السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
470. -- باب: من قال يرفع يديه حذو منكبيه
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھائے
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" قَالَ وَائِلٌ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ.
(ا) سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو بھی اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے۔
(ب) سیدنا وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس موسم سرما میں آیا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ہاتھ چادروں میں بھی اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2305]
(ب) سیدنا وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس موسم سرما میں آیا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ہاتھ چادروں میں بھی اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في سنده 1/ 176»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَحَاذَى إِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَجَمَاعَةٌ، ⦗٣٩⦘ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حِذَاءَ أُذُنَيْهِ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ: رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ، وَقَالَ: رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي الرِّوَايَةِ الثَّابِتَةِ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، وَفِي رِوَايَةٍ ثَابِتَةٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى ثَابِتَةٍ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
سیدنا عبدالجبار بن وائل اپنے والد سیدنا وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک لے جاتے، پھر تکبیر کہتے۔
(ب) اس حدیث کو ثوری، شعبہ، ابو عوانہ، زائدہ بن قدامہ، بشر بن مفضل اور ایک جماعت نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر تک اٹھائے۔
شریک نے عاصم سے روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھائے۔
(ج) اسی طرح ایک دوسری روایت جو عبدالجبار بن وائل سے، علقمہ بن وائل بن وائل سے اور ایک روایت جو سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ «حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ» ”یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: «حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ» ”حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھا لیتے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2306]
(ب) اس حدیث کو ثوری، شعبہ، ابو عوانہ، زائدہ بن قدامہ، بشر بن مفضل اور ایک جماعت نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر تک اٹھائے۔
شریک نے عاصم سے روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھائے۔
(ج) اسی طرح ایک دوسری روایت جو عبدالجبار بن وائل سے، علقمہ بن وائل بن وائل سے اور ایک روایت جو سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ «حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ» ”یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: «حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ» ”حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھا لیتے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 724»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2307
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ كَذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ كَذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: إِلَى فُرُوعِ أُذُنَيْهِ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، فَقَالَ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ فَإِمَّا أَنْ يُؤْخَذَ بِالْجَمِيعِ فَيُخَيَّرَ بَيْنَهُمَا، وَإِمَّا أَنْ تُتْرَكَ رِوَايَةُ مَنِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَلَيْهِ، وَيُؤْخَذَ بِرِوَايَةِ مَنْ لَمْ يُخْتَلَفْ عَلَيْهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهَا أَثْبَتُ إِسْنَادًا، وَأَنَّهَا حَدِيثُ عَدَدٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَعَ رِوَايَتِهِمْ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو ایسے ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے۔
اسماعیل بن علیہ نے اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے، اس کے شروع میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے کانوں کے قریب لے گئے۔
اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے اپنی دو روایتوں میں سے ایک میں یہی کہا ہے، اور دوسری روایت میں کہا کہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے۔
شعبہ نے اسے قتادہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کانوں کی لو کے برابر تک لے گئے اور ایک روایت ہے کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے گئے۔
جب ان روایات میں اختلاف ہو تو یا تو سب کو لے لیا جائے گا اور ان میں اختیار ہو گا،
یا جس راوی سے روایت میں اختلاف ہو اس کی روایت چھوڑ دی جائے گی اور جس سے اختلاف نہ ہو اس کی روایت کو لے لیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیونکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے زیادہ ثابت ہے، اور یہ کئی راویوں کی حدیث ہے، اور کئی راوی ایک راوی کی نسبت یاد رکھنے کے زیادہ لائق ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: ان روایات کے ساتھ ساتھ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2307]
اسماعیل بن علیہ نے اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے، اس کے شروع میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے کانوں کے قریب لے گئے۔
اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے اپنی دو روایتوں میں سے ایک میں یہی کہا ہے، اور دوسری روایت میں کہا کہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے۔
شعبہ نے اسے قتادہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کانوں کی لو کے برابر تک لے گئے اور ایک روایت ہے کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے گئے۔
جب ان روایات میں اختلاف ہو تو یا تو سب کو لے لیا جائے گا اور ان میں اختیار ہو گا،
یا جس راوی سے روایت میں اختلاف ہو اس کی روایت چھوڑ دی جائے گی اور جس سے اختلاف نہ ہو اس کی روایت کو لے لیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیونکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے زیادہ ثابت ہے، اور یہ کئی راویوں کی حدیث ہے، اور کئی راوی ایک راوی کی نسبت یاد رکھنے کے زیادہ لائق ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: ان روایات کے ساتھ ساتھ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 589»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2308
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمَنْكِبَيْنِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ.
(ا) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ حضرت اسود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے تھے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2308]
(ب) شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2/71»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ أُذُنَيْهِ" يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ غَيْرُ قَوِيٍّ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے۔
یزید بن ابی زیاد قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2309]
یزید بن ابی زیاد قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
471. -- باب: رفع اليدين في الافتتاح مع التكبير
-- باب: نماز شروع کرتے وقت تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2310
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ، حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" وَلَا" يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ. وَهُوَ فِي مَعْنَى رِوَايَةِ شُعَيْبٍ إِلَّا أَنَّ رِوَايَةَ شُعَيْبٍ أَبْيَنُ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو اسی طرح کرتے، پھر جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو اسی طرح کرتے اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہتے، لیکن جب سجدہ کرتے اور سجدے سے اٹھتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(ب) مالک اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ یہ روایت شعیب کی روایت کے معنیٰ میں ہے مگر شعیب کی روایت زیادہ واضح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2310]
(ب) مالک اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ یہ روایت شعیب کی روایت کے معنیٰ میں ہے مگر شعیب کی روایت زیادہ واضح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 738»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2311
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَلِيلٍ الْبُرْجُلَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْجَبَّارِ بْنَ وَائِلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّهُ كَانَ حِينَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" رَآهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ، وَيَضَعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ، وَيَسْجُدُ بَيْنَ كَفَّيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيُّ، عَنْ وَائِلٍ.
عبدالرحمن مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالجبار بن وائل رحمہ اللہ سے سنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روایت بیان کی کہ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے اور سجدہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه احمد 4/ 316»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحٍ السَّمَّاكُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ ⦗٤١⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصِبِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ، وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ" أَوْ قَالَ:" سَجَدَ وَرَأَيْتُهُ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ".
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو بھی اٹھاتے اور رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے یا سجدہ کرتے، تب بھی رفع یدین کرتے۔
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2312]
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه احمد 18369»
الحكم على الحديث: حسن
472. -- باب: الابتداء بالرفع قبل الابتداء بالتكبير
-- باب: تکبیر شروع کرنے سے پہلے ہاتھ اٹھانے کی ابتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر آپ تکبیر کہتے۔ (یہ حدیث تفصیل سے گزر چکی ہے) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في 1310»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2314
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَفِي رِوَايَةٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ".
(ا) سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر تکبیر کہتے اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب بھی ایسے ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے اور جس وقت سجدے سے سر اٹھاتے تو ایسا نہیں کرتے تھے۔
(ب) محمد بن عمرو بن حلحلہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2314]
(ب) محمد بن عمرو بن حلحلہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث: «صحيح وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح وقد تقدم في الذي قبله