🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
673. -- باب: من أشار بالرأس
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے سر سے اشارہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3408
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَكِّيٌّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْحَبَشَةِ أُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ" وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَأْخُذُ بِهِ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ.
محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حبشہ سے واپسی پر آیا تو میں آپ کو سلام کرنے گیا تو آپ کو نماز پڑھتے پایا، میں نے سلام کہہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا۔
یہی (روایت) محفوظ ہے اور یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3408]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ رجاله ثقات لكنه منقطع»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3409
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو يَعْلَى التُّوزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ مِنَ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ" تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التُّوزِيُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب حبشہ سے واپس آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر سے اشارہ کر کے جواب دیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو یعلیٰ محمد بن صلت توزی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
674. -- باب: من رأى أن يرد بعد الفراغ من الصلاة
-- باب: اس شخص کی رائے کا بیان جس نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد جواب دینا مناسب سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللهَ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ" فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں سلام اور ضرورت کی بات کر لیا کرتے تھے۔ میں (حبشہ سے واپسی پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے، نیا حکم نازل فرما دیتا ہے، اب اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3410]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداؤد 928»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
675. -- باب: من لم ير التسليم على المصلي
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نمازی پر سلام کرنا درست نہیں سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3411
قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ دَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ مَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ.
ابو سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر میں کسی ایسی قوم کے پاس جاؤں جو نماز پڑھ رہی ہو تو میں انہیں سلام نہیں کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3411]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِيمَا أَرَى أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَتْغِرِيرُ الرَّجُلِ بِصَلَاتِهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، كَذَا فِي كِتَابِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى: أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، وَهَذَا اللَّفْظُ أَقْرَبُ إِلَى تَفْسِيرِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ يَعْنِي عَنْ أَبِي مَالِكٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اور سلام کا جواب دینے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔“
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلام کے متعلق غرار سے مراد یہ ہے کہ حالت نماز میں نہ تو کسی کو سلام کرے اور نہ کوئی تجھے سلام کرے اور نماز کے متعلق غرار یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز سے فارغ ہو، پھر شک میں پڑ جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے بھی یہی الفاظ منقول ہیں کہ نماز اور سلام کا جواب دینے میں سستی نہ ہونے پائے۔
(د) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ دوران نماز نہ تم کسی کو سلام کرو نہ کوئی تمہیں سلام کرے اور نماز میں غرار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر سلام پھیر لے لیکن وہ نماز کے بارے میں شک میں مبتلا ہو۔ یہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تفسیر کے مطابق ہے۔
(ہ) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن فضیل نے اسے ابو مالک سے ابن مہدی کے الفاظ کے مطابق روایت کیا ہے اور اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3411]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 928»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3412
وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ" لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ وَهَذَا اللَّفْظُ يَقْتَضِي نَفْيَ الْغِرَارِ، عَنِ الصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيمِ جَمِيعًا وَالْأَخْبَارُ الَّتِي مَضَتْ تُبِيحُ التَّسْلِيمَ عَلَى الْمُصَلِّي وَالرَّدَّ بِالْإِشَارَةِ، وَهِيَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
معاویہ بن ہشام نے اسے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا: «لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ» ”سلام اور نماز میں کوئی کمی نہیں ہے۔“
یہ لفظ سلام اور نماز دونوں میں سستی کی نفی کرتا ہے۔ گزشتہ احادیث نمازی پر سلام کرنے اور نمازی کے اشارے کے ساتھ جواب دینے کو مباح قرار دیتی ہیں اور یہی (احادیث) پیروی کے زیادہ لائق ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
676. -- باب: الإشارة فيما ينوبه في صلاته يريد بها إفهاما
-- باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَرَضِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَخَلْفَهُ قِيَامٌ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام میں بیٹھ کر نماز ادا کی، صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو آپ نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 656۔ مسلم 412»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3414
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَمَّادٌ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اجْلِسُوا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، وَرَوَيَاهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ:" فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا".
(ا) دوسری سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس قصے کو نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3415
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا" وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر پہنچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے تکبیر کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 413۔ ابوداود 602»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَأَنَّهُمْ رَدُّوهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ⦗٣٧١⦘ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةُ فَقُلْتُ: قَوْمِي لِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانَا أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا۔۔۔ پھر انہوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا: انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکعتوں کو نماز عصر کے بعد پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی اور میرے پاس تشریف لائے، اس وقت انصار میں سے بنو حرام کی چند عورتیں بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو پڑھا تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طرف کھڑے ہونے کے لیے کہا اور کہا کہ آپ انہیں بتائیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہہ رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا اور اب آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ اس لڑکی نے ویسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے اپنی قوم کے اسلام کے متعلق بتایا اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مصروف رکھا۔ یہ دو رکعتیں وہی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1176۔ مسلم 834»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں