🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
795. -- باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو
-- باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا شَيْبَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ:" لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنَسَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ" قَالَ: وَحَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ سَابِقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ إِلَّا أَنَّهُ سَاقَ بَعْضَ الْحَدِيثِ دُونَ جَمِيعِهِ، قَالَ: وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ لَمْ يَحْفَظْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِنَّمَا حِفْظِهُمَا عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جُوشٍ، وَقَدْ حِفْظِهِمَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَمْ يَحْفَظْهُمَا الزُّهْرِيُّ لَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَا عَنْ جَمَاعَةٍ حَدَّثُوهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہو کر بولا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ میں بھولا ہوں“ تو وہ بولا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟“ صحابہ نے بتایا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ دو رکعتیں پڑھائیں۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ضمضم نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے سہو کے دو سجدوں کو یاد نہیں رکھا، انہوں نے یہ صرف ضمضم بن جوش سے یاد رکھے ہیں، جبکہ سعد بن ابراہیم نے انہیں ابوسلمہ سے یاد رکھا ہے، اور زہری نے انہیں نہ ابوسلمہ سے یاد رکھا اور نہ اس جماعت سے جنہوں نے انہیں یہ قصہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3907]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنَسَ" فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الشِّمَالَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ حِينَ لَقَاهُ النَّاسُ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ هَكَذَا وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِيمَا نَرَى، حَدِيثُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنِ الْبَاقِينَ مَوْصُولٌ، وَأَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَسْنَدَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْهُ عَنْ جَمَاعَتِهِمْ دُونَ رِوَايَتِهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَأَسْنَدَهُ مَعْمَرٌ عَنْهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ.
ایک دوسری سند سے یہ حدیث منقول ہے، اس میں ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالشمالین بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھولے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔“ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف مڑے اور پوچھا: ”کیا ذوالشمالین صحیح کہہ رہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باقی نماز مکمل کی اور دو سجدے نہیں کیے جو اس وقت کیے جاتے ہیں جب نماز میں شک پڑ جائے۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث اور عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
اس حدیث میں زہری پر اختلاف ہے۔ صالح بن کیسان نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور ہمارے خیال میں یہ سب سے صحیح روایت ہے؛ ان کی ابن ابی حثمہ سے روایت مرسل ہے اور باقیوں سے موصول ہے۔ مالک بن انس نے اسے زہری سے ابن ابی حثمہ، ابن مسیب اور ابوسلمہ کے واسطے سے مرسل بیان کیا ہے، یونس بن یزید نے اسے زہری سے ان سب کے واسطے سے متصل بیان کیا ہے سوائے ابن ابی حثمہ کی روایت کے، اور معمر نے اسے زہری سے ابوسلمہ اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ کے واسطے سے متصل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3909
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَسَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ فَانْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخُفِّفَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ: فَأَتَمَّ بِهُمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا فَرَغَ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُمْ ذَكَرُوا لَهُ سَجْدَتَيْهِ، وَقَدْ سَجَدَهُمَا حَتَّى أُخْبِرَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ، وَاخْتُلِفَ عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، تو ذو الشمالین بن عبد عمرو، جو بنی زہرہ کا حلیف تھا، نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں تخفیف کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! سچ کہہ رہا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں مکمل کروائیں جو رہ گئی تھیں۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کیے۔
(ج) یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ انہوں نے دو سجدوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وہ دو سجدے کیے ہیں اور ان سے انہی کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔
(د) محمد بن سیرین رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ، ابوسلمہ رحمہ اللہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے تھے۔
اس قصے کے بارے میں ابن ابی ذئب عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3909]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3910
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗٥٠٥⦘ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَانَ قَبْلُ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ السَّلَامِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا: کچھ نہ کچھ ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعتیں مکمل کیں اور سلام پھیرا، پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
(ب) ایک روایت میں ہے: «صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3911
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ:" مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَمَا نَسِيتُ" قَالَ: فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ:" أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو بھول گئے اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک شخص جسے ذوالیدین کہا جاتا تھا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسامہ حماد بن اسامہ منفرد ہیں اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3911]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، أنبأ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهِمَا، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
(ا) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر (اپنے گھر) چلے گئے۔ ایک شخص ان کی طرف کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے، وہ لمبے ہاتھوں والا تھا، بولا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی (جو رہ گئی تھی) پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں: «ثُمَّ دَخَلَ بِمَنْزِلِهِ» ”پھر وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے گھر میں داخل ہو گئے“، باقی اس کے ہم معنی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 574»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥٠٦⦘ صَلَّى يَوْمًا فَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا: وَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ.
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، ابھی ایک رکعت باقی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے، مسجد میں داخل ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہ رکعت پڑھائی۔ میں نے اس بارے میں لوگوں کو بتایا تو انہوں نے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، ہاں اگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان لوں گا۔ ایک دفعہ وہ شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: وہ رہا آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 6/401/27796»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ".
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر اٹھ کر چلے گئے تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر وہ رکعت مکمل کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان سکتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس سے وہ شخص گزرا تو میں نے کہا: یہ رہا وہ آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالنَّاسِ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ لِيَسْتَلِمَهُ فَنَظَرَ فَرَأَى الْقَوْمَ جُلُوسًا قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى صَلَّى لَنَا الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي فَوْرَتِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِيهًا، لِلَّهِ أَبُوكَ كَيْفَ صَنَعَ؟ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر وہ حجر اسود کا استلام کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے پیچھے دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ واپس آئے اور وہ باقی رکعت ہمیں پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اچھا بتاؤ، تمہارا بھلا ہو! انہوں نے کیسے کیا؟ میں نے وہ بات دہرائی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة 4504»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَزَادَ: فَسَبَّحْنَا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ؟" فَقُلْنَا بِرُءُوسِنَا سُبْحَانَ اللهِ، أَيْ: لَا وَلَمْ يَذْكُرِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَكْثَرَ مِنْ أَنْ قَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
دوسری سند سے اسی جیسی حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سبحان اللہ کہنے لگے تو انہوں نے ہماری طرف توجہ کی اور فرمایا: ”کیا ہم نے نماز مکمل نہیں کی؟“ ہم نے اپنے سروں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا یعنی مکمل نہیں کی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صرف اتنا ہی ذکر کیا: «مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں