🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
779. -- باب: من فكر في صلاته أو حدث نفسه بشيء لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کچھ سوچا یا اپنے دل میں کوئی بات کی تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ قَالَ:" ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ" ⦗٤٩٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ رَوْحٍ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي لَأَحْسِبُ جِزْيَةَ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَا قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ".
(ا) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھے اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر باہر نکلے اور لوگوں کے چہروں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنی تیزی سے نکل کر جانے پر تعجب اور حیرانگی کے آثار دیکھ کر فرمایا: ”مجھے نماز میں یاد آیا تھا کہ ہمارے پاس (سونے یا چاندی کی) ایک ڈلی تھی۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ ایک دن یا رات ہمارے پاس رہے۔ اب میں جا کر اس کو (راہ خدا میں) تقسیم کرنے کا حکم دے آیا ہوں۔“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کر لیا کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 15718۔ 18933»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
780. -- باب: من نظر في صلاته إلى ما يلهيه لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کسی غافل کرنے والی چیز کی طرف دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3871
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ:" شَغَلَتْنِي هَذِهِ الْأَعْلَامُ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِالْأَنْبَجَانِيِّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ:" فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي فِي صَلَاتِي".
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کناروں والے منقش جبے میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”اس جبے کے نشانوں نے مجھے غافل کیے رکھا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے موٹی چادر لا دو۔“
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے میری نماز سے غافل کیے رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 373»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3872
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" رُدُّوا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَكَادَ يَفْتِنُنِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ نَعْلَمْهُ سَجَدَ السَّهْوَ وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى حَائِطٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعْلَمْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْجُدَ لِلسَّهْوِ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شامی چادر تحفے میں دی، جس میں کچھ نشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”یہ چادر ابوجہم کو واپس کر دو، میں نے نماز میں اس کے نشانات کی طرف دیکھا قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3873
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ فَطَارَدَ بِشَيْءٍ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ صَدَقَةٌ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ".
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کبوتر اڑتا ہوا آیا (باغ گھنا ہونے کی وجہ سے) وہ بار بار آ جا رہا تھا اور نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔ انھیں اس بات نے تعجب میں ڈالا۔ کچھ وقت کے لیے ان کی نظر پرندے کے پیچھے لگ گئی، پھر جب واپس نماز کی طرف ان کا دھیان آیا تو انھیں یاد ہی نہ رہا کہ کتنی نماز پڑھی ہے؟ تو کہنے لگے: ”مجھے میرے اس مال (باغ) نے فتنے میں ڈالا ہے“، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے وہ واقعہ جو باغ میں ان کے ساتھ پیش آیا تھا، جس نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا تھا ذکر کیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو صدقہ کرتا ہوں، آپ اس میں جو چاہیں تصرف کریں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك في الموطا 222»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
781. -- باب: من نسي القنوت سجد للسهو قياسا على ما روينا فيمن قام من اثنتين فلم يجلس
-- باب: اس شخص کا بیان جو قنوت پڑھنا بھول جائے تو وہ سجدہ سہو کرے گا، اسے اس روایت پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے اس شخص کے بارے میں نقل کی ہے جو دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو گیا اور بیٹھا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3874
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِيمَنْ نَسِيَ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ:" عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ".
حسن بصری رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جو صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بھول جائے کہ اس پر سہو کے دو سجدے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 2/ 42/ 17»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3875
وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فِيمَنْ نَسِيَ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ".
جو صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بھول جائے اس کے بارے سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر سہو کے سجدے ضروری ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدار قطني 2/ / 14/18»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3876
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ الْقُنُوتَ فِي الْوِتْرِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" قَالَ سُفْيَانُ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهِ نَأْخُذُ.
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو وتر میں قنوت پڑھنا بھول جائے وہ سہو کے دو سجدے کرے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
782. -- باب: من لم ير السجود في ترك القنوت
-- باب: اس قول کا بیان جس نے قنوت چھوٹ جانے پر سجدہ (سہو) کو ضروری نہیں سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ".
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نہیں پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 3/ 472/ 15974»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3878
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي عَنِ الْقُنُوتِ فَقَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ فَعَلَهُ قَطُّ".
سیدنا ابو مالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے نہیں دیکھا کہ ان میں سے کسی نے کبھی قنوت پڑھی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3879
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَا:" صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ" وَقَدْ رُوِّينَا فِي بَابِ الْقُنُوتِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ أَنَّهُمْ قَنَتُوا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَشْهُورٌ عَنْ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَئِنْ تَرَكُوهُ فِي بَعْضِ الْأَحَايِينِ سَهْوًا أَوْ عَمْدًا دَلَّ ذَلِكَ عَلَى كَوْنِهِ غَيْرَ وَاجِبٍ، وَحِينَ لَمْ يَنْقُلْ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ لِذَلِكَ دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا سُجُودَ فِي السَّهْوِ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) اسود اور عمرو بن میمون رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔
(ب) قنوت کے باب میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ صحیح سند کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے، اگر ان لوگوں نے بعض حالات میں سہواً یا عمداً قنوت چھوڑ بھی دی تو یہ اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے سہو کے سجدے کیے ہوں، لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قنوت کے بھول جانے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4948»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں