السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
485. -- باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 2375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الْقُرْآنِ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَاءَتِي خَيْرٌ مِنْ قِرَاءَتِكَ" قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَمَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْيَوْمَ فِي الْقِرَاءَةِ، وَأَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أجْمَعَهُمْ عَلَى قِرَاءَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ: فَأَجْمَعَ رَأْيَنَا مَعَ رَأْيِهِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَوْ وُلِّيتُ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا، حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا: میری قراءت، تیری قراءت سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا: لوگ آج قراءت میں اختلاف کر چکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو، میرا خیال ہے کہ میں انہیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہماری رائے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہو گئی اور فرمانے لگے: جس طرح کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا، اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخ دمشق 39/ 245»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2376
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَاءَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينِ وَإِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَجْعَلُوا بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ يَقُولُ:" ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا" فَإِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ السُّورَةُ" يَقُولُ:" ضَعُوا هَذِهِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا" وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولًا، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا تُشْبِهُ قِصَّتَهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ أَمْرَهَا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَجْعَلْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ" فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي مَصَاحِفِ الصَّحَابَةِ مَعَ دَلَالَةِ الْمُشَاهَدَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي فَوَاتِحِ السُّوَرِ لِنُزُولِهَا، وَعِنْدَ نُزُولِهَا كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ سُورَةٍ وَابْتِدَاءُ أُخْرَى".
(ا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورہ توبہ کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات سو کے قریب ہیں (مئین)، اور سورہ انفال کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات سو سے کم ہیں (مثانی)، ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے؟“ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے: ”ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے: ”اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو)“ اور سورہ انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورہ توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔)“
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی، یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کر چکے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورہ ختم ہو گئی ہے اور دوسری شروع ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2376]
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی، یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کر چکے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورہ ختم ہو گئی ہے اور دوسری شروع ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 786»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2377
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے اختتام کو اس وقت نہیں پہچانتے تھے حتیٰ کہ آپ پر «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» نازل ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 669»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَعْلَمُونَ انْقِضَاءَ السُّورَةِ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَإِذَا نَزَلَتْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَلِمُوا أَنَّ السُّورَةَ قَدِ انْقَضَتْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمُ بْنُ النُّعَيْمِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلَّا أَنَّهُ قَصَرَ بِهِ فَلَمْ يَذْكُرُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت تک سورہ کے اختتام کا علم نہ ہوتا تھا جب تک کہ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ نازل نہ ہو جاتی اور جب «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» نازل ہو جاتی تو وہ سمجھ لیتے کہ سورہ مکمل ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه اخرجه الطحاوي في مشكل الآثار 3/406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٦٤⦘ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخِسْرُوجَرَدْ مِنْ أُصُولِهِ نا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: ٢] ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ، تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي فَيَخْتَلِجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي" فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ پر (غشی) ہلکی اونگھ طاری ہوگئی۔ (اونگھ کے بعد) آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو پڑھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] ”شروع اللہ رحمن ورحیم کے نام کے ساتھ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کی۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشاں ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن (گلاس وغیرہ) ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس پر میری امت آئے گی، ان میں سے بعض کو روکا جائے گا تو میں کہوں گا: اے اللہ! یہ تو میرا امتی ہے۔ جواباً کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے دین میں کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2379]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6/ 305/ 31655»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ" فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ إِلَى آخِرِهَا}" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَعَلَى لَفْظِهِ أَيْضًا رَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ آنِفًا، وَالْمَشْهُورُ فِيمَا بَيْنَ أَهْلِ التَّفْسِيرِ وَالْمَغَازِي أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ مَكِّيَّةٌ، وَلَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ لَا يُخَالِفُ قَوْلَهُمْ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَوْلَى.
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے کہ اچانک آپ پر اونگھ طاری ہو گئی، پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ آپ نے فرمایا: ”ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے لگے۔ ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الکوثر: 1] ۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے «آنفًا» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2380]
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے «آنفًا» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2380]
حدیث نمبر: 2381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، ثنا جَعْفَرٌ، ثنا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي ذِكْرِ الْإِفْكِ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ:" أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ} الْآيَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَةٍ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آيَاتٍ لَمْ تَكُنْ أَوَّلَ سُورَةٍ، وَفِي ذَلِكَ تَأْكِيدٌ لِمَا رُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي الْمَصَاحِفِ حَيْثُ نَزَلَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی: ” «أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی جو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے، شیطان مردود سے“ ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ﴾ [سورة النور: 11] “۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے“ سورت شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2381]
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے“ سورت شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 783»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2382
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ثنا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ} [الفاتحة: ٢] فَإِذَا فَرَغَ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: لِمَ كُتِبَتْ فِي الْمُصْحَفِ إِنْ لَمْ تَقْرَأْ؟".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 1-2] ۔۔۔ جب سورہ فاتحہ سے فارغ ہوئے تو «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] پڑھی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: اگر اس کو پڑھا نہ جائے تو پھر یہ قرآن میں لکھی کیوں گئی ہے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: «قوي»
الحكم على الحديث: قوي
486. -- باب: الدليل على أن بسم الله الرحمن الرحيم آية تامة من الفاتحة
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورۃ الفاتحہ کی ایک مکمل آیت ہے
حدیث نمبر: 2383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا قِرَاءَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً".
عبداللہ بن ابی ملیکہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ذکر کیا (راوی کو شک ہے کہ ”ذکرت“ کے الفاظ ہیں یا کچھ اور ہیں) آپ پڑھتے تھے: ” ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] ، ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ، ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ، ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] “ یعنی ہر آیت کو الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2383]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه احمد 6/ 352»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 2384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] يَعْنِي كَلِمَةً كَلِمَةً" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ هَارُونَ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَزَادَ فِيهِ.
ابن ابی ملیکہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اس طرح تھی: ” ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] ، ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] “ یعنی ہر آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔
اسے عمرو بن ہارون نے بھی ابن جریج سے روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2384]
اسے عمرو بن ہارون نے بھی ابن جریج سے روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: شاذ