🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
484. -- باب: تعيين القراءة بفاتحة الكتاب
-- باب: قراءت کے لیے سورۃ الفاتحہ کے متعین ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ" فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ" قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، أَوْ قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَهَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ سُفْيَانُ: دَخَلْتُ عَلَى الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ. هَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَتَابَعَهُ عَلَى إِسْنَادِهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ، وَجَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَرَوَوْهُ عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَخَالَفَهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جس نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں (تو اس وقت کیا کروں؟) تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے فارسی! تو اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے نماز (فاتحہ) کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو وہ مجھ سے مانگے، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی، اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری حمد و ثنا کی، اور جب بندہ کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی یا فرمایا: میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا، اور جب بندہ عرض کرتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے، جب بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7)﴾ [سورة الفاتحة: 2 - 7]
سفیان کہتے ہیں: میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2365]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 395»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2366
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٨⦘ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ".
ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو وہ نماز ناقص اور نامکمل ہے“، تین مرتبہ فرمایا۔ ابوسائب کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کبھی کبھار میں امام کی اقتدا میں نماز ادا کررہا ہوتا ہوں؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو کو پکڑا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے، یہ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پڑھا کرو، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”بدلے کے دن کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کا جن پر غصہ کیا گیا اور نہ گمراہوں کا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”روزِ جزا کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے“، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث: «صحيح وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح وقد تقدم في الذي قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2367
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ السَّرْجِسِيُّ قَالَا: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ جَمِيعًا، وَكَانَا جَلِيسَيْنِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ" انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَذَكَرَ أَبُو نَصْرٍ الْفَامِيُّ بَاقِي الْحَدِيثَ بِنَحْوِ رِوَايَةِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي أُوَيْسٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَزَادَ فِيهِ التَّسْمِيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ ناقص اور نامکمل ہے“۔
(ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «بِسْمِ اللّٰہِ» کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وتقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2368
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونٍ الذُّهْلِيُّ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَسَمْتُ هَذِهِ السُّورَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللهُ: ذَكَرَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ: اللهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ:" إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے یہ سورۃ (فاتحہ) اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر لی ہے۔ جب جب بندہ کہتا ہے: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میرا ذکر کیا ہے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے: ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون البسملة»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2369
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ" فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فِي أَوَّلِهِ، ثُمَّ زَادَ التَّسْمِيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ:" فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَانِ" وَآخِرُ السُّورَةِ" لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ، ابْنُ سَمْعَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثِ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ عَجْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، وَأَبُو أُوَيْسٍ، وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْهُمْ فِي الْإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔“
(ب) انہوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن «بِسْمِ اللّٰهِ» کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم۔
علی بن عمر حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن سمعان سے مراد عبداللہ بن زیاد بن سمعان ہیں، اور وہ متروک الحدیث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون البسملة وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ" فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أُخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عطا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر نماز میں قرأت ہے، جس نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا (یعنی جہری قرأت کی) ہم نے بھی آپ کو سنایا اور جس نماز میں آپ نے ہم سے چھپایا (یعنی آہستہ قرأت کی) ہم نے بھی آپ سے چھپایا۔ جو سورہ فاتحہ پڑھے تو وہ اسے کفایت کر جائے گی اور جو زیادہ پڑھے تو وہ افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 772»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2371
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَقُولُ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ}" قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} إِنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ میں نے بصرہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز ادا کی، انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی ایک آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھا کرو۔“
(ب) علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ (حکم) سورہ فاتحہ کی قراءت کے بعد کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
485. -- باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَعِنْدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ:" إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ ⦗٦١⦘ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللهِ لَوْ كَلَّفَنِي بِنَقْلِ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: ١٢٨] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ، فَأَلْحَقْتُهَا فِي السُّورَةِ، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ یمامہ میں لوگوں کے شہید ہونے کے موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ یمامہ کی لڑائی میں قرآن کے قراء شہید ہو گئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی طرح مختلف محاذوں میں قرآن کے قراء شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا (جو صرف سینوں میں ہے)۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم فرما دیں۔“ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا:) میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیسے کروں؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے۔“ اور وہ برابر مجھ سے اس کام کے لیے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جو رائے تھی وہی رائے میری بھی قرار پائی۔
سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نوجوان اور عقل مند آدمی ہیں، ہمیں آپ پر اعتبار بھی ہے اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ایسا کریں کہ قرآن کو تلاش کر کے اس کو اکٹھا کریں۔“ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اتنا بھاری اور سخت نہ ہوتا جتنا یہ کام (قرآن جمع کرنا) مشکل معلوم ہوا۔ میں نے عرض کیا: ”آپ لوگ ایسا کام کیوں کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(اگرچہ نہیں کیا) مگر اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے۔“ اور وہ مسلسل مجھے اس بارے میں کہتے رہے۔ یہاں تک کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی، اسی طرح میرے دل میں بھی ڈال دی اور میری رائے بھی ان کی رائے کی طرح ہو گئی۔ لہٰذا میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، میں نے اسے کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی آخری آیات ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] سے سورت کے آخر تک سیدنا خزیمہ یا سیدنا ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی تو میں نے اس کو سورہ توبہ کے ساتھ ملا لیا۔ پھر یہ مصحف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہا، پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس منتقل ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 7191»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2373
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْكُشْمِيهَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِيبٍ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: وَثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" فَقَدْتُ آيَةً مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْأَحْزَابِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ، قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] ".
(ا) ایک دوسری سند کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے سورہ الاحزاب کی وہ آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا۔“ کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2807»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2374
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي وِلَايَتِهِ، وَكَانَ يَغْزُو مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ قِبَلَ أَرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ فِي غَزْوِهِمْ ذَلِكَ الْفَرْجَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ فَتَنَازَعُوا فِي الْقُرْآنِ حَتَّى سَمِعَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ فِيهِ مَا ادَّعُوهُ، فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْقُرْآنِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي الْكُتُبِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا إِلَيْهِ حَفْصَةُ، فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَسَعِيدَ بْنَ ⦗٦٢⦘ الْعَاصِ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ" وَقَالَ لَهُمْ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْرِقُوا كُلَّ مُصْحَفٍ يُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِي أَرْسَلَ بِهِ، وَذَلِكَ زَمَانَ أُحْرِقَتِ الْمَصَاحِفُ" لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ: ابْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَدَّ الْمُصْحَفِ إِلَى حَفْصَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَذَكَرَهَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ حَمْزَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَكَتَبُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَنْ تُمْحَى أَوْ تُحْرَقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَعَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَتَيْنِ جَمِيعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] .
اور اس سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے، جب کہ وہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی طرف اہل عراق کے ساتھ شریکِ جہاد تھے۔ وہ اہل عراق اور اہل شام کی سرحد پر برسرپیکار تھے تو وہاں اہل عراق اور اہل شام نے قرآن کی قراءت میں اختلاف کیا حتیٰ کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے اختلاف کا پتا چلا تو وہ سہم گئے اور فوراً مدینہ کو عازمِ سفر ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! (خدارا) اس امت کی خبر لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس واقعہ سے حیران ہو گئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ مصحف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا کہ جب تمہارا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہو جائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہو گئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف انہیں واپس کر دیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔
ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے میں حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابوالیمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2807»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں