا (اس لیے جواب نہیں دیا)“ اور آپ اس وقت مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 540»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3397
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ: هَكَذَا وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي: هَكَذَا وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الْأَرْضِ وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي" قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مَعَهُ: مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا اور آپ بنی مصطلق کی طرف گئے ہوئے تھے۔ میں جب (کام سے) واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا: میں نے پھر بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح اشارہ کیا اور زہیر نے بھی ایسے ہی اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سن رہا تھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے اور سر سے اشارہ بھی کر رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا کر آئے ہو؟ مجھے کلام سے مانع بات یہ تھی کہ میں نماز میں تھا۔“ زہیر کہتے ہیں اور ابو زبیر ان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر بیٹھے تھے تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یعنی اپنے ہاتھ کے ساتھ غیر قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح