السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
736. -- باب: الوقوف عند آية الرحمة وآية العذاب وآية التسبيح
-- باب: آیتِ رحمت، آیتِ عذاب اور آیتِ تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا {أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ} [التين: ٨] فَلْيَقُلْ: وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ {لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [القيامة: ١] فَانْتَهَى إِلَى {أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى} [القيامة: ٤٠] فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: ٥٠] فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللهِ" قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھے اور اس کی آخری آیت ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة التين: 8] ”کیا اللہ تعالیٰ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟“ پر پہنچے تو وہ «وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ”اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں“ کہے، اور جو شخص ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة القيامة: 1] پڑھے اور اس کی آیت ﴿أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے؟“ پر پہنچے تو وہ «بَلَىٰ» ”ہاں“ کہے، اور جو شخص ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھے اور وہ ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المرسلات: 50] ”اس کے بعد اور کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے؟“ پر پہنچے تو وہ «آمَنَّا بِاللَّهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے“ کہے۔“
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: ”میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے۔ اس دیہاتی نے کہا: بھتیجے! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3693]
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: ”میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے۔ اس دیہاتی نے کہا: بھتیجے! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 887»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقْرَأُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فَقَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى".
سیدنا عبد خیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھتے سنا تو وہ یہ پڑھ کر کہتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق4049»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بِشْرِ بْنِ جَابَانَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ حُجْرِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ قَيْسٍ الْمُدَرِيِّ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ يَقْرَأُ، فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} [الواقعة: ٥٩] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: ٦٣] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} [الواقعة: ٦٨] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا".
حضرت حجر بن قیس مدری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں رات گزاری تو میں نے انھیں تہجد میں قراءت کرتے سنا، جب وہ اس آیت پر پہنچے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ * أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ﴾ [سورة الواقعة: 58-59] ”اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو پانی تم ٹپکاتے ہو، کیا اس کا انسان تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟“ تو فرمایا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”بلکہ اے اللہ! تو ہی خالق ہے“۔ تین مرتبہ کہا۔ پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] پھر انھوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے رب! بلکہ تو ہی ہے“، پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ﴾ [سورة الواقعة: 68-69] ”اچھا یہ بتاؤ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟“
انہوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! تو ہی تو ہے“۔ پھر پڑھتے: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ [سورة الواقعة: 71-72] ”اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو، اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔ انھوں نے تین بار کہا: «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3695]
انہوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! تو ہی تو ہے“۔ پھر پڑھتے: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ [سورة الواقعة: 71-72] ”اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو، اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔ انھوں نے تین بار کہا: «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/518»
الحكم على الحديث: ضعيف
737. -- باب: الدليل على أن وقوف المرأة بجنب الرجل لا يفسد عليه صلاته
-- باب: اس بات کی دلیل کہ مرد کے پہلو میں عورت کا کھڑا ہونا اس (مرد) کی نماز کو فاسد نہیں کرتا
حدیث نمبر: 3696
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح بستر پر لیٹی ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث، رقم 3492»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ فَقَالُوا: يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَابًا، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ فَيَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حضرت مسروق رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان چیزوں کا ذکر کیا گیا جو نماز توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا: نماز کو کتا، گدھا اور عورت توڑ دیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے تو ہم (عورتوں) کو کتوں کے ساتھ ملا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹنا ناپسند سمجھتی اور میں چپکے سے چلی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث برقم 3497»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ⦗٤٤٢⦘ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ وَاحْتَجَّ مُحْتَجٌّ بِمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَمْرٍو، وَالرِّوَايَةُ عِنْدَنَا عَنْ عُمَرَ.
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی حضرت امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کو اٹھا کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو انھیں بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث 613»
الحكم على الحديث: صحيح
738. جماع أبواب سجود التلاوة -- باب: سجود النبي صلى الله عليه وسلم متى ما مر بآية سجد
سجدہ تلاوت سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نبی کریم ﷺ کے سجدے کا بیان کہ جب بھی آپ آیت سجدہ سے گزرتے تو سجدہ کرتے
حدیث نمبر: 3699
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ هُوَ الْمَنْيعِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فِيهَا سَجْدَةٌ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ وَفِي حَدِيثِ الْآخَرَيْنِ:" يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، وَقَالَا: حَتَّى لَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَوْضِعًا لِجَبِينِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِمَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے۔ اگر ایسی سورت ہوتی جس میں سجدہ ہوتا تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی۔
(ب) یہ حضرت ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں، دوسروں کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن سناتے تھے۔ دونوں حدیثوں میں ہے: حتیٰ کہ ہم میں کسی کو سجدے کے لیے اپنی جبین رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3699]
(ب) یہ حضرت ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں، دوسروں کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن سناتے تھے۔ دونوں حدیثوں میں ہے: حتیٰ کہ ہم میں کسی کو سجدے کے لیے اپنی جبین رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1026»
الحكم على الحديث: صحيح
739. -- باب: فضل سجود التلاوة
-- باب: سجدہ تلاوت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم جب آیتِ سجدہ کی تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان علیحدہ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے: ہائے ہلاکت! ہائے افسوس! ابنِ آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا، پس اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا، اب میرے لیے جہنم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 81»
الحكم على الحديث: صحيح
740. -- باب: من قال في القرآن إحدى عشرة سجدة ليس في المفصل منها شيء
-- باب: اس قول کا بیان کہ قرآن مجید میں گیارہ سجدے ہیں اور مفصل سورتوں میں ان میں سے کوئی سجدہ نہیں ہے
حدیث نمبر: Q3701
حَكَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ أَيْضًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ.
اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، اور اسے سیدنا ابی بن کعب، زید بن ابی ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے، اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے اسے سیدنا ابن عمر اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3701]
حدیث نمبر: 3701
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، أنبأ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَارِثُ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ أَوْ رَجُلٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَمْ يَسْجُدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ بَعْدَ مَا تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَطَرٍ وَرَوَاهُ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِئِ، عَنْ أَزْهَرَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ تَرَكَهَا" أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِئِ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَشُكَّ فِي إِسْنَادِهِ وَهَذَا الْحَدِيثُ يَدُورُ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي قُدَامَةَ الْإِيَادِيِّ الْبَصْرِيِّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَحَدَّثَ عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَقَالَ: كَانَ مِنْ شُيُوخِنَا، وَمَا رَأَيْتُ الْأَخِيرَ أَوِ اللهُ أَعْلَمُ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ منتقل ہونے کے بعد مفصل سورتوں میں سے کسی میں بھی سجدہ نہیں کیا۔
(ب) اسی طرح یہ روایت مقری کے داماد بکر بن خلف رحمہ اللہ نے ازہر (بن قاسم) رحمہ اللہ سے روایت کی ہے اور اس کے متن میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو سورة النجم میں سجدہ کیا تھا لیکن جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو اس کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث کا دار و مدار حارث بن عبید ابوقدامہ ایادی بصری پر ہے، یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ عبدالرحمن بن مہدی نے اس سے روایت کی ہے اور کہا: وہ ہمارے شیوخ میں سے تھا۔ عکرمہ عن ابن عباس سے محفوظ روایت وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3701]
(ب) اسی طرح یہ روایت مقری کے داماد بکر بن خلف رحمہ اللہ نے ازہر (بن قاسم) رحمہ اللہ سے روایت کی ہے اور اس کے متن میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو سورة النجم میں سجدہ کیا تھا لیکن جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو اس کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث کا دار و مدار حارث بن عبید ابوقدامہ ایادی بصری پر ہے، یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ عبدالرحمن بن مہدی نے اس سے روایت کی ہے اور کہا: وہ ہمارے شیوخ میں سے تھا۔ عکرمہ عن ابن عباس سے محفوظ روایت وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الطيالسي 2688»
الحكم على الحديث: منكر