السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1284. -- باب: من أجاز أن يصلي في الخسوف ركعتين في كل ركعة أربع ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6328
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِمَنْ عِنْدَهُ فَقَرَأَ سُورَةَ الْحَجِّ، وَيس، لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ فِي الرَّابِعَةِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْحَجِّ وَيس، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ وَقَدِ انْجَلَى عَنِ الشَّمْسِ". لَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.
حنش بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں سورج گرہن لگا تو انہوں نے نماز پڑھائی جو ان کے پاس تھے اور اس میں سورہ حج اور سورہ یٰسین کی تلاوت کی، مجھے معلوم نہیں کہ ان دو سورتوں میں سے کس کو پہلے پڑھا اور بلند آواز سے قراءت کی۔ پھر اپنے قیام کی مقدار کے مطابق رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا، پھر جتنی دیر کھڑے رہے قیام کیا تھا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر اپنے قیام کے مطابق کھڑے رہے، پھر اپنے قیام کے مطابق رکوع کیا اور چوتھی مرتبہ کے بعد پھر سجدہ کیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، سورہ حج اور سورہ یٰسین کی تلاوت کی۔ پھر کھڑے ہوئے انہوں نے اس رکعت میں پہلی رکعت ہی کی طرح کیا، انہوں نے آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ پھر بیٹھ گئے، دعا کی پھر چلے گئے۔ ان کے پھرتے ہی سورج روشن ہو گیا۔
سلیمان شیبانی نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا، جبکہ حسن بن حر نے اسے حکم سے روایت کر کے مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6328]
سلیمان شیبانی نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا، جبکہ حسن بن حر نے اسے حکم سے روایت کر کے مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6328]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبد الرزاق 4936»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6329
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الطَّنَافِسِيُّ قَالُوا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالَ لَهُ حَنَشٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، فَقَرَأَ بِ يس وَنَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ السُّورَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ سَمِعَ اللهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ"..
حنش، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس میں سورة یٰسین یا اس کی مثل قراءت کی، پھر اپنی قراءت کے مطابق رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر کھڑے ہوئے پھر سورة (یٰسین) کے اندازے کے مطابق قیام کیا اور دعا کرتے رہے اور آپ نے تکبیر کہی، پھر اپنی قراءت کے مثل لمبا رکوع کیا، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سورة کے اندازے کے مطابق قیام کیا، پھر اس قدر ہی رکوع کیا، یہاں تک کہ چار رکوع ہو گئے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور اس میں پہلی رکعت کی طرح ہی کیا، پھر بیٹھے ہوئے دعا کرتے رہے، پھر آپ ترغیب دیتے رہے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6329]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ابن خزيمه 1388»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَبُو الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَنَشُ بْنُ رَبِيعَةَ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَوَى عَنْهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْهُ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. ⦗٤٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَصْحِيحِ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِي هَذِهِ الْأَعْدَادِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهَا مَرَّاتٍ مَرَّةً رُكُوعَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً ثَلَاثَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً أَرْبَعَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَأَدَّى كُلٌّ مِنْهُمْ مَا حَفِظَ وَأَنَّ الْجَمِيعَ جَائِزٌ وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزِيدُ فِي الرُّكُوعِ إِذَا لَمْ يَرَ الشَّمْسَ قَدْ تَجَلَّتْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَمَنْ بَعْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ، وَاسْتَحْسَنَهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبُ الْخِلَافِيَّاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ مِنَ التَّرْجِيحِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حنش بن معتمر ابو المعتمر کنانی، اور بعض نے انہیں حنش بن ربیعہ کہا ہے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، ان سے سماک بن حرب اور حکم بن عتیبہ نے روایت کی ہے۔ محدثین ان کی حدیث میں کلام کرتے ہیں اور یہ کوفی ہیں۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے سنا۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: حنش بن معتمر قوی نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ ان تعداد کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث صحیح ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز کئی مرتبہ پڑھی: ایک مرتبہ ہر رکعت میں دو رکوع کیے، ایک مرتبہ ہر رکعت میں تین اور ایک مرتبہ ہر رکعت میں چار رکوع کیے، تو جس کو جو یاد تھا اس نے وہی بیان کر دیا اور یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع زیادہ کرتے جب دیکھتے کہ سورج روشن نہیں ہوا۔ یہی مذہب اسحاق بن راہویہ کا ہے اور ان کے بعد محمد بن اسحاق بن خزیمہ، ابوبکر احمد بن اسحاق بن ایوب صبغی اور ابو سلیمان خطابی کا ہے اور صاحب الخلافیات ابوبکر محمد بن ابراہیم بن منذر نے بھی اسے پسند کیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے جس ترجیح کی طرف اشارہ کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6330]
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ ان تعداد کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث صحیح ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز کئی مرتبہ پڑھی: ایک مرتبہ ہر رکعت میں دو رکوع کیے، ایک مرتبہ ہر رکعت میں تین اور ایک مرتبہ ہر رکعت میں چار رکوع کیے، تو جس کو جو یاد تھا اس نے وہی بیان کر دیا اور یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع زیادہ کرتے جب دیکھتے کہ سورج روشن نہیں ہوا۔ یہی مذہب اسحاق بن راہویہ کا ہے اور ان کے بعد محمد بن اسحاق بن خزیمہ، ابوبکر احمد بن اسحاق بن ایوب صبغی اور ابو سلیمان خطابی کا ہے اور صاحب الخلافیات ابوبکر محمد بن ابراہیم بن منذر نے بھی اسے پسند کیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے جس ترجیح کی طرف اشارہ کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عدي ابن كامل 2/438»
الحكم على الحديث: صحيح
1285. -- باب: من صلى في الخسوف ركعتين
-- باب: جس نے گرہن کی نماز (عام نماز کی طرح) دو رکعت پڑھی
حدیث نمبر: 6331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ. وَهَذَا خَبَرٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِدَلِيلِ.
