السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1263. -- باب: المأموم يتنقل قبل صلاة العيد وبعدها في بيته، والمسجد، وطريقه، والمصلى، وحيث أمكنه
-- باب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6232
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ:" رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ".
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن آتے اور امام کے نکلنے سے پہلے نماز پڑھتے۔
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو عید الفطر اور عید الاضحی کے دن مسجد میں دو دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر اس کی طرف نہیں لوٹتے تھے (دوبارہ نہیں پڑھتے تھے)۔
عیسیٰ بن سہل اپنے دادا سے مرفوعاً فرماتے ہیں: ”وہ اپنے بیٹوں کو مسجد میں بٹھاتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا، پھر وہ دو رکعت ادا کرتے، پھر عید گاہ کی طرف چلے جاتے۔“
ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن سہل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ بھی اسے پڑھا کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6232]
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو عید الفطر اور عید الاضحی کے دن مسجد میں دو دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر اس کی طرف نہیں لوٹتے تھے (دوبارہ نہیں پڑھتے تھے)۔
عیسیٰ بن سہل اپنے دادا سے مرفوعاً فرماتے ہیں: ”وہ اپنے بیٹوں کو مسجد میں بٹھاتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا، پھر وہ دو رکعت ادا کرتے، پھر عید گاہ کی طرف چلے جاتے۔“
ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن سہل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ بھی اسے پڑھا کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6232]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6233
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ أَقُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ إِلَى الْمُصَلَّى لِيُسَبِّحَ فِي الْمَسْجِدِ وَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ".
(الف) ابن ابی ذئب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو عید گاہ کی طرف لے کر آتا، وہ مسجد میں نفل ادا کرتے، پھر دوبارہ اس کی طرف واپس نہ آتے۔ (ب) ازرق بن قیس ان سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ عید کے دن امام کے نکلنے اور نماز سے پہلے نماز پڑھا کرتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے پر اس کی نیکی کو واپس نہیں لوٹاتا، جو نیکی وہ اس کے لیے کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا الْحُسَيْنُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ:" كَانَ بُرَيْدَةُ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الْإِمَامِ".
حسین رحمہ اللہ، ابن بریدہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ رضی اللہ عنہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6234]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6235
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطُّوسِيَّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَوْنٌ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ:" رَأَيْتُ أَبِي تَوَضَّأَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَخَرَجْنَا إِلَى الْمُصَلَّى، فَدَنَا قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ حَيْثُ يَسْمَعُ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا بَعْدَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمَّا رَجَعَ".
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کو عید کے دن وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے گھر میں چار رکعات نماز پڑھی، پھر انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑا، ہم عید گاہ کی طرف چلے گئے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے جہاں وہ خطبہ سن رہے تھے، جب نماز مکمل کی گئی تو اس سے پہلے اور بعد میں انہوں نے نماز ادا نہیں کی، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹے اور گھر میں چار رکعت نماز ادا کی۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ عید الفطر کے دن نماز سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ عید کے بعد آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
نوٹ: ایک جماعت عید سے پہلے اور بعد میں نماز کو ناپسند کرتی ہے اور بعض لوگ اس کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے اور بعض عید گاہ میں نماز کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن مسجد اور گھر میں عید کے دن نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے۔
عید کا دن تمام دنوں کی طرح ہے اور جب سورج بلند ہو جائے تو نماز مباح ہو جاتی ہے جہاں بھی ادا کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6235]
نوٹ: ایک جماعت عید سے پہلے اور بعد میں نماز کو ناپسند کرتی ہے اور بعض لوگ اس کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے اور بعض عید گاہ میں نماز کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن مسجد اور گھر میں عید کے دن نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے۔
عید کا دن تمام دنوں کی طرح ہے اور جب سورج بلند ہو جائے تو نماز مباح ہو جاتی ہے جہاں بھی ادا کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6235]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1264. -- باب: صلاة العيدين سنة أهل الإسلام حيث كانوا
-- باب: اہل اسلام جہاں بھی ہوں عیدین کی نماز ان کا طریقہ (سنت) ہے
حدیث نمبر: 6236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَعِمْرَانُ قَالَ: ثنا أَبُو سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ:" صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَالْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْمُسَافِرِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ"، عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عُمَرَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ایک بااعتماد شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”نمازِ عید الاضحیٰ، فطر اور جمعہ کی دو دو رکعات ہیں اور مسافر کے لیے مکمل نماز دو رکعت ہے، قصر نہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5718»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ بِهَا قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ أَهْلَهُ فَصَلَّى بِهِمْ مِثْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ".
عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے جب نمازِ عید امام سے رہ جاتی تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ویسے ہی نماز پڑھاتے جیسے امام عید کی نماز پڑھاتا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ جب وہ اپنے گھر ”زاویہ“ میں ہوتے اور بصرہ میں عید کے لیے حاضر نہ ہوتے تو وہ اپنے غلاموں اور بیٹوں کو جمع کرتے، پھر اپنے غلام عبداللہ بن ابی عتبہ کو حکم دیتے، وہ شہر والوں کی طرح ان کو نماز پڑھاتے اور ان کی تکبیروں کی طرح تکبیر کہتے۔ اور حسن بصری رحمہ اللہ سے مسافر کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاشت کے وقت کو پا لے تو وہ رک جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اگر نمازِ چاشت پڑھنی ہے تو پڑھ لے۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سواد والے عید میں جمع ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی جیسے امام کرتا ہے؛ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب آدمی سے عیدین کی نماز رہ جائے تو وہ ”جبان“ جا کر ویسے ہی نماز پڑھے جیسے امام پڑھتا ہے؛ اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نمازِ عید رہ جائے تو دو رکعت نماز ادا کرے، لیکن ان دونوں میں تکبیر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6237]
عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سواد والے عید میں جمع ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی جیسے امام کرتا ہے؛ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب آدمی سے عیدین کی نماز رہ جائے تو وہ ”جبان“ جا کر ویسے ہی نماز پڑھے جیسے امام پڑھتا ہے؛ اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نمازِ عید رہ جائے تو دو رکعت نماز ادا کرے، لیکن ان دونوں میں تکبیر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6237]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1265. -- باب: خروج النساء إلى العيد
-- باب: عورتوں کے عید (کی نماز) کے لیے نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ:" كُنَّا أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ ذَوَاتَ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدُعَاءَهُمْ، وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلَّاهُمْ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
محمد رحمہ اللہ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”ہمیں حکم دیا گیا کہ عیدین میں پردہ نشین عورتوں کو نکالیں اور حیض والیاں مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شامل ہوں اور نماز سے الگ رہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6238]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 318»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6239
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ:" أَمَرَنَا، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْحَجَبِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”ہم عیدین میں نوجوان، پردہ نشین عورتوں کو بھی لائیں اور حیض والیوں کو حکم دیا کہ وہ عید گاہ سے الگ رہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6239]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6240
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِبَغْدَادَ. قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا: أنبأ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ أَبُو عَلِيٍّ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا عَبَّاسٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ:" أَمَرَنَا، بِأَبِي وَأُمِّي، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، فَقَالَ:" لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.
حفصہ رحمہا اللہ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ میرے ماں باپ فدا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ”عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہم نوجوان اور پردہ نشین عورتوں کو بھی نکالیں اور حیض والیوں کو بھی۔ لیکن حیض والیاں نماز سے الگ رہیں اور بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو؟ فرمایا: ”اس کی بہن اس کو چادر پہنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6241
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗٤٢٩⦘ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي: الثَّقَفِيَّ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ:" كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِهَا، وَكَانَ زَوْجُ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَالَتْ: وَأُخْتِي مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتِ، قَالَتْ: وَكُنَّا نُدَاوُي الْكَلْمَى، وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ؟ فَقَالَ:" لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، فَتَشْهَدَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ"، فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا: هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بَابَا وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بَابَا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ، وَذَوَاتُ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ: الْحُيَّضُ، قَالَتْ: أَوَلَيْسَتْ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ.
ایوب رحمہ اللہ، حفصہ رحمہا اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنی نوجوان عورتوں کو منع کرتے تھے کہ وہ عیدگاہ میں آئیں، پھر ایک عورت آئی اور وہ قصرِ بن خلف کے پاس ٹھہری، وہ اپنی بہن سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے خاوند نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بارہ غزوات کیے، وہ فرماتی ہیں: میری بہن چھ غزوات میں ان کے ساتھ تھی، وہ فرماتی ہیں: ہم زخمیوں کی دوا کا بند و بست کرتی تھیں اور مریضوں کا خیال رکھتی تھیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہمارے اوپر کوئی حرج ہے اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ باہر نہ نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی سہیلی کی چادر اوڑھ لے اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہو۔“ جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو میں نے ان سے سوال کیا: کیا آپ نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور وہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ فرماتیں تو «بِأَبِي» ”میرے باپ آپ پر قربان ہوں“ کے کلمات ضرور کہتیں، میں نے ان سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جوان لڑکیاں، پردہ نشین عورتیں اور حائضہ عورتیں بھلائی اور دعا میں ضرور شامل ہوں، لیکن حائضہ عورتیں جائے نماز سے الگ رہیں۔“ حفصہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: میں نے (تعجب سے) کہا: کیا حائضہ عورتیں بھی؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا وہ عرفات اور فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1569»
الحكم على الحديث: صحيح