السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
803. -- باب: وجوب التحلل من الصلاة بالتسليم
-- باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3974
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ التَّشَهُّدِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ التَّسْلِيمُ".
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز کے آخر میں قعدہ کرتے تو تشہد سے پہلے لوگوں کی طرف اپنا رخ انور کرتے اور یہ سلام کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
804. -- باب: الذكر يقوم مقام القراءة إذا لم يحسن من القرآن شيئا
-- باب: جب اسے قرآن میں سے کچھ بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا ہو تو ذکر قراءت کے قائم مقام ہو گا اس کا بیان
حدیث نمبر: 3975
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ، يَعْنِي حَدِيثَ الرَّجُلِ الَّذِي صَلَّى، وَقَالَ فِيمَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللهُ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ، ثُمَّ كَبِّرْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهِ وَإِلَّا فَاحْمِدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ" قَالَ فِي آخِرِهِ:" وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ".
(ا) سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ انہوں نے اس شخص کی نماز کا قصہ بیان کیا۔ اس میں ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سکھایا یہ ہے کہ: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے۔ پھر تشہد پڑھ، پھر کھڑا ہوجا اور تکبیر کہہ، اگر تجھے قرآن یاد ہو تو وہ پڑھ لے ورنہ اللہ کی حمد اور اس کی بڑائی بیان کر اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ۔“
(ب) اس کے آخر میں ہے کہ: ”اگر تو اس سے کچھ بھی کمی کرے تو وہ تیری نماز میں کمی ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3975]
(ب) اس کے آخر میں ہے کہ: ”اگر تو اس سے کچھ بھی کمی کرے تو وہ تیری نماز میں کمی ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 861»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 3976
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى التِّرْمِذِيُّ ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الترمذي 302»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 3977
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْبُرْجُلَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أُحْسِنُ الْقُرْآنَ فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" فَلَمَّا عَقَدَ عَلَيْهِنَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ لِرَبِّي، فَمَاذَا أَقُولُ لِنَفْسِي قَالَ:" قُلْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي" قَالَ: فَقَبَضَ عَلَيْهِنَّ، ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ مَلَأَ هَذَا يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ".
عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں قرآن کو اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دیں جو مجھے قرآن سے کفایت کر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» پڑھا کر۔“ جب اس نے ان پر گرہ لگائی تو بولا: اے اللہ کے رسول! یہ تو میرے رب کے لیے ہے میں اپنے لیے کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر اور مجھے عافیت دے۔“”راوی بیان کرتے ہیں کہ اس نے ان کلمات کو بھی یاد کر لیا، پھر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الطيالسي 851»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 3978
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَسَنٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوَفَى قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِينِي مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" قَالَ: فَقَامَ أَوْ ذَهَبَ أَوْ نَحْوُ هَذَا، فَقَالَ: هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ قَالَ:" ⦗٥٣٣⦘ قُلْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي" قَالَ: مِسْعَرٌ: وَرُبَّمَا اسْتَفْهَمْتُ بَعْضَهُ مِنْ أَبِي خَالِدٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں قرآن سے کچھ بھی یاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، مجھے ایسی کوئی چیز سکھلا دیں جو مجھے قرآن سے کفایت کر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے۔““ راوی فرماتے ہیں کہ وہ کھڑا ہوا اور چلا گیا یا اس طرح کا کوئی اور کام کیا اور کہا: یہ تو اللہ کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت عطا کر، اور مجھے رزق عطا کر۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ وانظر ما قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 3979
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَا أُحْسِنُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِينِي مِنْهُ، فَقَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِيَ؟ قَالَ:" قُلْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَاعْفُ عَنِّي" فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْخَيْرِ.
ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن کو اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو مجھے اس سے کفایت کر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» “ وہ چلا گیا پھر لوٹ کر آیا تو اس نے کہا: یہ تو میرے رب کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي وَاعْفُ عَنِّي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت و رزق عطا فرما، مجھے عافیت عطا فرما اور مجھ سے درگزر فرما۔““ جب وہ شخص چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ وانظر ما قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
805. -- باب: من قال تسقط القراءة عمن نسي ومن قال: لا تسقط
-- باب: اس قول کا بیان کہ بھولنے والے سے قراءت ساقط ہو جاتی ہے اور اس قول کا بیان کہ ساقط نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3980
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ لَهُ: مَا قَرَأْتَ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا قَالَ:" فلَا بَأْسَ إِذًا" وَإِلَى هَذَا كَانَ يَذْهَبُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ وَيَرْوِيهِ أَيْضًا عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ وَيُضَعِّفُ مَا رُوِيَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ الصَّلَاةَ بِأَنَّهُمَا مُرْسَلَتَانِ قَالَ وَأَبُو سَلَمَةَ: يُحَدِّثُهُ بِالْمَدِينَةِ وَعِنْدَ آلِ عُمَرَ لَا يُنْكِرْهُ أَحَدٌ.
