السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1218. -- باب: من قال في هذا: كبر بالطائفتين جميعا، ثم قضى كل طائفة ركعتها الباقية مناوبة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے اس بارے میں کہا کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ساتھ تکبیر کہلوائے، پھر ہر گروہ باری باری اپنی باقی ماندہ رکعت پوری کرے
حدیث نمبر: 6044
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ ⦗٣٧١⦘ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا صَفَّينِ، صَفٌّ خَلْفَ، وَصَفٌّ مُوَاجِهَ الْعَدُوِّ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفَّينِ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَقَامِ إِخْوَانِهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلُّوا الَّذِينَ خَلْفَهُ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَصَافِّهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ". قَالَ خُصَيْفٌ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْعَدُوِّ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَكُلٌّ فِي صَلَاةٍ. وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا". وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، أَبُوعُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ، وَخَصِيفٌ الْجَزَرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی تو ہم نے دو صفیں بنائیں۔ ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں صفوں کے ساتھ تکبیر کہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صف کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر یہ اپنے دوسرے بھائیوں کی جگہ چلے گئے، دوسرے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، انہوں نے ایک رکعت نماز پڑھی۔ پھر وہ اپنی صف میں چلے گئے۔ پھر دوسرے آئے انہوں نے ایک رکعت پڑھی۔ خصیف فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن اور قبلہ کے درمیان تھے۔ ثوری خصیف سے نقل فرماتے ہیں: ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی اور تمام لوگ نماز میں ہی ہوتے تھے۔ شریک خصیف سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو دونوں صفوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی۔
یہ حدیث مرسل ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور خصیف جزری قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6044]
یہ حدیث مرسل ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور خصیف جزری قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6044]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1244»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6045
" وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي" أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نماز پڑھائی، مگر یہ کہ جس گروہ کو انہوں نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا تو وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، اور یہ لوگ آئے اور انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی، پھر وہ ان کی جگہ لوٹ گئے تو انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی۔ حبیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا تو انہوں نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم 6007»
الحكم على الحديث: ضعيف
1219. -- باب: من قال: صلى بكل طائفة ركعة ولم يقضوا
-- باب: اس شخص کا قول کہ امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ قضا (بقیہ رکعت پوری) نہ کریں
حدیث نمبر: 6046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ يَعْنِي: ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ:" أَيُّكُمْ شَهِدَ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ:" أَنَا، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ". وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّينِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا..
ثعلبہ بن زہدم حنظلی فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے نمازِ خوف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون تھا؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف کھڑی ہوتی اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک رکعت پڑھاتے۔ پھر وہ ان کی صف میں چلے جاتے۔ پھر وہ آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک رکعت پڑھا دیتے، پھر ان کے ساتھ سلام پھیرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6046]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 1246»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6047
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ زَهْدَمٍ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ ⦗٣٧٢⦘ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ لَهُمْ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ:" أَنَا، فَذَكَرَ صَلَاةً مِثْلَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ. فَقَوْلُ الرَّاوِي فِي رِوَايَةِ ثَعْلَبَةَ: صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، يُرِيدُ بِهِ حَالَ السُّجُودِ، وَقَوْلُهُ: ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ يُرِيدُ بِهِ: تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي ذَلِكَ قَضَاءُ الرَّكْعَتَيْنِ مَعَ الْإِمَامِ، فَلَا يَحْتَاجُونَ إِلَى قَضَاءِ شَيْءٍ بَعْدَهُ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَتِلْكَ الْقِصَّةُ وَهَذِهِ وَاحِدَةٌ فَوَجَبَ حَمْلُ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الِاتِّفَاقِ لِسَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سلیم بن عبد سلولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھا تو سعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کون ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر تھا؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں حاضر تھا۔“ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا جو عسفان میں پڑھی گئی۔ راوی ثعلبہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ دشمن کے مقابل صف سجدہ کی حالت میں مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ بات کہ وہ ان کی جگہ پر چلے گئے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آگے والی صف پیچھے آگئی اور پچھلی صف آگے چلی گئی پہلی رکعت سے فارغ ہونے کے بعد۔ اس طرح دونوں رکعات امام کے ساتھ ہوئیں، دوسری رکعت کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6047]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي جَهْمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، فَصَفَّ خَلْفَهُ صَفٌّ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ". قَالَ سُفْيَانُ:" فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف ذی قرد نامی جگہ میں پڑھائی۔ ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابل۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ پھر یہ صف دوسری صف کی جگہ چلی جاتی ہے۔ وہ آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا اور سفیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات ہو گئیں اور ہر گروہ کی ایک رکعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6048]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي 1533»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ:"" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي قَرَدٍ بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا وَبِطَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا فَكَانَتْ لِلْإِمَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ"". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا تَرَكْنَاهُ لِأَنَّ جَمِيعَ الْأَحَادِيثِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ مُجْتَمِعَةٌ عَلَى أَنَّ عَلَى الْمَأْمُومِينَ مِنْ عَدَدِ الصَّلَاةِ مَا عَلَى الْإِمَامِ وَكَذَلِكَ أَصْلُ الْفَرْضِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّاسِ وَاحِدٌ فِي الْعَدَدِ، وَلَأَنَّهُ لَا يَثْبُتَ عِنْدَنَا مِثْلُهُ لِشَيْءٍ فِي بَعْضِ إِسْنَادِهِ"". قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخْرِجْهُ الْبُخَارِيُّ وَلَا مُسْلِمٌ فِي كِتَابَيْهِمَا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ يَتَفَرَّدُ بِذَلِكَ هَكَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَقَدْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَلَاتِهِ بِعُسْفَانَ، فَإِنَّ قَوْلَهُ: ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ أَرَادَ بِهِ فِي تَقَدُّمِ الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ وَتَأَخُّرِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ مَعَ ⦗٣٧٣⦘ اخْتِلَافٍ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقْتَ حِرَاسَةِ أَحَدِ الصَّفَّيْنِ. وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ، وَعَلَى مِثْلِ ذَلِكَ يُحْمَلُ أَيْضًا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کے ہاں یہ حدیث ثابت نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد نامی جگہ پر ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر انہوں نے سلام پھیرا، پھر دوسرے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر انہوں نے سلام پھیرا، اس طرح امام کے لیے دو رکعتیں اور ہر گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے صرف اس لیے چھوڑا ہے کہ نمازِ خوف کی تمام احادیث اس پر متفق ہیں کہ مقتدیوں پر نماز کی اتنی ہی تعداد ہے جتنی امام پر، اور اسی طرح لوگوں پر نماز کی اصل فرضیت تعداد میں ایک ہی ہے، اور اس لیے بھی کہ اس کی سند کے بعض حصے میں کسی خرابی کی وجہ سے ہمارے نزدیک اس جیسی روایت ثابت نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ» ”پھر یہ لوگ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ آ گئے“ سے مراد یہ ہے کہ پہلی صف پیچھے آ جائے اور پچھلی صف آگے چلی جائے۔
ابوبکر بن ابی الجہم اس روایت کو اس طرح عبیداللہ بن عبداللہ سے بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6049]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے صرف اس لیے چھوڑا ہے کہ نمازِ خوف کی تمام احادیث اس پر متفق ہیں کہ مقتدیوں پر نماز کی اتنی ہی تعداد ہے جتنی امام پر، اور اسی طرح لوگوں پر نماز کی اصل فرضیت تعداد میں ایک ہی ہے، اور اس لیے بھی کہ اس کی سند کے بعض حصے میں کسی خرابی کی وجہ سے ہمارے نزدیک اس جیسی روایت ثابت نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ» ”پھر یہ لوگ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ آ گئے“ سے مراد یہ ہے کہ پہلی صف پیچھے آ جائے اور پچھلی صف آگے چلی جائے۔
ابوبکر بن ابی الجہم اس روایت کو اس طرح عبیداللہ بن عبداللہ سے بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6049]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6050
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ فُلَانَ بْنَ وَدِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ: ايتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدًا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ".
