🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
797. -- باب: سجود الشكر
-- باب: سجدہ شکر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ بِي حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟" فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ، خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَقَالَ:" إِنِّي لَمَّا رَأَيْتَنِي دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ".
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا پتا نہ چلا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کر لی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آ گیا، میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اے عبد الرحمن! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کر دیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3937
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَشَّرَنِي وَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ لَكَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدَتُ لِلَّهِ شُكْرًا" ⦗٥١٩⦘ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ عَنْ رِوَايَةِ الضُّعَفَاءِ.
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے مجھے بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا پروردگار فرماتا ہے: جو آپ پر درود بھیجتا ہے، میں اس پر رحمت نازل کرتا ہوں اور جو آپ پر سلام بھیجتا ہے، میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں“، تو میں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔
(ب) اس مسئلہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کرتے ہیں، لیکن ہم نے جو ذکر کر دی ہیں وہ ضعیف روایات کو ذکر کرنے سے کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/735»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3938
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا نَغَاشِيًّا يُقَالُ لَهُ زَنِيمٌ قَصِيرٌ فَخَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ:" أَسْأَلُ اللهَ الْعَافِيَةَ" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَلَكِنْ لَهُ شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
محمد بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹے قد والا آدمی دیکھا، جسے چھوٹا سا کان کٹا کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور سجدے میں گر گئے، پھر فرمایا: ”میں اللہ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“
یہ روایت منقطع ہے اور جابر جعفی کی روایت ہے، لیکن دوسری سند سے اس کا شاہد موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ مابر العجمي»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3939
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَبْصَرَ رَجُلًا بِهِ زِمَانَةٌ فَسَجَدَ".
(ا) عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپاہج تھا (یا دائمی مریض تھا) تو آپ سجدے میں گر گئے۔
(ب) محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب فتح کی خوشخبری آتی تو سجدہ کرتے، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتی تو وہ بھی سجدہ کرتے یا کسی اپاہج یا معذور کو دیکھتے تو سجدہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3940
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ رَجُلٍ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا أَتَاهُ فَتْحُ الْيَمَامَةِ سَجَدَ".
ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یمامہ کی فتح کی خوشخبری آئی تو انہوں نے سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3941
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو مُوسَى يَعْنِي مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَقَالَ:" اطْلُبُوهُ، يَعْنِي الْمُخَدَّجَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ فَجَعَلَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ وَيَقُولُ: وَاللهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ سَاقَيْهِ فَسَجَدَ".
مالک بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں علی رضی اللہ عنہ کا ساتھی تھا، انہوں نے فرمایا: مخدج کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کو کہیں نہ پایا تو (علی رضی اللہ عنہ کی) پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میں جھٹلایا گیا، تو انہوں نے اس کو اس کی پنڈلیوں سے پکڑ کر نکالا، آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
798. -- بَابُ الْأُمُورِ الَّتِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهَا
-- وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3942
وَقَدْ بَيَّنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي.
اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں واضح فرما دیا ہے جو (بیان کی گئی ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3942]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3942
وَقَدْ بَيَّنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَاضِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک اور شخص بھی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جاؤ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تین بار فرمایا۔ اس شخص نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے بتلا دیں اور سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے صحیح یاد ہو پڑھ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کر، اس کے بعد سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 757»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْجَوَالِيقِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ لَهُ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَنْهُ مَا أَثْبَتَهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ ثَانِيًا:" ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا" وَلَمْ يَحْفَظْهُ ⦗٥٢١⦘ أَيْضًا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، عَنْ عَبْدَانَ، وَتِلْكَ زِيَادَةٌ مَحْفُوظَةٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد اس نے آ کر آپ کو سلام کہا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”لوٹ جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ لوٹ گیا اور نماز پڑھی پھر آیا اور سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی الفاظ فرمائے۔ جب تیسری بار آپ نے اسے واپس بھیجا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھلا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا: ”جب نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو پہلے اچھی طرح وضو کر لیا کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، اس کے بعد جو قرآن آسانی سے تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو جا، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر برابر ہو کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری مرتبہ یہ الفاظ نہیں ہیں: «ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا» ”پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرنے والا ہو جائے، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔“ ابوبکر اسماعیلی نے بھی عبدان سے یہ الفاظ محفوظ نہیں کیے، حالانکہ یہ اضافہ اس حدیث میں ابو اسامہ سے کئی سندوں سے محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 6251، أخرجه مسلم 397»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3944
وَرَوَاهُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَزَادَ فِي آخِرِهِ:" فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا أَنْقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ" وَقَالَ فِيهِ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ"، وَلَمْ يُثْبِتْ مَا أَثْبَتَهُ أَبُو أُسَامَةَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ فَذَكَرَهُ.
اس حدیث کو انس بن عیاض رحمہ اللہ نے عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”جب تو اس طرح نماز ادا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہو گی، اگر اس میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ تیری نماز میں کمی ہو گی۔“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر لیا کر۔“ اور انہوں نے وہ الفاظ ذکر نہیں کیے جو ابو اسامہ نے حدیث کے آخر میں ذکر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم بنجوه في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں