🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1297. -- باب:: لا يصلي جماعة عند شيء من الآيات غير الشمس والقمر
-- باب: سورج اور چاند گرہن کے علاوہ کسی اور نشانی (آفت) کے وقت باجماعت نماز نہیں پڑھی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6377
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَتْ:" زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ حَتَّى اصْطَفَقَتِ السُّرُرُ، وَابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فَلَمْ يَدْرِ بِهَا، وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدًا يُصَلِّي، فَدَرَى بِهَا، فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ، فَقَالَ:" أَحْدَثْتُمْ، لَقَدْ عَجِلْتُمْ، قَالَتْ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" لَئِنْ عَادَتْ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيْكُمْ".
نافع، صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں زمین پر زلزلہ آیا، یہاں تک کہ چارپائیوں نے بھی حرکت کی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے، انہیں معلوم نہ ہوا۔ کوئی دوسرا اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا تھا تو ان کو بھی معلوم ہو گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم نے نیا کام کیا، تم نے جلدی کی۔ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر وہ جاری رہتی تو میں ضرور تمہارے درمیان سے نکل جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6377]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 8335»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1298. -- باب: من استحب الفزع إلى الصلاة فرادى عند الظلمة والزلزلة وغيرها من الآيات
-- باب: جس نے تاریکی، زلزلے اور دیگر نشانیوں (آفات) کے وقت انفرادی طور پر نماز کی طرف گھبرا کر لپکنے کو مستحب قرار دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ:" كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ كَانَ يُصِيبكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" مَعَاذَ اللهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ إِلَى الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ".
عبید اللہ بن نضر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے عہد میں سخت اندھیرا ہو گیا تو میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: اے ابوحمزہ رضی اللہ عنہ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی آپ کو اس طرح کا اندھیرا پہنچتا تھا؟ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللَّهِ» ”اللہ کی پناہ!“ اگر سخت ہوا چلتی تو قیامت کے ڈر کی وجہ سے ہم مسجد کی طرف جلدی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6378]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1196»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6379
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سَلَمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ، بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: تَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا" وَأِيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذِهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
(الف) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی فوت ہو گئی ہے، وہ سجدے میں گر پڑے۔ کہا گیا کہ کیا آپ اس وقت سجدہ کرتے ہیں؟ تو فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“ تو کون سی نشانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے جانے سے بڑی ہو سکتی ہے؟
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ میں ایک آواز سنی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے کہنے لگے: اے عکرمہ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور پایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فوت ہو چکی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان کو سجدہ کی حالت میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ سبحان اللہ! ابھی سورج طلوع نہیں ہوا، آپ نے تو سجدہ بھی کر دیا تو فرمانے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“؟ تو اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ امہات المؤمنین ہمارے درمیان سے جا رہی ہیں اور ہم زندہ ہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6379]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ترمذي 3891»

الحكم على الحديث: جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" إِذَا سَمِعْتُمْ هَادًا مِنَ السَّمَاءِ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم آسمان سے کوئی آواز سنو تو نماز کے ذریعے مدد مانگا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6380]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1299. -- باب: من صلى في الزلزلة بزيادة عدد الركوع والقيام قياسا على صلاة الخسوف
-- باب: جس نے گرہن کی نماز پر قیاس کرتے ہوئے زلزلے میں رکوع اور قیام کی تعداد میں اضافے کے ساتھ نماز پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6381
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ بَلَاغًا: عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ صَلَّى فِي زَلْزَلَةٍ ⦗٤٧٨⦘ سِتَّ رَكَعَاتٍ، فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجْدَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَرَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَلَوْ ثَبَتَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقُلْنَا بِهِ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ثَابِتٌ، كَمَا.
قزعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے زلزلہ کے وقت چھ رکوع اور چار سجدوں والی نماز پڑھائی، پانچ رکوع اور دو سجدے ایک رکعت میں اور ایک رکوع اور دو سجدے ایک رکعت میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر یہ حدیث ہمارے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو جائے تو ہم بھی یہی کہیں گے۔“
یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6381]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي في الام 7/261»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6382
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي زَلْزَلَةٍ بِالْبَصْرَةِ، فَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَذَلِكَ، فَصَارَتْ صَلَاتُهُ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ". قَالَ قَتَادَةُ فِي حَدِيثِهِ:" هَكَذَا الْآيَاتُ"، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هَكَذَا صَلَاةُ الْآيَاتِ".
عبداللہ بن حارث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بصرہ میں زلزلہ کے وقت نماز پڑھائی۔ لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور اسی طرح کیا۔ ان کی نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے ہوئے۔
قتادہ رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسی طرح نشانیوں میں نماز ہوا کرتی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ نشانیوں کی نماز اسی طرح ہوا کرتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6382]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 4929»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں