🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1282. -- باب:: كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٤٥١⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ لَهَا:" أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ" ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحِجْرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
عمرہ بنت عبد الرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی (عذابِ قبر سے متعلق پوچھنے لگی) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا لوگ قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح سواری پر سوار ہوئے تو سورج گرہن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت واپس آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجروں کے درمیان سے گزرے۔ پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ نے چاہا۔ پھر فرمایا: ”تم عذابِ قبر سے پناہ مانگو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1002»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَتَتْ يَهُودِيَّةٌ فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنُعَذَّبُ فِي قُبُورِنَا؟ فَقَالَ كَلِمَةً:" إِنِّي عَائِذٌ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ" قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي مَرْكَبٍ وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ بَيْنَ الْحِجْرِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا حَتَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، فَكَبَّرَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ، أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ"..
عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی اور پوچھنے لگی (اور دعا دی کہ): اللہ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنی قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے میں گزرے اور سورج گرہن ہو چکا تھا۔ پھر میں اور دوسری عورتیں حجرے سے نکلیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے سے جلدی واپس آگئے اور جائے نماز پر کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور لمبا قیام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر لمبا سجدہ کیا۔ وہ پہلے سجدے سے کم تھا۔ پھر دوسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل تھی۔ فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ عذابِ قبر سے پناہ مانگ رہے تھے اور فرمایا: «إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”تم اپنی قبروں میں فتنے میں ڈالے جاؤ گے جیسے دجال کا فتنہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6309]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6310
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ وَصْفُ السُّجُودِ بِالطُّولِ، وَهُوَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَمَا ذَكَرْنَا.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6310]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ، وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ شَيْبَانَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو اعلان ہوا کہ ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اتنا لمبا سجدہ اور رکوع کبھی نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6311]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6300»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6312
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأنا أَسْمَعُ قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْكَعُ. فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْفَعُ. فَرَفَعَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ". فَهَذَا الرَّاوِي حَفِظَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو طُولَ السُّجُودِ وَلَمْ يَحْفَظْ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ حَفِظَ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ وَحَفِظَ طُولَ السُّجُودِ عَنْ عَائِشَةَ..
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اتنا لمبا رکوع کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے، جب رکوع سے سر اٹھا لیا تو کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر جب سجدہ کیا تو اتنا لمبا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور بیٹھ گئے، زیادہ دیر بیٹھے رہے، کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔
عطاء بن سائب رحمہ اللہ وغیرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے لمبے سجود کا تذکرہ کیا، لیکن ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ یاد نہیں رہا۔
ابو سلمہ رحمہ اللہ کو ایک رکعت میں دو رکوع کا ذکر یاد تھا، لیکن لمبے سجود کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 1392»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6313
وَقَدْ رَوَاهُ مُؤَمَّلُ بُنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ:" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَيَّاشٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مَعَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ. وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي مُخْتَصَرِ الصَّحِيحِ.
مؤمل بن اسماعیل رحمہ اللہ، حضرت سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، حدیث میں کچھ الفاظ زائد بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا تو قیام کو لمبا کر دیا، یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو رکوع سے نہیں اٹھائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6313]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابن خزيمه 1393»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6314
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" إِنِّي عُرِضَتْ ⦗٤٥٣⦘ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقُرِّبَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا نِلْتُهُ، أَوْ قَالَ قَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ، شَكَّ هِشَامٌ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةً أَنْ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُرِيكُمُوهَا، فَإِذَا انْكَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سخت گرمی کے دن سورج گرہن ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو لمبا قیام فرمایا، یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور اسے لمبا کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو زیادہ دیر کھڑے رہے۔ پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو زیادہ دیر ٹھہرے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور (دوسری رکعت میں بھی) اسی طرح کیا، پس یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آگے اور پیچھے ہٹتے تھے۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، تو جنت میرے قریب کی گئی، یہاں تک کہ اگر میں اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔“ یا فرمایا: ”میرا ہاتھ اس سے قاصر رہ گیا۔“ (راوی) ہشام کو شک ہے۔ ”اور جہنم میرے سامنے پیش کی گئی، تو میں ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا تھا کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے۔ میں نے اس میں ایک سیاہ رنگ کی حمیری عورت دیکھی، وہ ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جا رہی تھی۔ اس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھلایا، نہ پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی اور میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں گھسیٹ رہا تھا۔ اور لوگ کہا کرتے ہیں کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہی بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جو تمہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ جب انہیں گرہن لگ جائے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6314]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 904»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ". وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الشَّافِعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ فَهُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو. فِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
اس روایت کو عبیداللہ سے بیان کرنے میں یحییٰ بن سلیم منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6315]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تاريخ بغداد 10/119»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6316
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ النَّسَوِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْخَطْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ:" فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ، وَجَلَسَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّتِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا أَوِ اكْتَسَبْتُمُوهُ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ میں سورج گرہن ہوا، ان کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے (کیے)، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پھر گئے اور اپنے گھر داخل ہوئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز کا حکم دیتے تھے اور ”جب تم دیکھو کہ سورج اور چاند کو گرہن نے پا لیا ہے تو تم نماز کی طرف جلدی کرو، اگر تو یہ وہ ہے جس سے تم ڈرتے رہو، یعنی قیامت، تو تم غفلت پر نہ ہو گے اور اگر یہ وہ نہیں تو پھر تم نے بھلائی کو پا لیا“ یا فرمایا: ”تم نے بھلائی کو کما لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6316]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أحمد 1/459»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6317
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ:" أَنَّ حُذَيْفَةَ صَلَّى بِالْمَدَائِنِ مِثْلَ صَلَاةِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكُسُوفِ".
حسن عرنی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرح کسوف کی نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6317]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں