🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
796. -- باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب
-- باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَحْرٍ الْخَشَّابُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ:" كَانَ إِسْلَامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ فِي آخِرِ الْأَمْرِ فَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِي صَلَاةٍ سَاهِيًا أَوْ جَاهِلًا مَضَتْ صَلَاتُهُ وَمَنْ تَكَلَّمَ مُتَعَمِّدًا اسْتَأْنَفَ الصَّلَاةَ" وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ لِي أَكْثَرَ مَا حَكَيْنَاهُ عَنْ غَيْرِهِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْأَحَادِيثِ وَفِيمَا رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ قَائِلٌ: أَفَذُو الْيَدَيْنِ الَّذِي رَوَيتُمْ عَنْهُ الْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ؟ قُلْتُ: لَا، عِمْرَانُ يُسَمِّيهِ الْخِرْبَاقَ وَيَقُولُ: قَصِيرُ الْيَدَيْنِ أَوْ مَدِيدُ الْيَدَيْنِ، وَالْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ ذُو الشِّمَالَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الَّذِي قُتِلَ بِبَدْرٍ هُوَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ مِنْ خُزَاعَةَ هَكَذَا ذَكَرَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ.
اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں اسلام لائے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ جو آدمی نماز میں بھول کر یا لاعلمی کی بنا پر کلام کرلے تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی اور جو جان بوجھ کر کلام کرے اسے نماز دوبارہ نئے سرے سے پڑھنا ہوگی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اکثر ان روایات کی طرف جو ہم نے دوسروں سے بیان کی ہیں، کتاب اختلاف الحدیث میں اشارہ کیا ہے اور اس بارے میں ہمیں جو روایات ان کے علاوہ سے منقول ہیں وہ آپ کے قول کی تائید کرتی ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہنے والا کہتا ہے: کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ وہ والا جس سے تم روایت کرتے ہو بدر میں شہید نہیں ہو گیا تھا؟ میں کہتا ہوں: نہیں! عمران رضی اللہ عنہ نے اس کا نام خرباق لیا ہے اور بیان کرتے ہیں کہ چھوٹے ہاتھوں والا یا لمبے ہاتھوں والا لیکن بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین رضی اللہ عنہ تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو بدر میں شہید ہوئے وہ ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ قبیلہ میں بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ اسی طرح عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ بْنِ غَبْشَانَ، مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ:" وَاسْتُشْهِدَ ⦗٥١٤⦘ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ رَجُلَانِ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ خُزَاعَةَ مِنْ بَنِي غَبْشَانَ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا عَقِبَ لَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا ذُو الْيَدَيْنِ الَّذِي أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْوِهِ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا ذَكَرَهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ.
(ا) عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ بن غبشان رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو خزاعہ سے بھی تھے اور بدر کے روز جو مسلمان شہید ہوئے ان میں بنو زہرہ بن کلاب کے بھی دو مرد شہید ہوئے، ان میں سے ایک عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دوسرے ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ کے بنو غبشان میں سے ان کے حلیف تھے۔ موسیٰ بن عقبہ نے اپنی مغازی میں اور محمد بن اسحاق بن یسار نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے، محمد کہتے ہیں: ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہے وہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے بھولنے کے بارے میں بتایا تھا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے، ہمارے شیخ ابو عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ - وَمُطَيْرٌ، حَاضِرٌ فَصَدَّقَهُ مُطَيْرٌ - قَالَ شُعَيْثٌ: يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَأَخْبَرَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ قَالَ:" مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ" ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَعَ وَثَارَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
شعیث اپنے والد مطیر سے کہتے ہیں: اے والد محترم! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی حشب مقام پر ملے تھے اور انہوں نے آپ کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی اور وہ عصر کی نماز تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے تو ذوالیدین، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور لوگ پھیل چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَبِنْدَارٌ، قَالُوا: ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَبُوهُ مَطِيرٌ حَاضِرٌ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا أَبَتِ، حَدَّثْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَشَيْخَا الصَّحِيحَيْنِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يُصَحِّحَا شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الرِّوَايَاتِ؛ لِمَا فِيهَا مِنْ هَذَا الْوَهْمِ الظَّاهِرِ وَكَانَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخْطَأَ فَإِنَّ ذَا الشِّمَالَيْنِ تَقَدَّمَ مَوْتُهُ وَلَمْ يُعَقِّبْ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ.
معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا: ”اے ابو جان! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی خشب مقام میں ملے تھے اور انہوں نے آپ کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زوالِ آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی، وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے سجدے کیے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ صحیحین کے شیخین بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔“
پس بیشک ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي حِينَ دَعَوْتُكَ؟ أَمَا سَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥١٦⦘ حَتَّى كِدْنَا أَنْ نَبْلُغَ بَابَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: نَسِيَ، فَذَكَّرْتُهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".
سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تھے اور میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے منع کیا کہ جب میں نے تجھے بلایا تو تم نہیں آئے؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔“ میں ضرور تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن میں سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا۔“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلتا رہا حتیٰ کہ ہم دروازے کے قریب پہنچنے والے تھے تو میں نے دل میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہوں گے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں بات کہی تھی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے) یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4474»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عَنْ وَقَالَ:" دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي" قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَوَابَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ لَمْ يُبْطِلْ صَلَاتَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَوْمَئُوا.
(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں: «قَالَ: دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا تھا مگر تم نے مجھے جواب نہیں دیا، انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا“ یعنی اس کے معنی میں روایت بیان کی۔
(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”وہ کیا کہہ رہا ہے؟“ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی، اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اشارہ کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
797. -- باب: سجود الشكر
-- باب: سجدہ شکر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3932
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْزَجَانِيُّ ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيدَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو جَعْفَرٍ الْقَمَّاطُ الْكُوفِيَّانِ قَالَا: ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْفُلَ خَالِدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَ خَالِدٍ أَحَبَّ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلْيُعَقِّبْ مَعَهُ قَالَ الْبَرَاءُ فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَّبَ مَعَهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ خَرَجُوا إِلَيْنَا فَصَلَّى بِنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَفَّنَا صَفًّا وَاحِدًا، ثُمَّ تَقَدَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا، فَكَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ" ⦗٥١٧⦘ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ صَدْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ، فَلَمْ يَسُقْهُ بِتَمَامِهِ، وَسُجُودُ الشُّكْرِ فِي تَمَامِ الْحَدِيثِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں اسلام کی دعوت دیں تو انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ”خالد رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیں اور ان کے ساتھ والوں کو بھی سوائے اس شخص کے جو خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو اور وہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ملنا پسند کرے تو اس کو ساتھ ملا لو۔“ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے، جب ہم لوگوں کے قریب پہنچنے لگے تو وہ ہماری طرف نکل آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم نے ایک ہی صف بنائی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان سے آگے نکلے اور ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا۔ ہمدان تو سارے کے سارے اسلام لے آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے اسلام لانے کی (خوشخبری) لکھ بھیجی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھا تو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا: «السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ» ”ہمدان پر سلام ہو، ہمدان پر سلام ہو۔“
(ب) اس حدیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکر تمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: حَتَّى كَمُلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ، يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، وَآذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبِيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلَيَّ فَرِحًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ، فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَيَّ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن کعب، جو کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے بیٹوں میں سے ان کا ہاتھ پکڑ کر چلانے والے تھے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا، وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا، اس وقت سے اب تک پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اپنے کسی گھر کی چھت پر تھا اور ایسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا کہ ﴿اپنی جان بھی تنگ پڑگئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی تھی﴾ [سورة التوبة: 118] کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک! تجھے خوش خبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آ چکی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ ہمیں خوش خبریاں دینے لگے اور میرے دو ساتھیوں کی طرف بھی گئے، میرے پاس ایک شخص خوش خبری لے کر پہنچا۔ قبیلہ اسلم کا ایک شخص دوڑ کر پہاڑ پر پہنچا اور گھوڑے کی آواز سے بھی تیز آواز آ رہی تھی۔ جب وہ شخص جس کی بشارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے جو پہنے ہوئے تھے دونوں اتار کر اس خوش خبری سنانے والے کو پہنا دیے۔ اللہ کی قسم! اس دن میں ان دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا، پھر میں نے عارضی طور پر کسی سے دو کپڑے لیے، انہیں پہن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4418»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (ح) قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالُوا كُلُّهُمْ: حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا آتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ سُرَّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشخبری آتی یا آپ کو کوئی خوشی ملتی تو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 2774»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3935
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَ نَزَلَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا قَالَ:" إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ لِرَبِّي سَاجِدًا شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ قُمْتُ فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخَرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ: أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ حَدَّثَنَا بِهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ.
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو جا رہے تھے۔ جب آپ عزور مقام پر پہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں کچھ دیر دعا و مناجات کی۔ پھر سجدے میں گر پڑے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے، پھر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہو گئے۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایک تہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی، میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا، جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر گیا۔ پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے رب سے اپنی امت کی خاطر سوال کیا تو اللہ نے مجھے ایک تہائی اور عطا فرما دیا، میں اپنے رب کے حضور شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 2775»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں