🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
787. -- باب: المسبوق ببعض الصلاة يتم باقي صلاته ولا يسجد سجدتي السهو إذا لم يسه هو ولا الإمام
-- باب: جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے اور وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا جب کہ نہ وہ بھولا ہو اور نہ ہی امام بھولا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3887
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ:" انْتَهَيْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً فَذَهَبَ يَسْتَأْخِرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا بِهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک رکعت لوگوں کو پڑھا چکے تھے، آپ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے جو نماز (باجماعت) پا لی وہ پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی وہ بعد میں مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 82۔ 109»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3888
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهُمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ قَالَ: فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُونَ:" مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ.
(ا) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے تاخیر ہو گئی۔ پھر انہوں نے مکمل قصہ ذکر کیا۔ فرماتے ہیں: ہم (میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) لوگوں کے پاس پہنچے اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی نماز جاری رکھو“۔ پھر میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک رکعت پڑھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر مزید اضافہ (سجدہ سہو وغیرہ) نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کی ایک رکعت پائے اس پر سجدہ سہو ضروری ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتباع کے زیادہ لائق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
788. -- باب: سجود السهو في التطوع روي ذلك عن ابن عباس
-- باب: نفل نماز میں سجدہ سہو کا بیان، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ." ⦗٤٩٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اسے (نماز کے متعلق) شک میں مبتلا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت پیش آجائے تو وہ بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1232»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
789. -- باب: كيف يسجد للسهو إذا سجدهما قبل السلام
-- باب: سجدہ سہو کس طرح کرے جب وہ دونوں سجدے سلام سے پہلے کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُجَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ: الْأَسَدِيِّ وَلَا حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنَ رُمْحٍ.
سیدنا عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو بنی عبدالمطلب کے حلیف تھے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں بیٹھنا تھا لیکن بھول کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، ہر سجدے میں تکبیر کہتے اور باقی لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ دو سجدے کیے، یہ اس قعدہ کی جگہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 3813۔ 3814۔ 2835»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُجَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهَا عَنْ قُعُودٍ قَامَ عَنْهُ قَالَ: فَانْتَظَرْنَا سَلَامَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قعدہ کرنا بھول گئے اور کھڑے ہو گئے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، آپ نے سجدہ کیا، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا، پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
790. -- باب: كيف يسجد للسهو إذا سجدهما بعد السلام
-- باب: سجدہ سہو کس طرح کرے جب وہ دونوں سجدے سلام کے بعد کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: الظُّهْرَ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ غَضْبَانُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي النَّاسِ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ لَهُ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ" قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ⦗٤٩٨⦘ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے ظہر کا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ کے سامنے لگی ہوئی لکڑی کے پاس گئے اور اس پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں تھے، پھر جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے کہ نماز کم ہوگئی؟ نماز کم ہوگئی؟ چلے گئے۔ وہاں موجود لوگوں میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے، لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے“۔ اس نے کہا: تب آپ بھول گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالیدین نے سچ کہا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا۔
(ب) ایک روایت میں «وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ» ”اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ وہ عصر تھی“ کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 482۔ 1229»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
791. -- باب: من قال يكبر ثم يكبر ويسجد
-- باب: اس قول کا بیان کہ تکبیر کہے پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ:" كَبَّرَ وَسَجَدَ" تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامٍ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، ثُمَّ سَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، لَمْ يَحْفَظِ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى وَحَفِظَهُمَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ.
ذو الیدین کے قصہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔ ہشام بن حسان کا بیان ہے کہ آپ نے دو مرتبہ تکبیر کہی پھر سجدہ کیا۔
(ب) اس حدیث کو ہشام سے روایت کرنے میں حماد بن زید اکیلے ہیں اور سارے راوی ابن سیرین سے روایت کرتے ہیں۔ پھر سارے راوی ہشام بن حسان سے روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے پہلی تکبیر کو ذکر نہیں کیا، اکیلے حماد بن زید نے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه ابوداود 1008»

الحكم على الحديث: شاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
792. -- باب: من قال يسلم عن سجدتي السهو
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد سلام پھیرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3894
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرٍ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى جِذْعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ كَسُجُودِهِ الْأَوَّلِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ" قَالَ: مُحَمَّدٌ: وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی، یا تو ظہر کی نماز تھی یا عصر کی، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرنے کے بعد مسجد میں لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے میں تھے۔ جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی، نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں وہاں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نامی ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھایا۔
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا اور سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3892»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3895
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ. وَكَذَلِكَ، رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ خَالِدٍ.
(ا) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور کھڑے ہو کر حجرے میں تشریف لے گئے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں نکلے اور جو رکعت رہ گئی تھی وہ پڑھائی، پھر سہو کے دو سجدے کیے اور سلام پھیرا۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ حدیث اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہ گئی تھی پڑھائی، اس کے بعد سلام پھیرا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 887»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
793. -- باب: من قال يتشهد بعد سجدتي السهو ثم يسلم
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پھیرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه ابوداود 1039»

الحكم على الحديث: شاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں