🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
820. جماع أبواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره -- باب: إمامة الجنب
نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4082
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْقُهُسْتَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ قَالَ:" يُعِيدُ وَلَا يُعِيدُونَ" قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: تَعْلَمُ أَحَدَنَا قَالَ: يُعِيدُ وَيُعِيدُونَ غَيْرَ حَمَّادٍ فَقَالَ:" لَا".
ابراہیم رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق بیان فرماتے ہیں جو لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھا دیتا ہے کہ وہ خود تو نماز دہرائے گا، لیکن لوگ نہیں دہرائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
821. -- باب: طهارة البدن والثوب للصلاة
-- باب: نماز کے لیے بدن اور کپڑے کے پاک ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4083
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: 4] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قِيلَ: صَلِّ فِي ثِيَابٍ طَاهِرَةٍ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُغْسَلَ دَمُ الْمَحِيضِ مِنَ الثَّوْبِ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ ”اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔“ [سورة المدثر: 4]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک قول یہ ہے کہ پاک کپڑوں میں نماز پڑھو، اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی کہے گئے ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے حیض کا خون دھونے کا حکم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q4083]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4083
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ:" تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ہم میں سے کسی کے کپڑوں پر حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھرچ لے، پھر پانی کے ساتھ صاف کرے، پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس میں نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطأ امام مالك 166»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4084
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُرَوِّعِ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي مُسْتَحَاضَةٌ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الصَّحِيحِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں استحاضہ والی ہوں اور پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض ختم ہوجائے تو اپنے خون کو دھو لے اور نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 226، مسلم 333»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4085
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ وَأَبُو ⦗٥٦٣⦘ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ قَالَا: ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" هُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَجُرِحَ وَجْهُهُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهَا بِالْمَاءِ فِي مِجَنَّةٍ، فَلَمَّا أَصَابَ الْجُرْحَ الْمَاءُ كَثُرَ دَمُهُ فَلَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ حَتَّى أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ وَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ جَعَلَتْهُ عَلَى الْجُرْحِ فَرَقَأَ الدَّمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَسْكَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کا خود توڑ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رباعی دانت شہید ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا۔
(ب) ابو حازم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ جب زخم کو پانی لگا تو خون رکا نہیں بلکہ زیادہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اس کو جلا کر راکھ بنایا، پھر اس راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2754، مسلم 1790»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
822. -- باب: من صلى وفي ثوبه أو نعله أذى أو خبث لم يعلم به، ثم علم به
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ فَصَلَّى النَّاسُ فِي نِعَالِهِمْ، ثُمَّ أَلْقَى نَعْلَيْهِ فَأَلْقَى النَّاسُ نِعَالَهُمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ:" مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ فِي الصَّلَاةِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْنَا فَقَالَ:" إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا أَذًى، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ أَذًى وَإِلَّا فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی اور لوگوں نے بھی اپنے جوتوں میں ہی نماز پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے نماز کی حالت میں ہی اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”نماز کی حالت میں کس چیز نے تمہیں جوتے اتارنے پر ابھارا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو (ایسا) کرتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی ویسا ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ اس میں گندگی ہے، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے دیکھنا چاہیے، اگر تو وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو اتار دے، ورنہ جوتوں میں ہی نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 11467، ابن حبان 2185»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4087
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا قَالَ:" إِنَّ جَبْرَائِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا خَبَثًا، فَإِنْ وَجَدَ خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا" هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَبْدِ رَبِّهِ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ مَحْفُوظٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی کہ جوتوں میں گندگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو جوتوں کو الٹ پلٹ کر ان میں گندگی دیکھ لے، اگر ان میں گندگی ہو تو زمین کے ساتھ انہیں رگڑ لے، پھر ان میں نماز پڑھے۔“
یہ حدیث حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ عبد ربہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے معروف ہے۔ یہ حجاج بن حجاج عن ابی عامر خزاز عن ابی نعامہ کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہے، اور ایک دوسری غیر محفوظ سند سے ایوب سختیانی عن ابی نضرہ بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حواله مذكوره»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4088
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ الشَّافِعِيُّ بِمَكَّةَ ثنا عَمِّي، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ، ثُمَّ خَلَعَهُمَا، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ جَبْرَائِيلَ جَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جِئْتُمُ الْمَسْجِدَ فَانْظُرُوا فِي نِعَالِكُمْ فَمَنْ وَجَدَ شَيْئًا فَلْيَحُكَّهُ" وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: وَقَالَ:" قَذَرًا" وَلَمْ يَقُلْ: خَبَثًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی، پھر ان کو اتار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے خبر دی کہ ان میں گندگی ہے، جب تم مسجد میں آؤ تو اپنے جوتوں کو دیکھ لیا کرو، اگر کوئی چیز لگی ہو تو اسے صاف کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ حواله مذكوره»

الحكم على الحديث: منكر الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4089
أنبأ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنَبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي فِي رِدَائِهِ وَفِيهِ دَمٌ فَأَتَاهُ نَافِعٌ فَنَزَعَ عَنْهُ رِدَاءَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ رِدَاءَهُ وَمَضَى فِي صَلَاتِهِ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خون آلود چادر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ نافع رحمہ اللہ آئے اور ان سے چادر اتار کر اپنی چادر ان کے اوپر ڈال دی اور وہ نماز میں مصروف رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4090
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي رَأَى فِي ثَوْبِهِ دَمًا فَانْصَرَفَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوهُ بِمَاءٍ فَغَسَلَهُ، ثُمَّ أَتَمَّ مَا بَقِيَ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ يُعِدْ" قَالَ الشَّيْخُ: وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ رَحِمَهُ اللهُ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي مَعْنَى مَا رُوِّينَا، ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ وَقَالَ: أَعَادَ الصَّلَاةَ وَكَانَ عَالِمًا بِمَا كَانَ فِي ثَوْبِهِ أَوْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا كَهَيْئَتِهِ فِي الْوُضُوءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَأَبِي قِلَابَةَ وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ رَغِبَ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ لِاشْتِهَارِهِ بَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَكَذَلِكَ لَمْ يَحْتَجَّ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَمْ يُخْرِجُهُ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِهِ مَعَ احْتِجَاجِهِ بِهِمْ فِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَيُحْتَمَلُ ⦗٥٦٥⦘ أَنْ يَكُونَ رَغِبَ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَ إِعْلَامَ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِيَّاهُ بِذَلِكَ ابْتِدَاءَ شَرْعٍ أَوْ حَمَلَ الْأَذَى الْمَذْكُورَ عَنْهُ عَلَى مَا يُسْتَقْذَرُ مِنَ الطَّهَارَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَمِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الرَّاعِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو حَمْزَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْهُ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَوَاهُ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ تَرَكُوهُ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَعَبَّادٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ.
سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے اپنے کپڑوں میں خون دیکھا تو نماز کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف اشارہ کیا، وہ پانی لے کر آئے، انہوں نے کپڑے کو دھویا اور باقی نماز مکمل کی اور نماز کو دوبارہ نہیں لوٹایا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہی ہے؛ کیونکہ انہوں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات سے دلیل لی ہے، لیکن بعد میں رجوع کر لیا، فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا اسے پہلے سے اپنے کپڑوں میں (ناپاکی کا) علم ہو یا نہ ہو، جیسے وضو کا حکم ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی حسن بصری اور ابوقلابہ کا قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس لیے اعراض کیا کہ وہ حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے مشہور ہے اور ان میں سے ہر ایک کی عدالت میں اختلاف ہے، اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان میں سے کسی سے دلیل نہیں لی اور امام مسلم نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا، حالانکہ وہ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں ان سے دلیل لیتے ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اس سے اس لیے اعراض کیا ہو کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دینے کو ایک نئے حکم کا آغاز سمجھا، یا اس میں مذکور گندگی کو ایسی پاک چیز پر محمول کیا جس سے گھن آتی ہو۔ واللہ اعلم۔ یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل مروی ہے، اور ابن مسعود، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے موصول بھی مروی ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف ابوحمزہ راعی نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے اور ابوحمزہ قابلِ حجت نہیں، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو صرف فرات بن سائب نے میمون بن مہران سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور فرات بن سائب کو محدثین نے ترک کر دیا ہے؛ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف عباد بن کثیر نے روایت کیا ہے اور عباد قابلِ حجت نہیں، البتہ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے مروی ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (بخاري، معلّق) باب من لم ير الوضوء الامن المخرصين من القبل والدبر»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں