السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
878. -- باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر
-- باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
حدیث نمبر: 4360
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاجِبٍ، ثنا سَخْتَوَيْهِ بْنُ مَازْيَارَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَيَّانَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْغَنَمَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ فَامْسَحُوا رُغَامَهَا وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا" ⦗٦٣١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَرَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِهَا، يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ مُرَاحِهَا الَّذِي لَا بَعْرَ وَلَا بَوْلَ فِيهِ قَالَ: وَأَكْرَهُ لَهُ الصَّلَاةَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا قَذَرٌ؛ لِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ صَلَّى أَجْزَأَهُ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَمَرَّ بِهِ شَيْطَانٌ فَخَنَقَهُ حَتَّى وَجَدَ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِهِ وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ صَلَاتَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریاں جنتی جانوروں میں سے ہیں، ان کے ناک کی بلغم صاف کر دیا کرو اور ان کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، یعنی واللہ اعلم اس جگہ میں جس پر ان کے باڑے کا نام بولا جاتا ہو اور اس میں نہ مینگنیاں ہوں نہ پیشاب۔ اور فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہو جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شیطان گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4360]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، یعنی واللہ اعلم اس جگہ میں جس پر ان کے باڑے کا نام بولا جاتا ہو اور اس میں نہ مینگنیاں ہوں نہ پیشاب۔ اور فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہو جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شیطان گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4361
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدِيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِيَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَارْتُبِطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وَلَدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" وَقَدْ مَضَى مَعْنَى هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرض نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ ملایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں کوئی نئی چیز آئی ہے یعنی حکم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی، میں نے اس کی گردن دبا دی تو اس کی زبان کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ میں محسوس کی۔ اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا سبقت نہ لے جا چکی ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور صبح مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عبدالرزاق 2338، احمد 20495»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4362
وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو سترہ بنا کر نماز پڑھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 430، مسلم 502»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4363
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَخْبَرَنِي الْمَنْيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّ الْمَنِيعِيَّ قَالَ: إِلَى بَعِيرِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَهَذَا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَلَاةً فِي مَوْضِعِ الْإِبِلِ فَهِيَ صَلَاةٌ قُرْبَ الْإِبِلِ، ثُمَّ كَانَتْ جَائِزَةً لِطَهَارَةِ الْمَكَانِ، كَمَا كَرِهَ الصَّلَاةَ قُرْبَ الشَّيْطَانِ فِي خَبَرٍ آخَرَ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَخَنَقَهُ وَلَمْ يُفْسِدْ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اگرچہ یہ نماز اونٹوں کے باڑے میں نہیں، لیکن اونٹ کے قریب ہے، پھر بھی یہ جگہ کے پاک ہونے کی وجہ سے جائز تھی، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں شیطان کے قریب نماز پڑھنے کو ناپسند کیا گیا ہے، لیکن جب شیطان حالتِ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز باطل نہیں ہوئی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
879. -- باب: من كره الصلاة في موضع الخسف، والعذاب
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے دھنسائے جانے اور عذاب کی جگہ پر نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4364
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ، وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بابل شہر کے پاس سے گزر رہے تھے تو موذن نے آ کر عصر کی نماز کی اطلاع دی، جب وہ وہاں سے گزر گئے تب موذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا کہ قبرستان اور بابل کی زمین میں نماز پڑھوں کیونکہ اس زمین پر لعنت کی گئی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 490-491»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4365
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ:" فَلَمَّا خَرَجَ مِنْهَا.." مَكَانَ:" لَمَّا بَرَزَ.." وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُحِلٍّ الْعَامِرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ" فَمَرَّ بِنَا عَلَى الْخَسْفِ الَّذِي بِبَابِلَ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَجَازَهُ" وَعَنْ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا كُنْتُ لِأُصَلِّيَ فِي أَرْضٍ خَسَفَ اللهُ بِهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" وَهَذَا النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا، إِنْ ثَبَتَ مَرْفُوعًا، لَيْسَ لِمَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَوْ صَلَّى فِيهَا لَمْ يُعِدْ، وَإِنَّمَا هُوَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن ابی محل عامری فرماتے ہیں کہ ہم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمارا گزر بابل کی دھنسائی گئی زمین کے پاس سے ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔
(ب) حجر حضرمی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں اس جگہ نماز نہیں پڑھتا جس کو اللہ نے تین بار دھنسا دیا ہو۔
اس جگہ نماز کی یہ ممانعت اگر مرفوعاً ثابت ہو تو یہ کسی ایسی وجہ سے نہیں جس کا تعلق نماز سے ہو، لہٰذا اگر کوئی وہاں نماز پڑھ لے تو اسے دہرائے گا نہیں، بلکہ واللہ اعلم یہ اس وجہ سے ہے جو اگلی روایت میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4365]
(ب) حجر حضرمی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں اس جگہ نماز نہیں پڑھتا جس کو اللہ نے تین بار دھنسا دیا ہو۔
اس جگہ نماز کی یہ ممانعت اگر مرفوعاً ثابت ہو تو یہ کسی ایسی وجہ سے نہیں جس کا تعلق نماز سے ہو، لہٰذا اگر کوئی وہاں نماز پڑھ لے تو اسے دہرائے گا نہیں، بلکہ واللہ اعلم یہ اس وجہ سے ہے جو اگلی روایت میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4366
كَمَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، يَعْنِي أَصْحَابَ ثَمُودَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قوم ثمود کی بستیوں میں داخل نہ ہوا کرو، ہاں مگر روتے ہوئے گزر جاؤ۔ اگر تم نہ روئے تو مجھے ڈر ہے جیسا عذاب ان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 2980»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4367
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، يَعْنِي الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا گزر ان قوموں سے نہ ہو جن کو عذاب دیا گیا البتہ تم روتے ہوئے گزر جاؤ، اگر تم روئے نہیں تو ان کی بستیوں کے پاس سے نہ گزرنا، کہیں وہ عذاب جو ان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4367]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4368
أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَحْمَدَ الزَّوْزَنِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الدَّبَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ:" لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَهُمْ" ثُمَّ قَنَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ الْوَادِيَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَأَحَبَّ الْخُرُوجَ مِنْ تِلْكَ الْمَسَاكِنِ، وَكَرِهَ الْمُقَامَ بِهَا إِلَّا بَاكِيًا فَدَخَلَ فِي ذَلِكَ الْمُقَامُ لِلصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: «لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَهُمْ» ”تم ان لوگوں کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، لیکن روتے ہوئے کہیں جو عذاب ان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور تیز چلے یہاں تک کہ وادی سے گزر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
880. جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع -- باب: النهي عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب الشمس
ان اوقات سے متعلق ابواب کا جامع بیان جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے -- باب: فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: Q4369
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.
یہ باب فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک، اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے کی ممانعت کے بیان میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q4369]