السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
717. -- باب: ما جاء في حك النخاعة عن القبلة
-- باب: قبلہ رخ سے بلغم کھرچنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3605
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَاعَةً فَحَكَّهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَأَخْرَجَاهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار میں تھوک یا بلغم یا سینڈھ دیکھی تو اس کو کھرچ ڈالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 399۔ اخرجه مسلم 549»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3606
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَرْزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ ⦗٤١٨⦘ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟" قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟" قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟" قَالَ: قُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَإِنْ عَجَلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا بِثَوْبِهِ" ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ" أَرُونِي عَبِيرًا" فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحِيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ فِي رَأْسِ الْعُرْجُونِ، ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَقَالَ:" لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى".
(ا) عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب نامی کھجور کی شاخ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر دوڑائی تو مسجد کے قبلے کی طرف بلغم لگی ہوئی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شاخ سے کھرچ ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم ڈر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے اس لیے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ اگر جلدی سے بلغم آئے تو پھر اپنے کپڑے پر اس طرح کرے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کو آپس میں مسل دیا اور فرمایا: ”عبیر خوشبو لے کر آؤ۔“ قبیلہ کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق خوشبو لے کر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو لے کر شاخ کے سرے پر لگائی، پھر اسے بلغم کے نشان پر لگا دیا۔
(ب) جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے: ”اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3606]
(ب) جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے: ”اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 3008»
الحكم على الحديث: صحيح
718. -- باب: من وجد في صلاته قملة فصرها ثم أخرجها من المسجد، أو دفنها فيه أو قتلها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں جوں پائی تو اسے کپڑے میں باندھ لیا پھر اسے مسجد سے باہر نکال دیا، یا اسے وہیں دفن کر دیا یا اسے مار دیا
حدیث نمبر: 3607
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَقْتُلْهَا وَلَكِنْ يَصُرَّهَا حَتَّى يُصَلِّيَ" وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ: عَنْ يَحْيَى:" فَلْيَصُرَّهَا حَتَّى يُخْرِجَهَا" يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ.
(الف) انصار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دورانِ نماز جوں وغیرہ پائے تو اس کو نہ مارے بلکہ اس کو پکڑ کر رکھے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔“
(ب) علی بن مبارک رحمہ اللہ یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کو روکے رکھے، پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3607]
(ب) علی بن مبارک رحمہ اللہ یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کو روکے رکھے، پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحارث 135»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا هَنَّادٌ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَصُرَّهَا حَتَّى يُخْرِجَهَا" وَهَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ فِي مِثْلِ هَذَا.
انصار کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں جوں پائے تو اس کو روکے رکھے جب تک اس کو مسجد سے نہ نکال دے۔“
یہ اس جیسے معاملے میں مرسل حسن روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3608]
یہ اس جیسے معاملے میں مرسل حسن روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَمْلَةً عَلَى ثَوْبِ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذَهَا فَدَفَنَهَا فِي الْحَصْبَاءِ ثُمَّ قَالَ: {أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا} [المرسلات: ٢٦] ⦗٤١٩⦘ وَيُذْكَرُ نَحْوُ هَذَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ يَدْفِنُهَا كَالنُّخَامَةِ وَرُوِّينَا عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ وَالْبَرَاغِيثَ فِي الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْقَمْلِ فِي الصَّلَاةِ وَلَكِنْ لَا يَعْبَثُ.
(ا) ربیع بن خثیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ایک شخص کے کپڑے پر جوں دیکھی تو اس کو پکڑ کر کنکریوں میں دفن کر دیا، پھر فرمایا: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا * أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾ [سورة المرسلات: 25-26] ”کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا زندوں کو اور مردوں کو۔“
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامر رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3609]
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامر رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3609]
719. -- باب: انصراف المصلي
-- باب: نمازی کے واپس پھرنے (مڑنے) کا بیان
حدیث نمبر: 3610
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ" لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: جَزَاءً بَدَلَ نَصِيبًا، وَقَالَ: عَنْ شِمَالِهِ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ چھوڑے یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے (بلکہ بائیں طرف بھی مڑے)۔
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں «نَصِيبًا» کی جگہ «جُزْءًا» ہے اور «عَنْ يَسَارِهِ» کی جگہ «عَنْ شِمَالِهِ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3610]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں «نَصِيبًا» کی جگہ «جُزْءًا» ہے اور «عَنْ يَسَارِهِ» کی جگہ «عَنْ شِمَالِهِ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 814»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ" قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ چھوڑے، یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے بلکہ بائیں طرف بھی مڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3611]
(ب) عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3612
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتا پہنے ہوئے، کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے، آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے پھرا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 186»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِهِ وَمَرَّةً عَنْ يَسَارِهِ وَيَضَعُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَاجَةٌ فِي نَاحِيَةٍ وَكَانَ يَتَوَجَّهُ مَا شَاءَ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ تَوَجُّهُهُ عَنْ يَمِينِهِ؛ لِمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مِنَ التَّيَامُنِ، غَيْرَ مَضَيَّقٍ عَلَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى خَبَرُ عَائِشَةَ فِي اسْتِحْبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَامُنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
(ا) قبیصہ بن ہلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے کبھی داہنی جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب اور اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھتے تھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر نمازی کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہو اور وہ جدھر چاہے پھر سکتا ہو تو مجھے یہ پسند ہے کہ اس کا پھرنا داہنی طرف ہو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے، البتہ اس میں سے کسی بات میں اس پر کوئی تنگی نہیں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3613]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر نمازی کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہو اور وہ جدھر چاہے پھر سکتا ہو تو مجھے یہ پسند ہے کہ اس کا پھرنا داہنی طرف ہو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے، البتہ اس میں سے کسی بات میں اس پر کوئی تنگی نہیں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الترمذي 301»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٤٢٠⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، أَخُو أَبِي حَامِدٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے اپنی داہنی طرف پھرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 708»
الحكم على الحديث: صحيح