سیدنا حسن رحمہ اللہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1013»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6332
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ". قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ نَاسٌ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَعْمَرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ"، وَقَدْ ذَكَرَهُ جَمَاعَةٌ وَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ مَعَ إِخْبَارِهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرِيدُ بِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ⦗٤٦٢⦘ رُكُوعَيْنِ كَمَا أَثْبَتَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا تُصَلُّونَ..
(الف) حضرت حسن، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے نکلے، یہاں تک کہ مسجد پہنچ گئے۔ لوگوں نے بھی جلدی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب گرہن ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم سورج یا چاند کو دیکھو کہ انہیں گرہن لگا ہوا ہے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ تمہاری یہ حالت دور ہو جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگوں نے کہا کہ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وجہ سے ہوا ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے، انہوں نے «يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ» ”اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، جابر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، لیکن یزید بن زریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6332]
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے، انہوں نے «يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ» ”اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، جابر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، لیکن یزید بن زریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1014»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6333
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ:" كَمَا تُصَلُّونَ". إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مَوْتَ ابْنِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَصَلَاةُ الْخُسُوفِ كَانَتْ مَشْهُورَةً فِيمَا بَيْنَهُمْ فَأَشَارَ إِلَيْهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
یزید بن زریع رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جیسے تم نماز پڑھتے ہو، لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات کا ذکر نہیں کیا اور نمازِ خسوف ان کے ہاں مشہور تھی، اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6334
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمٍ لِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حَسَرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ. وَقَوْلُهُ:" فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ" يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مُرَادُهُ بِذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ جَمَاعَةٍ أَثْبَتُوهُ، وَالْمُثْبَتُ شَاهِدٌ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ.
(الف) عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے تیروں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کھیل رہا تھا۔ اچانک سورج گرہن لگا، میں نے ان کو پھینک دیا اور میں نے کہا: ”میں ضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تسبیح، تحمید، تحلیل و تکبیر اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی۔
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے یہ مراد ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے جیسا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6334]
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے یہ مراد ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے جیسا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 913»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6335
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ". هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ وَلَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْأَخِيرَةُ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے مسجد آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، جب سورج روشن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا یہ گمان ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ اس طرح نہیں بلکہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں سے جب کسی چیز کو روشن فرماتے ہیں تو وہ اس کے لیے خشوع و خضوع اختیار کرتی ہے، جب تم ان کو دیکھو تو فرض نماز کی طرح نماز پڑھو۔“
یہ روایت مرسل ہے، ابوقلابہ نے اسے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ آخری الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6335]
یہ روایت مرسل ہے، ابوقلابہ نے اسے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ آخری الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6335]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1193»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6336
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا كَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا: إِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا". وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ فِيهِ: فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَسَأَلَ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ خَالِيًا عَنْ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي تُوهِمُ خِلَافًا، وَخَالِيًا عَنْ لَفْظِ التَّجَلِّي.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ جب سورج بے نور ہوتا ہے تو اہل زمین میں کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے، لیکن یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے ہیں، جب اللہ اپنی مخلوق سے کسی کو روشن کرتا ہے تو وہ اس سے ڈرتی ہے اور جب تم اس طرح دیکھو تو نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6336]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 4/367»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُسْتَعْجِلًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحْدِثُ اللهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرًا". هَذَا أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے جلدی مسجد کی طرف آئے اور سورج گرہن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند زمین والوں میں سے کسی بڑے کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ سورج اور چاند کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے کرتا ہے، تو ان میں سے جو بھی بے نور ہو تو تم نماز پڑھو، یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائے یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دیں۔“
یہ روایت محفوظ ہونے کے زیادہ مشابہ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابوقلابہ عن قبیصہ ہلالی سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6337]
یہ روایت محفوظ ہونے کے زیادہ مشابہ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابوقلابہ عن قبیصہ ہلالی سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6337]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ نسائي 1490»
الحكم على الحديث: ضعيف