قاسم بن حسان فرماتے ہیں کہ میں فلاں بن ودیعہ کے پاس آیا تو میں نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: آپ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان سے سوال کریں۔ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھائی تو ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر یہ دوسری صف کی جگہ پر چلے گئے اور وہ ان کی جگہ پر آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 5/183»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمِّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ فَأَمَرَ بِطَائِفَةٍ تَقُومُ فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ، وَقَامَ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً فَلَمَّا سَجَدَ انْطَلَقَ الَّذِينَ صَلُّوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَجَدُوا جَلَسَ فَسَلَّمَ بِهِمْ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ بِالَّذِينَ خَلْفَهُ سَلَّمَ الْآخَرُونَ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَحْتَمِلُ مَا احْتَمَلَ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدٍ فِي قَوْلِهِ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مِنْ جِهَةِ بَعْضِ الرُّوَاةِ قَبْلَ جَابِرٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ: أَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى، هَكَذَا قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ: فَصَفَفْنَا صَفَّينِ. فَذَكَرَهُ بِلَفْظٍ مُحْتَمَلٍ لِلتَّأْوِيلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، إِلَّا أَنَّ الْمَسْعُودِيَّ قَدْ رَوَاهُ مَرَّةً بِالزِّيَادَةِ، فَتْوَى مِنْ جِهَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَمْنَعُ هَذَا التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ فِيمَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو حکم دیا کہ وہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھا دی۔ پھر وہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان کی جگہ چلے گئے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ جب انہوں نے سجدے کر لیے تو بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت ہوئی، جب انہوں نے سلام پھیرا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے تو دوسروں نے بھی سلام پھیرا۔
نوٹ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات اور پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت یہ بھی بعض راویوں کی جانب سے ہے، حالانکہ دوسری روایات میں ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی رکعت بعد میں مکمل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6051]
نوٹ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات اور پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت یہ بھی بعض راویوں کی جانب سے ہے، حالانکہ دوسری روایات میں ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی رکعت بعد میں مکمل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6051]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ النسائي 1545»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6052
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُهَيْبٍ الْفَقِيرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ جَابِرٌ:" إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، إِنَّمَا الْقَصْرُ رَكْعَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وُجُوهُهَا قِبَلَ وُجُوهِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ الَّذِينَ صَلُّوا خَلْفَهُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا خَلْفَ ⦗٣٧٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَسَلَّمَ وَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمُوا أُولَئِكَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً، ثُمَّ قَرَأَ يَزِيدُ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: ١٠٢] ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ إِنْ كَانَ لَا يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنَ التَّأْوِيلِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا عَنْ صَلَاتِهِ فِي الْغَدَاةِ الَّتِي وَصَفَ هُوَ وَغَيْرُهُ صَلَاتَهُ فِيهَا، وَأَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَتَهُمُ الْبَاقِيَةَ، وَيَكُونُ فِي حُكْمِ شَيْءٍ أَثْبَتَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ دُونَ بَعْضٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوْلِ الْمُثْبِتِ، وَالْأَصْلُ وَجُوبُ الْعَدَدِ حَتَّى يُثْبَتَ جَوَازُ النُّقْصَانِ عَنْهُ بِمَا لَا يَحْتَمِلُ التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سفر میں دو رکعتوں میں قصر ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سفر میں دو رکعت میں قصر نہیں، لیکن قتال میں ایک رکعت قصر ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لڑائی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر وہ لوگ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور سلام پھیرا۔ پھر ان لوگوں نے سلام پھیرا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے اور دوسروں نے بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6052]
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6052]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6053
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَسْعُودٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ". كَذَا أَتَى بِهِ سِمَاكٌ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَالْحُكْمُ لِلْإِثْبَاتِ فِي مِثْلِ هَذَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف ایک گروہ کو ایک رکعت اور دوسرے گروہ کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔
(ب) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک ایک رکعت انہوں نے بذاتِ خود پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6053]
(ب) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک ایک رکعت انہوں نے بذاتِ خود پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6053]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6039»
الحكم على الحديث: صحيح