السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
729. -- باب: ما روي في كيفية هذا القعود
-- باب: اس (بیمار کے) بیٹھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَهُوَ مُتَرَبِّعٌ جَالِسٌ" قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَى عُقْبَةُ أَخُو سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ أَنَّهُ رَأَى أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْهُ عُمَرُ، شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ.
(ا) سیدنا عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور چار زانو ہو بیٹھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عقبہ رحمہ اللہ جو سعید بن عبید طائی رحمہ اللہ کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3663]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عقبہ رحمہ اللہ جو سعید بن عبید طائی رحمہ اللہ کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3663]
تخریج الحدیث: «قوي۔ والحديث شاهد صحيح للذي قبله»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 3664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَا أَعْلَمُ أَنَّى سَمِعْتُهُ إِلَّا مِنْهُ قَالَ: وَكَانَ عَبَّادٌ يَرْوِيهِ لَا يَقُولُ فِيهِ:" مُتَرَبِّعًا".
(ا) حمید طویل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
(ب) امام ابو عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث ان کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی۔ عباد رحمہ اللہ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں لیکن اس میں «مُتَرَبِّعًا» کا لفظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3664]
(ب) امام ابو عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث ان کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی۔ عباد رحمہ اللہ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں لیکن اس میں «مُتَرَبِّعًا» کا لفظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6132»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ" وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ عَنِ التَّرَبُّعِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:" كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ" قَالَ الشَّيْخُ: رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ إِنَّمَا قَعَدَ كَذَلِكَ فِي التَّشَهُّدِ وَاعْتَذَرَ فِي ذَلِكَ بِأَنَّ رِجْلَيْهِ لَا تَحْمِلَانِهِ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(ا) حضرت قتادہ رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز میں چار زانو ہو کر بیٹھتے تھے۔
(ب) حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس طرح کرتے تھے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ وہ صرف تشہد میں اس طرح بیٹھتے تھے اور اس میں عذر یہ پیش کیا کہ ان کی ٹانگیں ان کے وزن کی متحمل نہیں تھیں۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آگے آ رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3665]
(ب) حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس طرح کرتے تھے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ وہ صرف تشہد میں اس طرح بیٹھتے تھے اور اس میں عذر یہ پیش کیا کہ ان کی ٹانگیں ان کے وزن کی متحمل نہیں تھیں۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آگے آ رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ:" رَأَيْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا وَمُتَّكِئًا" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فِي الْمَرِيضِ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ فَعَلَهُ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَهُ.
(ا) حضرت حمید طویل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کو چار زانو سہارا لے کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مریض کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔
(ج) ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی ایسا کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3666]
(ب) حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مریض کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔
(ج) ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی ایسا کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 6126»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3667
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشَّرِيحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَكَمَ، عَنِ التَّرَبُّعِ فِي الصَّلَاةِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ:" أَحْسَبُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَرِهَهُ".
حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم رحمہ اللہ سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ بتایا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسے مکروہ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6132»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: لَأَنْ أَقْعُدَ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ جَمْرَتَيْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْعُدَ مُتَرَبِّعًا فِي الصَّلَاةِ" وَهَذَا قَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَقَالَ: يُكْرَهُ مَا يَكْرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ تَرَبُّعِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، وَهُمْ، يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ، يُخَالِفُونَ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَيَقُولُونَ: قِيَامُ صَلَاةِ الْجَالِسِ التَّرَبُّعُ. ثُمَّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ قَالَ: يَقْعُدُ فِي مَوْضِعِ الْقِيَامِ مُتَرَبِّعًا، وَكَيْفَ أَمْكَنَهُ وَكَأَنَّهُ حَمَلَهُ عَلَى الْخُصُوصِ، أَوْ ذَهَبَ إِلَيْهِ بِبَعْضِ مَا مَضَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک یا دو انگاروں پر بیٹھ جاؤں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ نماز میں چار زانو بیٹھوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں اس کو مطلقاً ذکر کیا ہے۔
اور فرمایا: آدمی کا نماز میں چار زانو بیٹھنا، جسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ناپسند سمجھتے تھے، مکروہ ہے اور عراقیین سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قیام چار زانو بیٹھنا ہے۔
پھر امام بویطی رحمہ اللہ کی کتاب میں فرماتے ہیں: وہ قیام کی جگہ چار زانو بیٹھے یا جیسے بھی اس کے لیے ممکن ہو۔ گویا انہوں نے اس کو خصوصیت پر محمول کیا ہے یا اس طرف گئے ہیں جو گزر چکا ہے۔ (واللہ اعلم) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3668]
امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں اس کو مطلقاً ذکر کیا ہے۔
اور فرمایا: آدمی کا نماز میں چار زانو بیٹھنا، جسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ناپسند سمجھتے تھے، مکروہ ہے اور عراقیین سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قیام چار زانو بیٹھنا ہے۔
پھر امام بویطی رحمہ اللہ کی کتاب میں فرماتے ہیں: وہ قیام کی جگہ چار زانو بیٹھے یا جیسے بھی اس کے لیے ممکن ہو۔ گویا انہوں نے اس کو خصوصیت پر محمول کیا ہے یا اس طرف گئے ہیں جو گزر چکا ہے۔ (واللہ اعلم) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6131»
الحكم على الحديث: ضعيف
730. -- باب: الإيماء بالركوع والسجود إذا عجز عنهما
-- باب: جب رکوع اور سجدے سے عاجز ہو تو اشارے سے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3669
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٤٣٥⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَأَخَذَهَا فَرَمَى بِهَا، فَأَخَذَ عُودًا لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ:" صَلِّ عَلَى الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ وَإِلَّا فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ فِي إِفْرَادِ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تکیہ لے کر پھینک دیا، پھر اس نے ایک لکڑی پکڑ لی تاکہ اس پر نماز پڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ لکڑی بھی لے کر پھینک دی اور فرمایا: ”اگر طاقت ہو تو زمین پر نماز پڑھ اور اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو اشارہ کر لے اور اپنے سجدوں کو رکوع سے نیچا رکھ۔“
یہ حدیث ابوبکر حنفی کی سفیان ثوری سے منفرد روایات میں شمار کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3669]
یہ حدیث ابوبکر حنفی کی سفیان ثوری سے منفرد روایات میں شمار کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3669]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابونعيم في الحلية 7/92»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3670
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَأَخَذَهَا فَرَمَى بِهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" صَلِّ بِالْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ پکڑ کر پھینک دیا۔۔۔ بقیہ حدیث اسی طرح ہے، صرف اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر نماز پڑھ اگر تو طاقت رکھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3670]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3671
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْمَرِيضُ السُّجُودَ أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، وَلَمْ يَرْفَعْ إِلَى جَبْهَتِهِ شَيْئًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جِمَاعَةٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جب مریض سجدہ کرنے کی طاقت نہ رکھے تو اپنے سر سے اشارہ کر لیا کرے اور اپنی پیشانی تک کوئی چیز نہ اٹھائے۔
اسی طرح ایک جماعت نے اسے نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر) روایت کیا ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3671]
اسی طرح ایک جماعت نے اسے نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر) روایت کیا ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3671]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 403»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِرْوَحَةِ، فَقَالَ: لَا تَتَّخِذْ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وقَالَ: لَا تَتَّخِذْ لِلَّهِ أَنْدَادًا صَلِّ قَاعِدًا وَاسْجُدْ عَلَى الْأَرْضِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِيمَاءً، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ".
حضرت جبلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پنکھے پر نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی سن رہا تھا، انہوں نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ اور فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ اور بیٹھ کر نماز پڑھو اور زمین پر سجدہ کرو۔ اگر اس کی ہمت نہ ہو تو اشارے سے رکوع و سجود کرو اور سجدوں میں رکوع سے زیادہ نیچے جھکو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»
الحكم على الحديث: صحيح