السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1291. -- باب: ما يستحب للإمام من حض الناس على الخير وأمرهم بالتوبة والتقرب إلى الله عز وجل بنوافل الخير في خطبة الخسوف
-- باب: گرہن کے خطبے میں امام کے لیے لوگوں کو بھلائی کی ترغیب دینے، انہیں توبہ کرنے اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6368
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كُنَّا نُؤْمَرُ عِنْدَ الْخُسُوفِ بِالْعَتَاقَةِ". ⦗٤٧٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ”خسوف کے وقت ہمیں گردنیں آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6368]
تخریج الحدیث: «صحيح مضي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح مضي قبله
1292. -- باب: سنة صلاة الخسوف في المسجد الجامع
-- باب: جامع مسجد میں گرہن کی نماز کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6369
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ يُونُسَ. وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرَةَ، وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي صَلَاتِهِ فِي الْمَسْجِدِ.
(الف) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف آئے۔
(ب) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما، یہ تمام فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مسجد میں ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6369]
(ب) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما، یہ تمام فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مسجد میں ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6303»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا تو لوگ کہنے لگے: یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا: ”اے لوگو! سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم یہ دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6370]
1293. -- باب: الدليل على أنه إنما يصلي صلاة الخسوف حتى ينجلي، فإذا انجلى لم يبتدأ بالصلاة
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ گرہن کی نماز صرف اسی وقت تک پڑھی جائے گی جب تک کہ گرہن ختم نہ ہو جائے، پس جب گرہن ختم ہو جائے تو نماز شروع نہ کی جائے
حدیث نمبر: 6371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عُمَرَ، وَثنا زَائِدَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ زِيَادَةَ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى تَنْجَلِيَ"..
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس دن سورج گرہن ہوا جس دن ابراہیم فوت ہوئے۔ لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم ان کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6371]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 996»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6372
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا: ثنا مُصْعَبُ بْنُ ⦗٤٧٥⦘ الْمِقْدَامِ، ثنا زَائِدَةُ قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" حَتَّى تَنْكَشِفَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَأَبِي بَكَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں: «حَتَّىٰ تَنْكَشِفَ» ”یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے“ اور ابو مسعود انصاری اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں: «حَتَّىٰ يُكْشَفَ مَا بِكُمْ» ”یہاں تک کہ وہ چیز روشن ہو جائے جو تمہیں لاحق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6373
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُسُوفِ الشَّمْسِ كَمَا مَضَى فِي حَدِيثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: وَقَالَ أَيْضًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ"، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ، يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ، وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے سورج گرہن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بیان کیا جیسا کہ پہلے بحر بن نصر عن ابن وہب کی حدیث میں گزر چکا ہے، لیکن اس کے آخر میں کچھ الفاظ زائد ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ کیفیت تم سے دور کر دی جائے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی اس جگہ تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ میں جنت کا ایک خوشہ پکڑ لوں، تم نے اس وقت مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6373]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی اس جگہ تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ میں جنت کا ایک خوشہ پکڑ لوں، تم نے اس وقت مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 951»
الحكم على الحديث: صحيح
1294. -- باب: الدليل على جواز الابتداء بالخطبة بعد التجلي
-- باب: گرہن ختم ہونے کے بعد خطبہ شروع کرنے کے جواز کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6374
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَكَبَّرَ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" وَقَامَ كَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ:" إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے دن کھڑے ہوئے، پھر تکبیر کہہ کر لمبی قرأت کی، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حالت میں کھڑے رہے اور لمبی قرأت کی، لیکن یہ پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے والے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا سجدہ کیا۔ اسی طرح یہ دوسری رکعت میں کیا۔ پھر سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6303»
الحكم على الحديث: صحيح
1295. -- باب: المنفرد يصلي صلاة الخسوف إذا لم يحضره إمام استدلالا بما مضى من أمره صلى الله عليه وسلم بالفزع إلى الصلاة
-- باب: جب امام موجود نہ ہو تو اکیلے شخص کا گرہن کی نماز پڑھنا، اس پر استدلال کرتے ہوئے جو نبی ﷺ کے نماز کی طرف گھبرا کر لپکنے کے حکم کے بارے میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 6375
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى ظَهْرِ زَمْزَمَ لِخُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ".
عمرو یا صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے زمزم کے اوپر سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6375]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الشافعي 350»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
1296. -- باب: النساء يحضرن المسجد لصلاة الخسوف
-- باب: عورتوں کا گرہن کی نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6376
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ:" فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَمَا رَكَعَ لَمْ يَكُنْ رَكَعَ شَيْئًا، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، فَأَقُولُ: أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْكِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَغَيْرِهِ.
صفیہ بنت شیبہ رحمہا اللہ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے وقت گھبرا گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جلدی میں) ایک کرتا اٹھا لیا، یہاں تک کہ آپ کو آپ کی چادر پہنچائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ لمبا قیام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے پھر رکوع کیا۔ اگر کوئی انسان آپ کے رکوع کرنے کے بعد آتا تو وہ رکوع نہ کرتا، اس لیے کہ اس کے دل میں یہ بات پیدا نہ ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو عمر کے اعتبار سے مجھ سے بڑی تھی اور دوسری عورت جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی، وہ کھڑی تھیں۔ میں نے کہا: میرا تجھ سے زیادہ حق بنتا ہے کہ میں زیادہ لمبا قیام کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6376]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 906»
الحكم على الحديث: صحيح
1297. -- باب:: لا يصلي جماعة عند شيء من الآيات غير الشمس والقمر
-- باب: سورج اور چاند گرہن کے علاوہ کسی اور نشانی (آفت) کے وقت باجماعت نماز نہیں پڑھی جائے گی
حدیث نمبر: Q6377
وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي ذَلِكَ بِأَنَّ زَلْزَلَةً كَانَتْ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ صَلَّى.
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے قولِ قدیم میں اس بات سے استدلال کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں زلزلہ آیا تھا، تو انہوں نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا لیکن یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ انہوں نے نماز بھی پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: Q6377]