السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
704. -- باب: كراهية التخصر في الصلاة
-- باب: نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے (کوکھ پر ہاتھ باندھنے) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3566
وَرُوِيَ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الِاخْتِصَارُ فِي الصَّلَاةِ رَاحَةُ أَهْلِ النَّارِ" أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أنبأ جَدِّي، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کے خوش ہونے کا ذریعہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن خزيمة 909»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ النَّسَائِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّخَصُّرِ فِي الصَّلَاةِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضيٰ سابقا برقم 3562»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3568
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا لَا أَعْرِفُهُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَاصِرَتِي فَنَحَّى يَدِي، فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ قُلْتُ: مَا أَرَدْتَ إِلَيَّ؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الصَّلْبِ فِي الصَّلَاةِ" وَرَوَاهُ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ وَقَالَ: عَنِ التَّخَصُّرِ فِي الصَّلَاةِ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ.
زیاد بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں انہیں نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ میں رکھا تو انہوں نے میرے ہاتھ کو دھکا دیا۔ جب میں نے نماز مکمل کی تو عرض کیا: تمہیں مجھ سے کیا سروکار تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”تو نے اس طرح کیا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سولی سے منع فرماتے تھے۔“
(ب) اس حدیث کو مکی بن ابراہیم، سعید سے روایت کرتے ہیں اور وہ نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں اس کو مکروہ کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3568]
(ب) اس حدیث کو مکی بن ابراہیم، سعید سے روایت کرتے ہیں اور وہ نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں اس کو مکروہ کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه ابوداود 903»
الحكم على الحديث: جيد
705. -- باب: كراهية تقديم إحدى الرجلين عند النهوض في الصلاة
-- باب: نماز میں اٹھتے وقت ایک پاؤں کو آگے رکھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3569
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خُطْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَحَبُّ الْخُطَا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْأُخْرَى أَبْغَضُ الْخُطَا إِلَى اللهِ، فَأَمَّا الْخُطْوَةُ الَّتِي يُحِبُّهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجُلٌ نَظَرَ إِلَى خَلَلٍ فِي الصَّفِّ فَسَدَّهُ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَقُومَ مَدَّ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَأَثْبَتَ الْيُسْرَى ثُمَّ قَامَ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو قدم ایسے ہیں کہ ان میں سے ایک اللہ کو بہت محبوب ہے اور دوسرا سخت ناپسند ہے۔ جو قدم اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی صف میں خلا دیکھے تو اس کو پُر کر دے، اور جو قدم اللہ کو سخت ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی (نماز میں) جب کھڑا ہونے لگے تو داہنی ٹانگ کو آگے کر کے اس پر ہاتھ رکھے اور بائیں کو اسی طرح رکھ کر کھڑا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم1/506»
الحكم على الحديث: ضعيف
706. -- باب: من كره أن يصف بين قدميه وهو قائم في الصلاة
-- باب: اس قول کا بیان جس نے نماز میں قیام کے دوران دونوں قدموں کو بالکل ملا کر کھڑے ہونے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 3570
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَمَّوَيْهِ النَّسَوِيُّ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَخْطَأَ السُّنَّةَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ رَاوَحَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ" وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ صَفَّ قَدَمَيْهِ وَضَمَّهُمَا فِي الصَّلَاةِ، وَرُوِّينَا عَنْهُ فِيمَا مَضَى أَنَّهُ قَالَ: صَفُّ الْقَدَمَيْنِ وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ، وَحَدِيثُ ابْنِ الزُّبَيْرِ مَوْصُولٌ، وَحَدِيثُ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلٌ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز میں اپنے قدم ملائے ہوئے تھے، تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت میں غلطی کی۔ اگر یہ ان میں فاصلہ کر لیتا تو مجھے زیادہ اچھا لگتا۔
(ب) ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ انہوں نے نماز میں اپنے قدموں کو ملایا تھا۔
(ج) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے کہ نماز میں قدموں کو ملانا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔
ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت موصول ہے اور ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت مرسل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3570]
(ب) ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ انہوں نے نماز میں اپنے قدموں کو ملایا تھا۔
(ج) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے کہ نماز میں قدموں کو ملانا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔
ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت موصول ہے اور ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت مرسل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه النسائي 892»
الحكم على الحديث: ضعيف
707. -- باب: الرخصة في الاعتماد على العصا إذا شق عليه طول القيام
-- باب: جب لمبا قیام شاق گزرے تو لاٹھی پر ٹیک لگانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ شَيْبَانُ بْنُ ⦗٤١٠⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِيَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلَاتِهِ، فَقُلْنَا لَهُ بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ" رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ".
