السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
875. -- باب: المسلم يبيت في المسجد
-- باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4340
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتُمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذَا أَبِيتَ، فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا تُرَابٍ، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟" فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي، ⦗٦٢٦⦘ فَخَرَجَ وَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ:" انْظُرْ أَيْنَ هُوَ" فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ:" قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کو بلا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ ابو تراب پر لعنت کرے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا، جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو وہ بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ کیوں رکھا گیا؟ فرمانے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تیرے چچا کا بیٹا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟“ فرمانے لگیں: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بندے سے فرمایا: ”دیکھو وہ کہاں ہیں؟“ اس بندے نے آ کر جواب دیا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4340]
تخریج الحدیث: «بخاري 3703، مسلم 2409»
الحكم على الحديث: بخاري 3703، مسلم 2409
حدیث نمبر: 4341
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، ثنا يُونُسُ، أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ يَقِيلُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَى بِجَنْبِهِ، فَيَقُولُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَ يُونُسُ بِإِصْبَعِهِ وَحَرَّكَ أَبُو بَكْرٍ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ" قُلْتُ لِيُونُسَ: ابْنُ كَمْ كَانَ الْحَسَنُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ:" ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَتِهِمُ النَّوْمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَكَأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْكَنًا أَنْ لَا يَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِيهِ.
حسن بصری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوتے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے: یہ ہیں امیر المؤمنین۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے، پھر مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے ایسی روایات منقول ہیں جو ان کے مسجد میں سونے کو ناپسند کرنے پر دلالت کرتی ہیں، گویا انہوں نے یہ پسند کیا کہ جس کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو وہ مسجد میں سونے کا قصد نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4341]
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے، پھر مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے ایسی روایات منقول ہیں جو ان کے مسجد میں سونے کو ناپسند کرنے پر دلالت کرتی ہیں، گویا انہوں نے یہ پسند کیا کہ جس کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو وہ مسجد میں سونے کا قصد نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4342
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ بِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جس غرض سے مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث: «ابوداؤد 472»
الحكم على الحديث: ابوداؤد 472
876. -- باب: كراهية إنشاد الضالة في المسجد، وغير ذلك مما لا يليق بالمسجد
-- باب: مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے اور دیگر ایسے کاموں کی کراہت کا بیان جو مسجد کے لائق نہیں ہیں
حدیث نمبر: 4343
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ وَأنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حَيْوَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللهُ إِلَيْكَ، إِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ" لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا" ⦗٦٢٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ تیری چیز واپس نہ کرے؛ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔“
(ب) ابن وہب کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ تیری چیز واپس نہ لوٹائے، مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جاتیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4343]
(ب) ابن وہب کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ تیری چیز واپس نہ لوٹائے، مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جاتیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 9161-8382»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4344
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ.
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سرخ اونٹ کے بارے میں اعلان کرتے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہ پائے، مسجدیں تو جس غرض سے بنائی گئیں اسی کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4344]
تخریج الحدیث: «مسلم 569، ابن خزيمه 1301»
الحكم على الحديث: مسلم 569، ابن خزيمه 1301
حدیث نمبر: 4345
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہہ دو: «لَا أَرْبَحَ اللّٰهُ تِجَارَتَكَ» ”اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے“ اور جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ گم شدہ چیز کا مسجد میں اعلان کر رہا ہے تو کہہ دو: «لَا رَدَّ اللّٰهُ عَلَيْكَ ضَالَّتَكَ» ”اللہ تیری چیز تجھے واپس نہ کرے۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ترمذي 1321، ابن حبان 1650»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4346
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ:" كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ فرمانے لگے: جاؤ ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آؤ، میں لے کر آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم دونوں کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا، تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز کو بلند کر رہے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4346]
تخریج الحدیث: «صحيح 470»
الحكم على الحديث: صحيح 470
حدیث نمبر: 4347
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ" نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ".
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع کیا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4347]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ترمذي 322، نسائي 714»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4348
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَنَّائِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ زَادَ" نَهْيَهُ عَنْ تَعْرِيفِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ".
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں اور کچھ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ ”مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور خرید و فروخت سے“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4349
وَقَدْ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: ⦗٦٢٨⦘ أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَحَظَهُ، فَقَالَ: أَفِي الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ:" وَاللهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" قَالَ: فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَ وَتَرَكَهُ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو ان کو تیز نظروں سے دیکھا اور فرمایا: کیا مسجد میں؟ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر موجود تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ڈرے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ لگا دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دی اور چھوڑ دیا۔۔۔
(ب) سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، ان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری جانب سے قریش کو جواب دو، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔“
(ج) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4349]
(ب) سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، ان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری جانب سے قریش کو جواب دو، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔“
(ج) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3040، مسلم 2484»
الحكم على الحديث: صحيح