🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
429. -- باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير
-- باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2128
وَأَخْبَرَنَا جَنَاحٌ ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ" رَوَاهُ حَمَّادٌ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَخْطَأَ فِيهِ وَقِيلَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ خَطَأٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشا کی نماز کے بعد نمازی اور مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے باتیں کرنا مناسب نہیں۔“
اسے حماد نے شعیب سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَمَا زَالَ يُطْفَأُ وَيَسِيرُ الْغَضَبُ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ وَاللهِ مَا أَعْلَمُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا نَمْشِي مَعَهُ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ فَلَمَّا أَعْيَانَا أَنْ نَعْرِفَ مَنِ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ:" سَلَ تُعْطَهْ" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَقُلْتُ: لَأَغْدُوَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَبَشَّرَهُ فَوَاللهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرِ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لَا مِنْ عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَةِ عَلْقَمَةَ.
علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عرفہ کے مقام پر ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں کوفہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہاں میں ایک ایسے آدمی سے ملا ہوں جو مصاحف کو زبانی املاء کرواتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے اور (غصے سے) پھول گئے حتیٰ کہ قریب تھا کہ اس آدمی کی دونوں جانبوں کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے۔ پھر کہنے لگے: تیرا ناس ہو، وہ ہے کون؟ اس نے کہا: عبداللہ بن مسعود۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) بجھ سے گئے اور آپ کا غصہ ختم ہو گیا حتیٰ کہ اپنی پہلے والی حالت میں لوٹ آئے۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی باقی ہو جو اس کام کا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے زیادہ حق دار ہو، میں تجھے ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہاں مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں عشاء کے بعد باتیں کر رہے تھے اور اتفاقاً میں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز ادا کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قراءت سننے لگ گئے۔ پھر جب ہم نے غور کیا کہ ہم اس آدمی کو پہچان لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) کی قراءت کے موافق پڑھے۔“ پھر وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کہنے لگے: ”تو جو سوال کر، تجھے عطا کیا جائے گا۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں صبح ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر انہیں خوشخبری دوں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ صبح میں انہیں بشارت دینے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما مجھ سے سبقت لے گئے ہیں اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہما کو بشارت بھی دے دی۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی کسی نیکی میں ابوبکر رضی اللہ عنہما سے پہل نہیں کر سکا مگر وہ ہمیشہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے نہ کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/25»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جِئْتُكَ مِنْ عِنْدَ رَجُلٍ يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ إِنَّا سَمَرْنَا لَيْلَةً فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ مَا يَكُونُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَطَّارِ لِلْأَعْمَشِ: أَلَيْسَ قَالَ خَيْثَمَةُ أَنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَيْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ يُرِيدُ الرَّجُلَ الَّذِي جَاءَ إِلَى عُمَرَ ⦗٦٦٥⦘ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ عَلْقَمَةُ مِنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ.
حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو مصاحف کی زبانی املا کرواتا ہے، پھر طویل حدیث ذکر کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں تجھے عبداللہ کے بارے بتاتا ہوں۔ ایک رات ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کام کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ پھر مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی۔
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ان کی مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے والا آدمی تھا۔
یہ حدیث علقمہ نے قیس کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے قرثع سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/25»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا عَفَّانُ ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ ثنا الْقَرْثَعُ عَنْ قَيْسٍ أَوِ ابْنِ قَيْسٍ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ السَّمَرِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ (قرآن کی) تلاوت کر رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔۔۔ پھر مکمل قصہ ذکر کیا، مگر انہوں نے عشاء کے بعد باتیں کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْثَرَ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ:" عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا وَأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَمِهَا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ہم نے بہت باتیں کیں، پھر ہم گھروں کو لوٹے، صبح جب ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر تمام انبیاء اپنی امتوں سمیت پیش کیے گئے اور ان کے پیروکار بھی۔۔۔“ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 15/ 420»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حثمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ:" أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ" قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ" يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشا کی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: ”تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ پھر فرمایا: ”سو برس کے ختم ہونے تک جتنے لوگ زمین پر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 116»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
430. -- باب: تعجيل صلاة الصبح
-- باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2134
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَلَفِّعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلَاةَ وَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مومن عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں حاضر ہوتی تھیں اور وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں۔ پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 365»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كُنَّ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِيهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مؤمنہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرتیں اور اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتیں، پھر وہ اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو ان کو اندھیرے کی وجہ سے کوئی پہچان نہ سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 365»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2136
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الشَّافِعِيِّ أنا مَالِكٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفْنَ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" ⦗٦٦٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنٍ جَمِيعًا، عَنْ مَالِكٍ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرتے، عورتیں جب نماز سے فارغ ہو کر گھر جاتیں تو اپنی بڑی بڑی چادروں میں لپٹی ہوتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ وَنِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ فُلَيْحٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو مومنوں کی عورتیں اپنی بڑی بڑی چادروں میں لپٹی ہوتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني سابقاً»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں