السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
701. -- باب: كراهية مسح الحصا وتسويته في الصلاة فإن كان لا بد فاعلا فمرة واحدة
-- باب: نماز میں کنکریوں کو ہٹانے اور انہیں برابر کرنے کی کراہت، اور اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک بار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3546
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفُضَيْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَا" قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ: مَنْ أَبُو الْأَحْوَصِ؟ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَمَا رَأَيْتَ الشَّيْخَ الَّذِي يُصَلِّي فِي الرَّوْضَةِ، فَجَعَلَ الزُّهْرِيُّ يَنْعَتُهُ وَسَعْدٌ لَا يَعْرِفُهُ، لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ ⦗٤٠٤⦘ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَا" لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدٍ.
(أ) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے، اس لیے وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3546]
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 945۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ:" إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شَيْبَانَ وَمِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے معیقیب بن ابی فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا جو سجدے کی جگہ سے مٹی برابر کیا کرتا تھا: ”اگر ضروری ہو تو ایک بار کرنا جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1149»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْبَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَمَسَحْ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً تَسْوِيَةَ الْحَصَا".
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھتے ہوئے کنکریوں کو نہ ہٹا، اگر ضروری ہو تو صرف ایک بار کنکریوں کو برابر کر لیا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3549
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ:" مَسْحُ الْحَصَا وَاحِدَةٌ وَأَنْ لَا أَفْعَلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِائَةٍ نَاقَةٍ سُودِ الْحَدَقِ" وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْحِ الْحَصَا وَاحِدَةً، وَقِيلَ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَوَّى الْحَصَى بِنَعْلَيْهِ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي الصَّلَاةِ.
(ا) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کنکریوں کو ہٹانا ایک بار ہی جائز ہے اور اگر میں ایک بار بھی نہ کروں تو یہ مجھے سیاہ آنکھ کی پتلی والی سو اونٹنیوں سے زیادہ محبوب ہے۔
(ب) مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کنکریوں کو ہٹانے کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ایک بار ہٹانا جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے جوتوں کے ساتھ کنکریاں برابر کر دیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3549]
(ب) مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کنکریوں کو ہٹانے کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ایک بار ہٹانا جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے جوتوں کے ساتھ کنکریاں برابر کر دیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 469»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا هَوَى يَسْجُدُ يَمْسَحُ الْحَصَا لِوَضْعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْقَدْرُ هُوَ الْمُرَخَّصُ فِيهِ وَإِنَّمَا الْكَرَاهِيَةُ فِي الْعَبَثِ بِهِ وَلَوْ سَوَّاهُ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي الصَّلَاةِ كَمَا فَعَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٤٠٥⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَعْبَثُ بِالْحَصَا، فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ هَذَا خَشَعَتْ جَوَارِحُهُ.
(ا) ابوجعفر قاری سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب وہ سجدے کے لیے جھکتے تو اپنے سجدے والی جگہ سے کنکریاں ہٹانے کے لیے معمولی سا عمل کرتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انہیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ»
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3550]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انہیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ»
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 371»
الحكم على الحديث: صحيح
702. -- باب:: لا يمسح وجهه من التراب في الصلاة حتى يسلم
-- باب: نمازی جب تک سلام نہ پھیر لے نماز میں اپنے چہرے سے مٹی صاف نہ کرے
حدیث نمبر: 3551
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتَهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي صَبِيحَتِهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَيْنَا وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ: الْبُخَارِيُّ كَانَ الْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي أَنْ لَا يَمْسَحَ الْجَبْهَةَ فِي الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ الْمَاءُ وَالطِّينُ فِي أَرْنَبَتِهِ وَجَبْهَتِهِ بَعْدَمَا صَلَّى.
