🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
681. -- باب: من تقدم أو تأخر في صلاته من موضع إلى موضع
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آگے یا پیچھے ہٹا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَذَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ: شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ: وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي قَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ ثَمَانِ غَزَوَاتٍ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَنْ كُنْتُ أَرْجِعُ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَذْهَبُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَيَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
(ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز (وہ بستیاں جو ایران اور بصرہ کے درمیان ہیں) میں خارجیوں سے لڑ رہے تھے، میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ) گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لیے نماز پڑھنے لگے، گھوڑا ان کو کھینچنے لگا اور وہ اس کے پیچھے جانے لگے۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں: وہ شخص ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا: اے اللہ! اس بوڑھے کا ناس کر۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ، سات یا آٹھ غزوے کیے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانی دیکھ چکا ہوں جو آپ لوگوں پر کرتے تھے اور مجھے تو یہ پسند ہے کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چاہے چل دے اور بعد میں میں تکلیف محسوس کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1153»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٣٧٧⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا نُقَاتِلُ الْأَزَارِقَةَ بِالْأَهْوَازِ مَعَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ فَأَخَذَ بِمِقْوَدِ بِرْذَوْنِهِ أَوْ دَابَّتِهِ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ أَفْلَتَ مِنْ يَدِهِ فَمَضَتِ الدَّابَّةُ فِي قِبْلَتِهِ فَانْطَلَقَ أَبُو بَرْزَةَ حَتَّى أَخَذَهَا ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرِيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ وَكَانَ يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ وَنَالَ مِنْهُ أَنَّهُ تَرَكَ صَلَاتَهُ وَانْطَلَقَ إِلَى دَابَّتِهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ أَبُو بَرْزَةَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ وَلَوْ أَنَّ دَابَّتِي ذَهَبَتْ إِلَى مَأْلَفِهَا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ فَصَنَعْتُ مَا رَأَيْتُمْ قَالَ: فَقُلْنَا لِلرَّجُلِ: مَا أَرَى اللهَ إِلَّا يَجْزِيكَ، سَبَبْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم ”اہواز“ میں مہلب بن ابی صفرہ کے ساتھ خارجیوں سے لڑ رہے تھے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، وہ اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھے، آپ نماز پڑھنے لگے، اچانک سواری آپ کے ہاتھوں سے نکل کر قبلہ رخ چل پڑی، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے چل پڑے حتیٰ کہ اس کو پکڑ لیا۔ پھر الٹے پاؤں واپس پلٹے تو ایک خارجی کہنے لگا: اس بوڑھے کو دیکھو، نماز چھوڑ کر سواری کو پکڑنے لگا ہے۔ ازرق کہتے ہیں: جب حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو اس کے پاس آکر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات جنگیں لڑی ہیں اور میں بوڑھا ہوں، اگر میری یہ سواری بھی چلی جاتی تو میں مصیبت میں پڑ جاتا، اس لیے میں نے یہ کام کیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ ازرق کہتے ہیں: ہم نے اس آدمی کو کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو گالی دی ہے، اللہ ضرور تجھے اس کا بدلہ دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
682. -- باب: قتل الحية والعقرب في الصلاة
-- باب: نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”نماز میں بھی دو سیاہ چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو قتل کرنے“ کا حکم دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد 921»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3440
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ تَعَالَى وَجْهَهُ فَدَخَلَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَامَ إِلَى جَانِبِهِ يُصَلِّي قَالَ: فَجَاءَتْ عَقْرَبٌ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَرَكَتْهُ، وَأَقْبَلَتْ إِلَى عَلِيٍّ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ ضَرَبَهَا بِنَعْلِهِ، فَلَمْ يَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ إِيَّاهَا بَأْسًا".
زوجہ رسول ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ بھی آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اتنے میں ایک بچھو نمودار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، آپ کو چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف آ گیا، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ ماجرا دیکھا تو اسے اپنے جوتے کے ساتھ مار ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني في الاوسط 1653»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَاكَ الْحَيَّةَ ضَرْبَةٌ بِالسَّوْطِ أَصَبْتَهَا أَمْ أَخْطَأْتَهَا" وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وُقُوعَ الْكِفَايَةِ بِهَا فِي الْإِتْيَانِ بِالْمَأْمُورِ، فَقَدْ أَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا وَأَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا امْتَنَعَتْ بِنَفْسِهَا عِنْدَ الْخَطَأِ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْمَنْعَ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى ضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ.
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپ کو تیرے کوڑے کی ایک ہی ضرب کافی ہے چاہے تو صحیح نشانے پر لگائے یا خطا ہو جائے۔“
(ب) یہ روایت اگر صحیح ہو تو مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ ایک ضرب سے اس حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے جو حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب خطا کے وقت وہ خود بچ نکلے، اس سے ایک ضرب سے زیادہ ضربیں مارنے کی ممانعت مراد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوالعباس الاصم في حديثه 150۔ والدار قطني في الافراد 3/ 38»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الثَّانِيَةِ" وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: دُونَ الْأُولَى، وَقَالَ لِدُونِ الثَّانِيَةِ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ہی ضرب میں مار دیا تو اس کے لیے اتنا اتنا اجر ہے اور جس نے اسے دوسری ضرب میں قتل کیا تو اس کو بھی اتنا اتنا اجر ملے گا، پہلی مرتبہ سے کم اور جو تیسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنا اجر ہے یعنی دوسری ضرب میں مارنے سے کم۔“
(ب) خالد کی روایت میں «أُولَىٰ» کا لفظ نہیں ہے، باقی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3442]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 2240»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي أَوْ أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَمُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھپکلی کو پہلی ہی ضرب میں مارنے کا ثواب ستر نیکیاں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3443]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 2240»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3444
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ:" رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَأَى رِيشَةً وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهَا عَقْرَبٌ".
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ نماز میں تھے کہ انہوں نے ایک پَر دیکھا تو اس پر اپنا پاؤں مارا اور کہا: میں نے سمجھا یہ بچھو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3444]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
683. -- باب: المصلي يدفع المار بين يديه
-- باب: نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو ہٹانے (روکنے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّرْكُ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے روک دے۔ اگر وہ گزرنے پر مصر ہو تو پھر اسے سختی سے منع کرے، وہ تو شیطان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 505۔ ابوداود 697»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3446
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا" ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
عبدالرحمن بن ابی سعید خدری اپنے والد سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو سترے کے قریب کھڑا ہو“، پھر سابقہ مفہوم والی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 698»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں