السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
793. -- باب: من قال يتشهد بعد سجدتي السهو ثم يسلم
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پھیرے
حدیث نمبر: 3897
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ بَعْدُ، ثُمَّ سَلَّمَ" تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ الْحُمْرَانِيُّ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَوُهَيْبٌ وَابْنُ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيُّ وَهُشَيْمٌ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْهُ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ فَذَكَرَ السَّلَامَ دُونَ التَّشَهُّدِ وَفِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ ذَكَرَ التَّشَهُّدَ قَبْلَ السَّجْدَتَيْنِ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى خَطَأِ أَشْعَثَ فِيمَا رَوَاهُ.
(ا) یہ حدیث دوسری سند سے بھی منقول ہے، اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز پڑھائی تو بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے، اس کے بعد تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے سلام کا ذکر کیا ہے، تشہد کا ذکر نہیں کیا اور ہشیم کی روایت میں سجدوں سے پہلے تشہد کا ذکر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں اشعث حمرانی منفرد ہیں۔ شعبہ، وہیب، ابن علیہ، ثقفی، ہشیم، حماد بن زید، یزید بن زریع وغیرہ نے یہ حدیث خالد حذاء سے روایت کی ہے اور ان میں سے کسی نے وہ بات ذکر نہیں کی جو اشعث نے محمد کے واسطے سے ان سے ذکر کی ہے، یہ اشعث کی روایت میں غلطی پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3897]
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے سلام کا ذکر کیا ہے، تشہد کا ذکر نہیں کیا اور ہشیم کی روایت میں سجدوں سے پہلے تشہد کا ذکر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں اشعث حمرانی منفرد ہیں۔ شعبہ، وہیب، ابن علیہ، ثقفی، ہشیم، حماد بن زید، یزید بن زریع وغیرہ نے یہ حدیث خالد حذاء سے روایت کی ہے اور ان میں سے کسی نے وہ بات ذکر نہیں کی جو اشعث نے محمد کے واسطے سے ان سے ذکر کی ہے، یہ اشعث کی روایت میں غلطی پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا أَبُو الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ: لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز تین رکعتیں پڑھائیں، ایک آدمی جسے سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے تو تین رکعتیں پڑھی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا واقعی ایسا ہی ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھائی، پھر سجدہ کیا، پھر تشہد پڑھی، سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔
ان الفاظ کے ساتھ یہی روایت صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3898]
ان الفاظ کے ساتھ یہی روایت صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث: «شاذ»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: فِيهِمَا تَشَهُّدٌ؟ يَعْنِي فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ، وَقَالَ قَتَادَةُ: لَا يَتَشَهَّدُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: وَالْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ فِي ذَلِكَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَإِنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ لَهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سہو کے سجدوں میں تشہد ہے؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو میں نے نہیں سنا لیکن تشہد پڑھنا میرے نزدیک محبوب ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ اور حسن رحمہ اللہ نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھا۔
(ج) قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔
(د) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3899]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ اور حسن رحمہ اللہ نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھا۔
(ج) قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔
(د) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ بَعْدَ أَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَلَا يُفْرَحُ بِمَا يَتَفَرَّدُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے سجدوں سے سر اٹھانے کے بعد تشہد پڑھی ہے۔
اس روایت کو شعبی سے بیان کرنے میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ منفرد ہیں اور جس روایت میں وہ منفرد ہوں اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3900]
اس روایت کو شعبی سے بیان کرنے میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ منفرد ہیں اور جس روایت میں وہ منفرد ہوں اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه الطبراني في الاوسط 8124»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3901
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِمَرْوَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ⦗٥٠١⦘ وَأَكْثَرَ أَظُنُّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ سَلَّمْتَ" وَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ وَمُخْتَلَفٌ فِي رَفَعِهِ وَمَتْنِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور تجھے تین، چار (رکعتوں) میں شک پڑ جائے اور تیرا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد پڑھ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کی حالت میں ہی دو سجدے کرے، پھر اسی طرح تشہد پڑھ اس کے بعد سلام پھیر۔“
یہ روایت قوی نہیں ہے اور اس کے مرفوع ہونے اور اس کے متن میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3901]
یہ روایت قوی نہیں ہے اور اس کے مرفوع ہونے اور اس کے متن میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
794. -- باب: الكلام في الصلاة
-- باب: نماز میں کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى ثنا أَبُو قِلَابَةَ يَعْنِي الرَّقَاشِيَّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنَ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تُرَدُّ عَلَيْنَا، قَالَ:" كَفَى بِالصَّلَاةِ شُغُلًا" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے۔ جب ہم ہجرت حبشہ سے واپس آئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، اب نہیں دے رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1199۔ 1216۔ 3875»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ." وَقَدْ مَضَى فِي ذَلِكَ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَذَلِكَ كُلُّهُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى الْعَمْدِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو بھی ہم انہیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ جانے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلام کرنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3903]
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحميدي 94»
الحكم على الحديث: حسن
795. -- باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو
-- باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3904
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ ⦗٥٠٢⦘ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح قَالَ: وَثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقُلْ: ابْنِ أَبِي تَمِيمَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوسری دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا اس سے نسبتاً لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ بھی ویسے ہی کیا، پھر سر اٹھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 482»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَنَسَ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَأَوْمَئُوا أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ" قَالَ: فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ" سَلَّمَ فِي السَّهْوِ؟ فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَلَمْ يَبْلُغْنَا إِلَّا مِنْ جِهَةِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ.
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز ظہر یا عصر پڑھائی، لیکن ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ لکڑی کے اوپر رکھ دیے۔ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے عیاں تھا۔ جلدی نکلنے والے لوگ یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے کہ ”نماز کم ہوگئی، نماز کم ہوگئی“۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا گئے۔ ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے نام سے پکارا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا کہ نماز کم ہوگئی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھول گیا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے“۔ اس نے کہا: ”نہیں آپ بھول گئے ہیں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا ذوالیدین (رضی اللہ عنہ) ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے اشارہ کیا: ”جی ہاں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ واپس تشریف لائے باقی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر ویسا ہی سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: کیا سجدہ سہو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا؟ انھوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوگوں نے اشارہ کیا“ کے الفاظ صرف حماد بن زید نے ذکر کیے ہیں۔ یہ الفاظ ہم تک صرف ابوداؤد عن محمد بن عبید عن حماد بن زید کے طریق سے پہنچے ہیں اور یہ سب ثقہ ائمہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3905]
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: کیا سجدہ سہو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا؟ انھوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوگوں نے اشارہ کیا“ کے الفاظ صرف حماد بن زید نے ذکر کیے ہیں۔ یہ الفاظ ہم تک صرف ابوداؤد عن محمد بن عبید عن حماد بن زید کے طریق سے پہنچے ہیں اور یہ سب ثقہ ائمہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم غير مرة»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا ١٨٨٥ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" أَحَقٌّ مَا يَقُولُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" قَالَ شُعْبَةُ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ قِصَّةُ عُرْوَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ سچ کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کیں، اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3906]
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کیں، اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل قليل»
الحكم على الحديث: صحيح