السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
721. -- باب: ما أدرك من صلاة الإمام فهو أول صلاته
-- باب: جو نماز امام کے ساتھ پا لی جائے وہی اس کی پہلی نماز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3625
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت کہہ دی جائے تو سکون کے ساتھ آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو مکمل کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 150»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" ⦗٤٢٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ مُدْرَجًا فِيمَا قَبْلَهُ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ رَوَاهَا عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ ابْنِ عُيَيْنَةَ" وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ" قَالَ مُسْلِمٌ: أَخْطَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون سے چل کر آؤ، دوڑ کر نہ آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے، اس کو پورا کرلو۔“
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں زہری سے یہ الفاظ «وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ» ابن عیینہ کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کیے۔ امام مسلم فرماتے ہیں: ابن عیینہ سے ان الفاظ میں غلطی ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3626]
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں زہری سے یہ الفاظ «وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ» ابن عیینہ کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کیے۔ امام مسلم فرماتے ہیں: ابن عیینہ سے ان الفاظ میں غلطی ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 861»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3627
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا" لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ فِي بَعْضِ النُّسَخِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے دوڑ کر نہ آیا کرو بلکہ سکون سے چل کر آیا کرو۔ جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث 3616»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3628
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَبِمَعْنَى هَذَا اللَّفْظِ، رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے بلایا جائے تو چل کر آؤ، تمہارے اوپر اطمینان و سکون طاری ہو، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اس کو پورا کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3629
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَكِّيٌّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَسْعَيَنَّ إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ وَلَكِنْ لِيَمْشِ عَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سُبِقْتَ" ⦗٤٢٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ وَابْنِ عَلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ وَرَوَاهُ أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَى هَذَا، وَالَّذِينَ قَالُوا: فَأَتِمُّوا، أَكْثَرُ وَأَحْفَظُ وَأَلْزَمُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ أَوْلَى، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت ہو جائے تو کوئی بھی نماز کے لیے دوڑ کر نہ آئے بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چل کر آئے۔ جو پا لے اس کو پڑھ لے اور جو گزر چکی ہے اس کو پورا کر لے۔“
(ب) حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ جو لوگ «فَأَتِمُّوا» (پورا کرو) نقل کرتے ہیں وہ تعداد میں زیادہ ہیں، زیادہ حافظ ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادہ رہنے والے ہیں، لہٰذا ان کی روایت زیادہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3629]
(ب) حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ جو لوگ «فَأَتِمُّوا» (پورا کرو) نقل کرتے ہیں وہ تعداد میں زیادہ ہیں، زیادہ حافظ ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادہ رہنے والے ہیں، لہٰذا ان کی روایت زیادہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 602»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ وَشَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ كَذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا شور و غل سنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو انہیں بلا کر پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے کہا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو تمہارے اوپر اطمینان اور سکون طاری ہو، جتنی نماز (جماعت کے ساتھ) پالو پڑھ لو اور جو رہ گئی ہو اس کو پورا کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 609»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَدْرَكْتَ فَهُوَ أَوَّلُ صَلَاتِكَ" قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو نماز تم نے (امام کے ساتھ) پا لی وہ تمہاری ابتدائی نماز ہے۔“
(ب) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3631]
(ب) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3631]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 1/401»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَأَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا:" مَا أَدْرَكْتَ مِنْ آخِرِ صَلَاةِ الْإِمَامِ فَاجْعَلْهُ أَوَّلَ صَلَاتِكَ" قَالَ الْوَلِيدُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَا:" مَا أَدْرَكْتَ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ أَوَّلُ صَلَاتِكَ".
(ا) حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امام کے ساتھ جو تم نماز کا آخری حصہ پالو اس کو اپنی نماز کا ابتدائی حصہ شمار کرو۔
(ب) حضرت ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت اوزاعی رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: امام کی نماز سے جو تم پالو وہ تمہاری ابتدائی نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3632]
(ب) حضرت ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت اوزاعی رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: امام کی نماز سے جو تم پالو وہ تمہاری ابتدائی نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 7114»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3633
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَأَبِي قِلَابَةَ، وَعَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا أَدْرَكْتَ مَعَ الْإِمَامِ فَهُوَ أَوَّلُ صَلَاتِكَ وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ بِهِ مِنَ الْقُرْآنِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ قَالَ: وَثنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، محمد بن سیرین اور ابوقلابہ رحمہم اللہ سے، اور قتادہ رحمہ اللہ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو نماز تم امام کے ساتھ پا لو وہ تمہاری ابتدائی نماز ہے، اور قرآن (کی قراءت) میں سے جو امام تم سے پہلے پڑھ چکا ہے اسے پورا کر لو۔“ قتادہ نے سعید بن مسیب سے بھی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول کی مثل نقل کیا ہے۔
یہ روایت اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے، لیکن یہ حارث کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کے لیے شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3633]
یہ روایت اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے، لیکن یہ حارث کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کے لیے شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 3160»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3634
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ السُّنَّةَ إِذَا أَدْرَكَ الرَّجُلُ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْلِسَ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ فَرَكَعَ الثَّانِيَةَ فَجَلَسَ فِيهَا وَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ فَتَشَهَّدَ فِيهَا، ثُمَّ سَلَّمَ، وَالصَّلَوَاتُ عَلَى هَذِهِ السُّنَّةِ فِيمَا يَجْلِسُ فِيهِ مِنْهُنَّ" قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:" حَدِّثُونِي بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ يُتَشَهَّدُ فِيهِنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِذَا سُئِلَ عَنْهَا قَالَ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ يُسْبَقُ الرَّجُلُ مِنْهَا بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُدْرِكُ رَكْعَتَيْنِ فَيَتَشَهَّدُ فِيهِمَا".
(ا) سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ آدمی جب امام کے ساتھ مغرب کی نماز میں ایک رکعت پا لے تو وہ امام کے ساتھ قعدہِ اخیرہ کرے، جب امام سلام پھیر لے تو وہ کھڑا ہو کر دوسری رکعت پڑھے اور تشہد میں بیٹھے، پھر کھڑا ہو کر تیسری رکعت پڑھے اور اس میں تشہد پڑھے اور پھر سلام پھیرے اور دیگر نمازیں بھی اسی طریقے پر ہیں جن میں بیٹھا جاتا ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے بتاؤ وہ کون سی نماز ہے، جس میں تین رکعتوں میں تین بار تشہد پڑھا جاتا ہے؟ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ مغرب کی نماز ہے کہ آدمی سے ایک رکعت چھوٹ جائے، پھر وہ امام کے ساتھ دوسری رکعتیں جو پائے گا ان میں تشہد پڑھے گا اور آخری تشہد بھی پڑھے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3634]
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے بتاؤ وہ کون سی نماز ہے، جس میں تین رکعتوں میں تین بار تشہد پڑھا جاتا ہے؟ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ مغرب کی نماز ہے کہ آدمی سے ایک رکعت چھوٹ جائے، پھر وہ امام کے ساتھ دوسری رکعتیں جو پائے گا ان میں تشہد پڑھے گا اور آخری تشہد بھی پڑھے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»
الحكم على الحديث: صحيح