السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. -- باب: الإمام تعرض له الحاجة بعد الإقامة
-- باب: اقامت کے بعد امام کو کوئی ضرورت پیش آ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2296
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کی اقامت ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے گفتگو فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع نہیں کی حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 616»
الحكم على الحديث: صحيح
468. -- باب: من زعم أنه يكبر قبل فراغ المؤذن من الإقامة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کیا کہ وہ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے تکبیر کہہ لے گا
حدیث نمبر: 2297
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ التَّمِيمِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ إِذَا قَالَ بِلَالٌ:" قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ نَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ" وَهَذَا لَا يَرْوِيهِ إِلَّا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعِّفُهُ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”نماز کھڑی ہو گئی“ کہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوتے اور تکبیر کہتے۔
اس روایت کو صرف حجاج بن فروخ بیان کرتے ہیں اور یحییٰ بن معین انہیں ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2297]
اس روایت کو صرف حجاج بن فروخ بیان کرتے ہیں اور یحییٰ بن معین انہیں ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن عدي في الكامل 2/233»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ الْحُسَيْنِ الصُّوفِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا عَاصِمٌ ⦗٣٦⦘ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ".
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «آمِيْنَ» کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 937»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْحَنَّائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ: وَلَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الثِّقَاتِ، عَنْ عَاصِمٍ دُونَ ذِكْرِ سَلْمَانَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ بِلَفْظٍ آخَرَ.
(ا) ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ فرمائیں۔“
یہ روایت ایک ضعیف سند کے ساتھ عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے سلمان سے بھی منقول ہے، لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ ثقہ راویوں کی جماعت نے اسے عاصم سے سلمان کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2299]
یہ روایت ایک ضعیف سند کے ساتھ عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے سلمان سے بھی منقول ہے، لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ ثقہ راویوں کی جماعت نے اسے عاصم سے سلمان کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2300
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ فِي الْمُسْنَدِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ: عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" فَرَجَعَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنَّ بِلَالًا كَأَنَّهُ كَانَ يُؤَمِّنُ قَبْلَ تَأْمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے آگے نہ نکلنا۔“
(ب) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2300]
(ب) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
469. -- باب: رفع اليدين في التكبير في الصلاة
-- باب: نماز کی تکبیر میں رفع الیدین (دونوں ہاتھ اٹھانے) کا بیان
حدیث نمبر: 2301
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحُسَيْنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يُحَاذِي بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، لیکن سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 703»
الحكم على الحديث: صحيح
470. -- باب: من قال يرفع يديه حذو منكبيه
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھائے
حدیث نمبر: Q2302
اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَشُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ وَعُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَغَيْرِهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّفْعِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي رِوَايَةِ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
امام مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد، یونس بن یزید اور دیگر محدثین کی روایات نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (نماز میں) ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھانے کے بارے میں اتفاق کیا ہے۔
اور اسی طرح ایوب کی روایت میں نافع سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
اور بالکل اسی طرح سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے جسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2302]
اور اسی طرح ایوب کی روایت میں نافع سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
اور بالکل اسی طرح سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے جسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2302]
حدیث نمبر: 2302
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ بِمَكَّةَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، وَقَدِ اسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھاتے تھے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی «رَفْعُ الْيَدَيْنِ» ”رفع یدین“ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 196»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، وَوَصَفَ رَفْعَ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنْهُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، وَقَالَ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ وَكَذَلِكَ هُوَ فِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ، جن میں ابو قتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ بھی تھے، کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں کندھوں تک اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ رکوع میں جاتے وقت بھی اٹھائے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تب بھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک لے جاتے تھے۔
اسی طرح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2303]
اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ رکوع میں جاتے وقت بھی اٹھائے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تب بھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک لے جاتے تھے۔
اسی طرح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 1/235/ 2438»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2304
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الطَّسْتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَزَّازُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ⦗٣٨⦘ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ سُجُودِهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ مِثْلَ ذَلِكَ" وَكَذَلِكَ هُوَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسا ہی کرتے، لیکن سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تب بھی اسی طرح رفع یدین کرتے۔
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بھی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2304]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بھی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي3423»
الحكم على الحديث: صحيح