السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
829. -- باب: ما يستحب من استعمال ما يزيل الأثر مع الماء في غسل الدم
-- باب: خون دھونے میں پانی کے ساتھ داغ مٹانے والی چیز کے استعمال کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4111
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي كِتَابِي، وَقَالَ غَيْرُهُ آمِنَةُ بِنْتُ أَبِي ⦗٥٧١⦘ الصَّلْتِ وَهُوَ الصَّوَابُ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ فِي وَجْهِكَ هَذَا إِلَى خَيْبَرَ فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى بَرَكَةِ اللهِ" فَخَرَجْنَا مَعَهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدَثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقِيبَةَ رَحْلِهِ فَنَزَلَ إِلَى الصُّبْحِ وَنَزَلْتُ فَإِذَا عَلَى الْحَقِيبَةِ دَمٌ مِنِّي، وَذَلِكَ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى بِيَ الدَّمَ قَالَ:" لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، فَاغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ وَاغْتَسِلِي، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكِبِكِ" فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَتِهَا إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ".
بنی غفار کی ایک عورت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ خیبر جانا چاہتی ہیں تاکہ زخمیوں کو دوا دیں اور اپنی طاقت کے مطابق مسلمانوں کی مدد کریں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلیں اور میں جوان تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے تھیلے یا سامان پر سوار کر لیا۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا، سواری سے اترے، میں بھی سواری سے اترنے لگی تو میں نے سامان پر خون محسوس کیا، یہ میرا پہلا حیض تھا۔ میں سواری پر بیٹھی رہی اور شرم محسوس کر رہی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کو دیکھا تو فرمانے لگے: ”شاید تو حائضہ ہو گئی ہے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی درستگی کرو اور پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ملا لو۔ اس کے ذریعے سامان والا تھیلہ دھو ڈال اور خود بھی غسل کر لے، پھر اپنی سواری پر لوٹ جا۔“ چنانچہ جب بھی ان کو حیض آتا تو وہ پانی اور نمک کے ساتھ طہارت حاصل کرتیں، انہوں نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد غسل بھی نمک اور پانی کو ملا کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 6/380»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4112
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَدْ سَمَّاهَا لِي، قَالَتْ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" وَاغْتَسِلِي".
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4112]
حدیث نمبر: 4113
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ، قَالَتْ:" تَغْسِلُهُ فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، وَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا".
سیدہ معاذہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کا خون کپڑے کو لگ جانے کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اسے دھو لیا کر، اگر خون کے نشانات زائل نہ ہوں تو اسے زرد رنگ سے تبدیل کر لیا کرو۔“ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھے مسلسل تین مرتبہ حیض آتا اور میں (اس دوران) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 6/250»
الحكم على الحديث: ضعيف
830. -- باب: ذكر البيان أن الدم إذا بقي أثره في الثوب بعد الغسل لم يضر
-- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ اگر دھونے کے بعد بھی کپڑے پر خون کا نشان باقی رہ جائے تو وہ نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 4114
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، ⦗٥٧٢⦘ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الدَّمِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، وَقَالَ بِشْرٌ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ:" أَرَأَيْتِ الثَّوْبَ يُصِيبُهُ الدَّمُ فَأَغْسِلُهُ فَلَا يَذْهَبُ أَثَرُهُ" فَقَالَتْ:" الْمَاءُ طَهُورٌ".
معاذہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑوں پر لگے ہوئے خون کے بارے میں سوال کیا، اور بشر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر کپڑوں سے خون صاف کر کے بھی نشانات ختم نہ ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پانی پاکیزگی کا باعث ہے یا فرمایا: پانی پاک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الدارمي 1012»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4115
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ" دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ فَيُغْسَلُ فَيَبْقَى أَثَرُهُ، فَقَالَتْ:" لَيْسَ بِشَيْءٍ" وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ.
سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ حیض کا خون کپڑوں کو لگ جاتا ہے اور دھونے سے بھی نشانات ختم نہیں ہوتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
یہ (بات) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دو ضعیف سندوں کے ساتھ مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4115]
یہ (بات) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دو ضعیف سندوں کے ساتھ مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4116
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ مِنَ الثَّوْبِ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے اگر کپڑوں سے خون نہ نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے پانی کافی ہے، اس کا اثر تجھے نقصان نہ دے گا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4116]
اس روایت کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4117
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ:" إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي ثَوْبَكِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ مِنَ الثَّوْبِ؟ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاؤں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو پاک ہو جائے تو اپنا کپڑا دھو لیا کر، پھر اس میں نماز پڑھ۔“ عرض کیا: اگر کپڑے سے خون کا اثر زائل نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے پانی کافی ہے، خون کے اثرات نقصان نہیں دیں گے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4117]
اس روایت کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4118
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ نِمَارٍ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحِيضُ وَلَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَيُصِيبُهُ الدَّمُ قَالَ:" اغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، يَبْقَى أَثَرُهُ قَالَ:" لَا يَضُرُّ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ غَيْرُهُ أَوْثَقُ مِنْهُ وَلَمْ يَسْمَعْ خَوْلَةَ بِنْتَ نِمَارٍ أَوْ يَسَارٍ إِلَّا فِي هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ.
حضرت خولہ بنت نمار رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاتی ہوں اور اس کو خون لگ جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دھو اور اس میں نماز پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میں خون کے نشانات باقی رہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
ابوبکر کہتے ہیں کہ ابراہیم حربی نے کہا: وازع بن نافع سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور اس نے خولہ بنت نمار (یا یسار) سے صرف انہی دو حدیثوں میں سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4118]
ابوبکر کہتے ہیں کہ ابراہیم حربی نے کہا: وازع بن نافع سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور اس نے خولہ بنت نمار (یا یسار) سے صرف انہی دو حدیثوں میں سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الطبراني في الكبير 615»
الحكم على الحديث: ضعيف
831. -- باب: صلاة الرجل في ثوب الحائض
-- باب: مرد کا حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4119
أنبأ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَكِيعٍ، وَقَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ وَكِيعٌ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ وَبَعْضُهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی اور میں حائضہ تھی۔ میرے اوپر ایک چادر تھی جس کا بعض حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 514»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4120
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، يُحَدِّثُهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ مِنْهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَيْهِ".
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک چادر تھی اس کا کچھ حصہ آپ کی اہلیہ محترمہ پر تھا اور وہ حائضہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 369، ابن ماجه 619»
الحكم على الحديث: صحيح