السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
425. -- باب: كراهية تأخير المغرب
-- باب: مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانُ النَّجَّادُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي هَارُونُ يَعْنِي ابْنَ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ أَنَّ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوِا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت ہمیشہ فطرت (سلیمہ) پر ہی رہے گی، جب تک یہ مغرب کی نماز ستاروں کے نکلنے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 3/449»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" وَقَدْ رَوِّينَا فِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ.
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت اس وقت تک فطرت (سلیمہ) پر قائم رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے تک مؤخر نہیں کرے گی۔“
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے والے بعض لوگوں نے اس (اگلی) روایت سے دلیل پکڑی ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2109]
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے والے بعض لوگوں نے اس (اگلی) روایت سے دلیل پکڑی ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود 418»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2110
بِمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا أُوفِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ" قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ عَنِ الشَّاهِدِ فَقَالَ: هُوَ النَّجْمُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ وَلَا يَجُوزُ تَرْكُ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ بِهَذَا وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ بِهَذَا نَفْيُ التَّطَوُّعِ بَعْدَهَا لَا بَيَانُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ.
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مخمص مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نماز (عصر) تم سے پہلے والی امتوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو ضائع کر دیا؛ لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی اس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور اس کے بعد شاہد ستارہ طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔“
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2110]
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 292»
الحكم على الحديث: صحيح
426. -- باب: من قال بتعجيل العشاء
-- باب: جس نے عشاء کی نماز جلدی ادا کرنے کا قول کیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ⦗٦٥٩⦘ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ" وَسَائِرُ مَا رُوِيَ فِي التَّعْجِيلِ بِالصَّلَوَاتِ عَلَى الْعُمُومِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
(ا) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ عشاء کی نماز کا وقت کب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گزر چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2111]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گزر چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 165»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2112
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ثنا رَوْحٌ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ:" أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَكَانَ أَمْكَنَ لِقَائِمِنَا" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُنَادِي: لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
(ا) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو راتوں تک عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اس نماز کو جلدی پڑھا دیا کریں تو ہم زیادہ دیر قیام کر سکتے ہیں۔
(ب) ابن منادی کی روایت میں «أَمْكَنُ لِقِيَامِنَا» کی جگہ «أَمْثَلُ لِقِيَامِنَا» کے الفاظ ہیں ”کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا“۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی نماز پڑھاتے تھے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن زید بن جدعان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2112]
(ب) ابن منادی کی روایت میں «أَمْكَنُ لِقِيَامِنَا» کی جگہ «أَمْثَلُ لِقِيَامِنَا» کے الفاظ ہیں ”کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا“۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی نماز پڑھاتے تھے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن زید بن جدعان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 5/ 42»
الحكم على الحديث: ضعيف
427. -- باب: من قال بتعجيلها إذا اجتمع الناس
-- باب: جس نے لوگوں کے جمع ہو جانے پر اسے جلدی ادا کرنے کا قول کیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرًا عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کو ادا کرتے تھے اور عصر جب سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب جب سورج غروب ہو جاتا اور عشا کی نماز جب لوگ زیادہ ہو جاتے تو جلدی پڑھا دیتے اور جب لوگ کم ہوتے تو تاخیر سے پڑھتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «مضٰي تخريجه في الحديث 2044»
الحكم على الحديث: مضٰي تخريجه في الحديث 2044
428. -- باب: من استحب تأخيرها
-- باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةُ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ" قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى فِرْقِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يَقْصُرُ وَلَا يَبْطُشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ ذَلِكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ عَطَاءٌ: فَأَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ تُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤْخِرَةً كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسْطَةً لَا مُعَجَّلَةً وَلَا مُؤْخِرَةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ هَكَذَا وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عبدالرزاق فرماتے ہیں: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا: آپ کے نزدیک عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے؟ وہ فرمانے لگے: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہو گئے پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔“ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کر لیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا: اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کتنی دیر تک مؤخر کی تھی؟ انھوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے: میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2114]
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا: اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کتنی دیر تک مؤخر کی تھی؟ انھوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے: میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ⦗٦٦١⦘ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنِ الصَّلَاةِ لَيْلَةً فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا دھیان نہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نہ نکلے اور ہم بیٹھے بیٹھے سوتے جاگتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنِي جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا لَيْلَةً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ:" إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ" قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ کسی بھی دین و ملت والا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میں اپنی امت پر اس کو بھاری نہ سمجھتا تو میں اس وقت ان کو نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 639»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَمْ يَقُلْ بِالْعَشَاءِ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی حتیٰ کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور مسجد والے بھی سو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”یہ اس نماز کا افضل وقت ہے، اگر یہ میری امت پر گراں نہ ہو۔“ یہ عبدالرزاق کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حجاج کی حدیث میں جو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے عشاء کا لفظ نہیں کہا، باقی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 638»
الحكم على الحديث: صحيح