(ا) ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے اس میں قراءت نہیں کی، جب وہ نماز سے پھرے تو کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو قراءت نہیں کی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رکوع اور سجود کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: بہت اچھے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر کوئی حرج نہیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قدیم قول میں اسی کے قائل تھے، اور وہ اسے ایک آدمی کے واسطے سے جعفر بن محمد سے، وہ اپنے والد سے، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ابوسلمہ کی روایت کے ہم معنی بھی روایت کرتے ہیں۔ اور اس واقعے میں شعبی رحمہ اللہ اور نخعی رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز لوٹائی تھی، اسے وہ ضعیف قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ابوسلمہ یہ حدیث مدینہ میں اور آلِ عمر کے پاس بیان کرتے تھے اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3980]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قدیم قول میں اسی کے قائل تھے، اور وہ اسے ایک آدمی کے واسطے سے جعفر بن محمد سے، وہ اپنے والد سے، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ابوسلمہ کی روایت کے ہم معنی بھی روایت کرتے ہیں۔ اور اس واقعے میں شعبی رحمہ اللہ اور نخعی رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز لوٹائی تھی، اسے وہ ضعیف قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ابوسلمہ یہ حدیث مدینہ میں اور آلِ عمر کے پاس بیان کرتے تھے اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك وعنه الشافعي في الام 7/251»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3981
وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ، إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ يَقْرَأْ شَيْئًا حَتَّى سَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ ⦗٥٣٤⦘ تَقْرَأْ شَيْئًا، فَقَالَ: إِنَّى جَهَّزْتُ عِيرًا إِلَى الشَّامِ فَجَعَلْتُ أُنْزِلُهَا مَنْقَلَةً مَنْقَلَةً حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَبَعْتُهَا وَأَقْتَابَهَا وَأَحْلَاسَهَا وَأَحْمَالَهَا قَالَ: فَأَعَادَ عُمَرُ وَأَعَادُوا".
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہیں کی حتیٰ کہ نماز سے سلام پھیر دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو کچھ بھی قرات نہیں کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں نے شام کی طرف ایک تجارتی قافلہ تیار کیا، میں اسے ایک ایک منزل پر اتارتا رہا یہاں تک کہ شام پہنچ گیا، پھر میں نے اسے، اس کے پالانوں، اس کی کاٹھیوں اور اس کے سامان کو بیچ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز لوٹائی اور لوگوں نے بھی نماز کا اعادہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3982
وَأنبأ أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقْرَأْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ: لَا قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تَقْرَأْ، فَأَعَادَ الصَّلَاةَ".
ابراہیم سے منقول ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ نے اپنے دل میں قراءت کی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”یقیناً آپ نے کچھ نہیں پڑھا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3983
وَأنبأ أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ مُعَاذٌ، ثنا كَامِلٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقَرَأْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ:" لَا" فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنِينَ فَأَذَّنُوا، وَأَقَامُوا، وَأَعَادَ الصَّلَاةَ بِهِمْ وَهَذِهِ الرِّوَايَاتُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ مُرْسَلَةٌ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ، وَرِوَايَةُ أَبِي سَلَمَةَ وَإِنْ كَانَتْ مُرْسَلَةً فَهُوَ أَصَحُّ مَرَاسِيلَ، وَحَدِيثُهُ بِالْمَدِينَةِ فِي مَوْضِعِ الْوَاقِعَةِ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُنْكِرُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ الشَّعْبِيِّ قَدْ أُسْنِدَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَالْإِعَادَةُ أَشْبَهُ بِالسُّنَّةِ فِي وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ، وَأَنَّهَا لَا تَسْقُطُ بِالنِّسْيَانِ كَسَائِرِ الْأَرْكَانِ.
(ا) شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے اپنے دل میں قرأت کی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔ پھر انہوں نے مؤذنوں کو حکم دیا، انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور ان کو دوبارہ نماز پڑھائی۔
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے یہ روایات مرسل ہیں، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ اور ابوسلمہ کی روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن وہ زیادہ صحیح مرسل ہے، اور انہوں نے یہ حدیث مدینہ میں، یعنی واقعے کی جگہ پر، بیان کی، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ البتہ شعبی کی حدیث ایک دوسری سند سے متصل بھی بیان کی گئی ہے۔
(ب) نماز کا اعادہ کرنا قرأت کے وجوب میں سنت کے زیادہ مشابہ ہے اور قرأت بھی دیگر ارکانِ نماز کی طرح بھولنے سے ساقط نہ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3983]
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے یہ روایات مرسل ہیں، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ اور ابوسلمہ کی روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن وہ زیادہ صحیح مرسل ہے، اور انہوں نے یہ حدیث مدینہ میں، یعنی واقعے کی جگہ پر، بیان کی، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ البتہ شعبی کی حدیث ایک دوسری سند سے متصل بھی بیان کی گئی ہے۔
(ب) نماز کا اعادہ کرنا قرأت کے وجوب میں سنت کے زیادہ مشابہ ہے اور قرأت بھی دیگر ارکانِ نماز کی طرح بھولنے سے ساقط نہ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3983]