🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1214. -- باب: كيفية صلاة شدة الخوف
-- باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6024
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ أَوْ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ. قَالَ:" آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً"، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ بِهِنَّ مَنْزِلًا، حَتَّى كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ لَهُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُجَادَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي إِيمَاءً، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَ لِذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَايِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَفْلَحَ الْوَجْهُ"؟ قُلْتُ: قَدْ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" صَدَقْتَ" ثُمَّ قَامَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ:" امْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ"، فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ، فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا مَعَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا عِنْدِي، قَالُوا: أَفَلَا تَرْجِعْ إِلَيْهِ فَتَسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا؟ قَالَ:" آيَةُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ". قَالَ: فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ بِسَيْفِهِ فَلَمْ يَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ فَدُفِنَا جَمِيعًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ.
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ ابن نبیح ہذلی لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ میرے ساتھ غزوہ کرے۔ وہ نخلہ یا عرنہ نامی جگہ پر ہے، جا کر اس کو قتل کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صفت بیان کر دیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے گا تو اس سے تجھے کپکپی آئے گی۔“ چنانچہ میں تلوار حمائل کر کے چل پڑا یہاں تک کہ میں اس کے پاس پہنچ گیا، وہ (ہودجوں میں سوار) عورتوں کے ساتھ تھا اور ان کے لیے پڑاؤ کی جگہ تلاش کر رہا تھا، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو وہ وصف پایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے بیان کیا تھا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو مجھے ڈر لاحق ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان لڑائی ہو گی، جو مجھے نماز سے مصروف کر دے گی۔ میں اشارے سے نماز پڑھ رہا تھا اور اس کی طرف بھی جا رہا تھا۔ جب میں اس تک پہنچا تو اس نے کہا: کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص ہوں، آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ اس آدمی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے جمع ہو رہے ہیں، میں اسی غرض سے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگا: ہاں۔ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، موقع پا کر تلوار سے اس پر حملہ کر دیا اور اس کو قتل کر دیا۔ پھر میں نکلا تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاح پائی چہرے نے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور اپنے گھر داخل کیا اور مجھے ایک لاٹھی عنایت فرمائی اور فرمایا: ”اے عبداللہ بن انیس! اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ میں نے لوگوں کو بتایا کہ یہ لاٹھی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی اور فرمایا: ”اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس جاؤ اور اس کے بارے میں سوال کرو۔ میں واپس گیا اور اس لاٹھی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کیوں عطا کی؟ فرمایا: ”یہ میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی ہو گی؛ کیونکہ اس دن لاٹھی تھامنے والے لوگ بہت کم ہوں گے۔“ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنی تلوار سے ملا لیا۔ وہ ہمیشہ ان کے پاس رہی، جب وہ فوت ہوئے تو ان کے کفن کے ساتھ رکھ دی گئی اور ان کے ساتھ ہی دفن کر دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6024]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو يعليٰ 905»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1215. -- باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين
-- باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6025
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفَلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرْتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا، سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ". لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ" فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلَاحَ وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلُوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبِّرُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرٍ فَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ مُجَاهِدٍ مِنْ أَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(الف) سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے اور مشرکین کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ”ہم سے غفلت ہو گئی، اگر ہم ان پر حملہ کر دیتے جب وہ حالتِ نماز میں تھے“، تو ظہر و عصر کے درمیان قصر والی آیت نازل ہو گئی۔ جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور دوسری صف کھڑی پہرہ دے رہی تھی۔ جب پہلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے تھے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹی دوسری صف کی جگہ اور دوسری صف آگے بڑھی پہلی صف کی جگہ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے، یعنی پہلی صف اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی بیٹھ گئے تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب بیٹھ گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم میں یہ نماز پڑھائی۔
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی۔
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6017»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6026
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيُّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" شَهِدْتُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الْمُقَدَّمُ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا قَضَى السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدُوا". قَالَ جَابِرٌ:" كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ"..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں۔ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔ ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف نے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے اپنے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہوئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور پہلی صف پیچھے آگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور پہلی صف بھی سجدہ میں چلی گئی جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ پورا کیا اور پہلی صف نے بھی تو پھر دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ انہوں نے سجدے پورے کیے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: «مسلم 840»

الحكم على الحديث: مسلم 840
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6027
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. وَزَادَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا". قَالَ جَابِرٌ:" كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَذَا بِأُمَرَائِهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم سب نے بھی سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے شاہی محافظ اپنے امراء کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جَبْرَئِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالُوا: إِنَّهُ سَيَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، يَعْنِي: الْعَصْرَ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَفَّنَا صَفَّينِ، وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلِ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ:" كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ". ⦗٣٦٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جہینہ سے غزوہ کیا اور لڑائی انتہائی سخت تھی۔ جب ہم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین کہنے لگے: اگر ہم یک بارگی ان پر حملہ کریں اور ان کو کاٹ ڈالیں، تو اس کی خبر جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ ہمارے ساتھ کیا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ عنقریب ایک نماز آئے گی جو ان کو ان کی اولادوں سے بھی زیادہ محبوب ہے“۔ جب نماز کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں بنائیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا اور پہلی صف پیچھے آ گئی اور دوسری صف آگے بڑھی۔ وہ پہلی کی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، پھر دوسری صف نے سجدہ کیا۔ پھر وہ سارے بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما سبوح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" قَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، فَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا"..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر وہ پیچھے ہٹے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کا پہرہ دیا، پھر دوسرے گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع و سجود کیے، سارے لوگ نماز میں تھے، وہ تکبیر کہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کا پہرہ دے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 902»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6030
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهَذَا مَا رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ فِي هَذَا الْبَابِ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُبَيَّنًا.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6030]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6031
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقَطِيعِيُّ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْ بَاهِلِيُّ، قَالُوا ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّينِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، الصَّفَّانِ كِلَاهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ وَقَامَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا، فَسَجَدُوا سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا، فَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ الَّذِي يَلِيهِ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا قَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کا حکم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم سب نے یعنی دونوں صفوں نے اکٹھے رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہو گئے تو پھر پچھلی صف والوں نے سجدے کیے۔ پھر وہ کھڑے ہو گئے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسری صف والے کھڑے رہے، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے، پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6031]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ الدار قطني 2/58»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6032
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا ⦗٣٦٨⦘ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ، أَظُنُّهُ قَالَ: عَقِبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف ایسے ہی تھی، جیسے آج کل تمہارے محافظوں کی نماز ہے، اپنے اماموں کے پیچھے۔ مگر یہ کہ وہ باری باری ہوتی تھی: ایک گروہ کھڑا رہتا، حالانکہ وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز میں) ہوتے، اور ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گروہ جو کھڑا تھا خود سجدے کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے تو وہ سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو وہ بھی سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی مرتبہ کھڑے رہے اور وہ لوگ کھڑے رہے جنہوں نے پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور وہ لوگ جنہوں نے آخری نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا، انہوں نے سجدہ کیا جو کھڑے رہے۔ پھر وہ بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام میں دونوں گروہوں کو جمع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6032]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 1/265»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1216. -- باب: الإمام يصلي بكل طائفة ركعتين ويسلم
-- باب: امام ہر گروہ کو دو رکعتیں پڑھائے اور سلام پھیر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6033
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا شَجَرَةً ظَلِيلَةً تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَمَنْ يمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ" قَالَ: فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَغَمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ قَيْسٍ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ:" حَارَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں آئے۔ جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ مشرکین کا ایک آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ کر سونتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُ» ”اللہ! مجھے تجھ سے بچائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اسے ڈرایا۔ تلوار اس نے نیام میں ڈال لی اور درخت پر لٹکا دی۔ نماز کے لیے اذان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں۔ پھر وہ پیچھے ہٹ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعت پڑھائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو رکعات تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 843»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں