السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
689. -- باب: الدنو من السترة
-- باب: سترے کے قریب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3477
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ صَفْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ فَلْيَدْنُ مِنْهُ لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ صَلَاتَهُ" قَالَ الشَّيْخُ وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا.
سیدنا محمد بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھے تو اس کے قریب ہو جائے، شیطان اس کی نماز کو فاسد نہ کر سکے گا۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داؤد بن قیس نے نافع بن جبیر سے اس روایت کو مرسل ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3477]
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داؤد بن قیس نے نافع بن جبیر سے اس روایت کو مرسل ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3478
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْ سُتَرْتِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَمُرُّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا" قَالَ الشَّيْخُ قَدْ أَقَامَ إِسْنَادَهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَهُوَ حَافِظٌ حُجَّةٌ.
نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سترے کی طرف نماز پڑھے تو سترے کے قریب ہو جائے، کیونکہ شیطان اس کے اور سترے کے درمیان سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند کو ابن عیینہ نے قائم کیا ہے اور وہ حافظ اور حجۃ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3478]
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند کو ابن عیینہ نے قائم کیا ہے اور وہ حافظ اور حجۃ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3478]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ انظر قبلة»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
690. -- باب: من صلى إلى غير سترة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے بغیر سترے کے نماز پڑھی
حدیث نمبر: 3479
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَجِئْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ لِي، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ رَاهَقْتُ الِاحْتِلَامَ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْحِمَارَ يَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ مَعَ النَّاسِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ:" قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ، إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ ذَكَرَهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَرَوَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَدِيمِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ وَفِي الْجَدِيدِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الصَّلَاةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں دیوار وغیرہ کے بغیر نماز پڑھی، اتنے میں میں حاضر ہوا، میں سوار تھا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، میں صف کے آگے سے گزر گیا اور گدھے کو چرنے پھرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر صف میں داخل ہو گیا، مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3479]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ" وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَسَيَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے میدان میں نماز پڑھی، آپ کے سامنے کوئی چیز نہ تھی۔
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3480]
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3480]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 224»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3481
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ يَقُولُ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ".
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی سہم کے دروازے کے پاس نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے درمیان سترہ نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3481]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود: 2016»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: قَالَ ⦗٣٨٨⦘ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ" قَالَ سُفْيَانُ: فَذَهَبْتُ إِلَى كَثِيرٍ فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيكَ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي، عَنْ جَدِّي الْمُطَّلِبِ قَالَ عَلِيٌّ: قَوْلُهُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي شَدِيدٌ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَضْبِطْهُ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ قِيلَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَعْيَانُ بَنِي الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ.
کثیر بن کثیر رحمہ اللہ اپنے والد سے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کثیر رحمہ اللہ کے پاس جا کر دریافت کیا کہ جو حدیث تم اپنے والد سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ مجھے میرے گھر والوں نے میرے دادا مطلب کے واسطے سے بیان کی تھی۔
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے خلاف سخت بات ہے۔ ابوسعید عثمان کہتے ہیں: یعنی ابن جریج نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج سے یہ بھی منقول ہے کہ کثیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مطلب کے معززین نے مطلب سے بیان کیا، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3482]
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے خلاف سخت بات ہے۔ ابوسعید عثمان کہتے ہیں: یعنی ابن جریج نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج سے یہ بھی منقول ہے کہ کثیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مطلب کے معززین نے مطلب سے بیان کیا، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
691. -- باب: من قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يديه سترة المرأة والحمار والكلب الأسود
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
حدیث نمبر: 3483
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ" قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ فَمَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَبْيَضِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَسَلْمَ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، فَسَاقَ حَدِيثَ يُونُسَ ثُمَّ أَحَالَ عَلَيْهِ حَدِيثَ الْبَاقِينَ، وَهَذَا مِنْهُ، رَحِمَنَا اللهُ، وَإِيَّاهُ تَجَوُّزٌ فَحَدِيثُ بَعْضِهِمْ.
سیدنا عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! کالے رنگ کی کیا وجہ ہے؟ سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 510»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3484
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَبْيَضِ؟ قَالَ: قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْهُ، وَهَكَذَا قَالَهُ عَاصِمٌ ⦗٣٨٩⦘ الْأَحْوَلُ، عَنْ حُمَيْدٍ جَعَلَ أَوَّلَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ أَبِي ذَرٍّ، ثُمَّ جَعَلَهُ مَرْفُوعًا بِالسُّؤَالِ فِي آخِرِهِ وَأَعْرَضَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ عَنِ الِاحْتِجَاجِ بِرِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، وَاحْتَجَّ بِهَا غَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى تَضْعِيفِ الْحَدِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَخِلَافُهُ مَا هُوَ أَثْبَتُ مِنْهُ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مَحْفُوظٍ أَوْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنْ يَلْهُوَ بِبَعْضِ مَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقْطَعَهُ عَنِ الِاشْتِغَالِ بِهَا لَا أَنَّهُ يُفْسِدُ الصَّلَاةَ، وَهَذَا الَّذِي حُمِلَ الْحَدِيثُ عَلَيْهِ أَوْلَى بِهِ، فَنَحْنُ نَحْتَجُّ بِمِثْلِ إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ بَعْضُهَا صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِثْلُهُ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابوذر! کالے رنگ کی وجہ ہے، سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کالا کتا شیطان ہوتا ہے“۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن صامت کی روایت سے دلیل لینے سے اعراض کیا ہے جبکہ دوسرے حفاظ نے اس سے دلیل لی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہو گی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کر دیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3484]
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن صامت کی روایت سے دلیل لینے سے اعراض کیا ہے جبکہ دوسرے حفاظ نے اس سے دلیل لی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہو گی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کر دیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3485
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقِيلَ: عَنْهُ عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِيلَ: عَنْهُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَصَرًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، کتا اور گدھا نماز توڑ دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اس کو بچا لیتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 511»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3486
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ" قَالَ يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ: لَمْ يَرْفَعْ هَذَا الْحَدِيثَ أَحَدٌ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرُ شُعْبَةَ قَالَ يَحْيَى: وَأَنَا أُفَرِّقُهُ قَالَ: وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، يَعْنِي مَوْقُوفًا قَالَ يَحْيَى: وَبَلَغَنِي أَنَّ هَمَّامًا يُدْخِلُ بَيْنَ قَتَادَةَ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبَا الْخَلِيلِ قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ يَرْفَعْ هَمَّامٌ الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالثَّابِتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنْ يُكْرَهُ، وَذَلِكَ يَدُلُّ مِنْ قَوْلِهِ مَعَ قَوْلِهِ يَقْطَعُ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْقَطْعِ غَيْرُ الْإِفْسَادِ، وَيُرْوَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغہ عورت اور کتا (سامنے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ یہ چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی بلکہ مکروہ ہے اور قطع سے مراد فاسد ہونا نہیں ہے۔
یحییٰ (قطان) فرماتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ سے شعبہ کے علاوہ کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، ابن ابی عروبہ اور ہشام نے اسے قتادہ سے موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3486]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ یہ چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی بلکہ مکروہ ہے اور قطع سے مراد فاسد ہونا نہیں ہے۔
یحییٰ (قطان) فرماتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ سے شعبہ کے علاوہ کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، ابن ابی عروبہ اور ہشام نے اسے قتادہ سے موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 703»
الحكم على الحديث: صحيح