(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرہ میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے اعتکاف کیا حتیٰ کہ جب اکیسویں رات ہوئی جو اعتکاف سے نکلنے والی رات ہے تو فرمایا: ”جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کریں۔ میں نے اس رات (شب قدر) کو دیکھ لیا تھا پھر وہ مجھے بھلا دی گئی اور میں نے خود کو اگلی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا ہے، پس اس کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
(ب) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت ٹہنیوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی اس لیے وہ ٹپک پڑی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک اور ناک پر کیچڑ کے نشان دیکھے اور وہ اکیسویں صبح تھی۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حمیدی اس حدیث سے دلیل لیتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنی پیشانی کو صاف نہ کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین اطہر اور ناک پر نشان آپ کے نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3551]
(ب) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت ٹہنیوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی اس لیے وہ ٹپک پڑی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک اور ناک پر کیچڑ کے نشان دیکھے اور وہ اکیسویں صبح تھی۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حمیدی اس حدیث سے دلیل لیتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنی پیشانی کو صاف نہ کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین اطہر اور ناک پر نشان آپ کے نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1983»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" أَرْبَعٌ مِنَ الْجَفَاءِ: أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ قَائِمًا، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ، وَمَسْحُ الرَّجُلِ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، وَأَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنَ فَلَا يُجِيبَهُ فِي قَوْلِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجُرَيْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَالنَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ" بَدَلَ الْمُرُورِ وَلَمْ يَقُلْ: أَرْبَعٌ قَالَ الْبُخَارِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَضْطَرِبُونَ فِيهِ.
(ا) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”چار چیزیں بے مروتی میں سے ہیں: (1) کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، (2) ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں لوگ سامنے سے گزر رہے ہوں اور نمازی اور گزرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہ ہو، (3) دورانِ نماز اپنے چہرے سے مٹی صاف کرنا اور (4) اذان کا جواب نہ دینا۔“
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3552]
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البخاري في تاريخه 3/ 495»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3553
قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَاهُ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ التَّيْمِيُّ الْمَدَنِيُّ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعٌ مِنَ الْجَفَاءِ: يَبُولُ الرَّجُلُ قَائِمًا، أَوْ يُكْثِرُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، أَوْ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ فَلَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ، أَوْ يُصَلِّي بِسَبِيلِ مَنْ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُوأَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ ثنا دُحَيْمٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَحَادِيثُهُ عَنِ الْأَعْرَجِ، وَغَيْرِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: ثنا الْجُنَيْدِيُّ ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ: هَارُونُ بْنُ هَارُونَ لَا يُتَابَعُ فِي حَدِيثِهِ يَرْوِي عَنِ الْأَعْرَجِ يُقَالُ: هُوَ أَخُو مُحْرِزٍ التَّيْمِيِّ الْمَدَنِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَمْسَحُ وَجْهَهُ مِنَ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يَتَشَهَّدَ وَيُسَلِّمَ.
(ا) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں بے مروتی میں سے ہیں: (1) آدمی کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، (2) نماز سے فارغ ہونے سے پہلے بکثرت پیشانی صاف کرنا، (3) جواب نہ دینا، اور (4) ایسے راستے میں نماز پڑھنا جہاں وہ اس کی نماز کو توڑیں۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نماز میں اپنے چہرے سے اس وقت تک مٹی صاف نہ کرے جب تک تشہد اور سلام سے فارغ نہ ہو جائے۔
اس کے راوی ہارون بن ہارون کی اعرج سے روایات میں ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے، اور یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3553]
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نماز میں اپنے چہرے سے اس وقت تک مٹی صاف نہ کرے جب تک تشہد اور سلام سے فارغ نہ ہو جائے۔
اس کے راوی ہارون بن ہارون کی اعرج سے روایات میں ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے، اور یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الارواء 1/ 97»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3554
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ:" لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْإِنْسَانِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِهِ" قَالَ الْعَبَّاسُ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ عَدَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک سجدے کا نشان آدمی کے چہرے میں رہتا ہے، فرشتے مسلسل اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
عباس کہتے ہیں: اسے ان (محاضر) کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اسے بے مروتی میں شمار کرتے تھے، اور حسن رحمہ اللہ سے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3554]
عباس کہتے ہیں: اسے ان (محاضر) کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اسے بے مروتی میں شمار کرتے تھے، اور حسن رحمہ اللہ سے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3554]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابو نعيم في الحلية 3/ 272»
الحكم على الحديث: حسن
703. -- باب: سيماهم في وجوههم من أثر السجود
-- باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3555
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ٢٩] قَالَ:" السَّمْتُ الْحَسَنُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] ”ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے اثر سے ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اچھی وضع اور عمدہ طور طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3555]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبري في تفسيره 11/ 369»
الحكم على الحديث: ضعيف