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ میں رقہ (شام کے ایک شہر) گیا، میرے بعض دوستوں نے کہا: ”کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”یہ تو بڑی سعادت ہے۔“ ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا: ”سب سے پہلے ہم ان کی ظاہری صورت و سیرت کا دیدار کریں گے۔“ ہم نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی ٹوپی پہنے ہوئے تھے، جو سر سے چپکی ہوئی تھی، اس کے دو کنارے تھے اور وہ اون کی بنی ہوئی خاکی رنگ کی ٹوپی بھی پہنے ہوئے تھے اور انھوں نے نماز کے دوران لاٹھی پر ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ ہم نے انھیں سلام کہنے کے بعد اس سے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری جسم والے ہو گئے تھے تو انھوں نے اپنی جائے نماز کے پاس ایک ستون بنوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران) اس کا سہارا لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحاكم 1/ 397»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3572
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّئُونَ عَلَى الْعِصِيِّ فِي الصَّلَاةِ".
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نماز میں لاٹھی پر ٹیک لگایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3407»
الحكم على الحديث: ضعيف
708. -- باب: كراهية تشبيك اليد في الصلاة
-- باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے (تشبیک) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3573
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ" تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّشْبِيكِ بَيْنَ الْأَصَابِعِ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ أَوْ بَعْدَمَا يَدْخُلُ الصَّلَاةَ مَوْضِعُهُ كِتَابُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ عَامٌّ فِي جَمِيعِ الصَّلَوَاتِ.
(ا) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے نماز پڑھتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ یہودیوں کی نماز ہے۔“
(ب) سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو وضو اور نماز شروع کرنے کے بعد انگلیوں میں تشبیک کے بارے میں ہے، اس کا مقام کتاب الجمعہ میں ہے۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت ہو تو یہ حکم تمام نمازوں کے لیے ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3573]
(ب) سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو وضو اور نماز شروع کرنے کے بعد انگلیوں میں تشبیک کے بارے میں ہے، اس کا مقام کتاب الجمعہ میں ہے۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت ہو تو یہ حکم تمام نمازوں کے لیے ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 993۔ ابوداود 562»
الحكم على الحديث: صحيح
709. -- باب: كراهية تفقيع الأصابع في الصلاة
-- باب: نماز میں انگلیاں چٹخانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: Q3574
رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنْهُ وَيَكْرَهُهُ.
ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت پہنچی ہے کہ وہ اس سے منع فرماتے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3574]
حدیث نمبر: 3574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، أنبأ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ مُعَاذٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ مُعَاذٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضَّاحِكُ فِي الصَّلَاةِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُتَفَقِّعُ أَصَابِعَهُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ" مُعَاذٌ هُوَ ابْنُ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، وَزَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ غَيْرُ قَوِيٍّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سہل بن معاذ اپنے والد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں بلند آواز سے ہنسنے والا، اپنی انگلیوں کو چٹخانے والا اور ادھر ادھر دیکھنے والا ایک جیسے ہیں۔“
معاذ سے مراد معاذ بن انس جہنی ہیں، اور زبان بن فائد قوی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3574]
معاذ سے مراد معاذ بن انس جہنی ہیں، اور زبان بن فائد قوی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه احمد 3/ 438»
الحكم على الحديث: منكر