🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1283. -- باب: من أجاز أن يصلى في الخسوف ركعتين في كل ركعة ثلاث ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں تین رکوع ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6318
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ يُرِيدُ عَائِشَةَ:" أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ قِيَامًا ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رُكُوعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" فَقَامَ فَحَمِدَ اللهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللهَ حَتَّى يَنْجَلِيَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ.
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر رکوع فرمایا، پھر کھڑے ہوئے، پھر رکوع فرمایا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھیں اور تین رکوع اور چار سجدے کیے، پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو فرماتے: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، پھر رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ رب العزت ڈراتے ہیں، جب تم گرہن کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 901»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6319
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، وَهَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ، وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ". قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ: أَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ الشَّيْخُ: قَتَادَةُ لَمْ يَشُكَّ فِي أَنَّهُ عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ خَالَفَهُمَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فِي إِسْنَادِهِ، فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَخْبَرَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبید بن عمیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ میں نے معاذ بن ہشام سے کہا: کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں؟ فرمایا: ہاں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
قتادہ کو اس میں شک نہیں کہ یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے، جبکہ عبدالملک بن ابی سلیمان نے اس کی سند میں ان دونوں کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے عطاء بن ابی رباح عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ اس دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6319]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 901»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصُّولِيُّ إِمْلَاءً سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ"..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا۔ یہ وہ دن تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت کی۔ پھر اتنا ہی لمبا رکوع کیا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گر پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتنا ہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور صفیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ فرمایا: ”اے لوگو! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6320]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 904»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6321
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ،. ح وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَرُكُوعُهُ نَحْوٌ مِنْ سُجُودِهِ وَزَادَ فِي تَأَخُّرِ الصُّفُوفِ قَالَ: حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ زَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ:" مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ حَتَّى جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ، وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ نَظَرَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَفِي الْقِصَّةِ الَّتِي رَوَاهَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَلِمَ أَنَّهَا قِصَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَأَنَّ الصَّلَاةَ الَّتِي أَخْبَرَ عَنْهَا إِنَّمَا فَعَلَهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، وَرِوَايَةُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَكَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ ⦗٤٥٦⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرِوَايَةُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا صَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ"، وَفِي حِكَايَةِ أَكْثَرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا تَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ" دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا صَلَّاهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ، فَخَطَبَ وَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ رَدًّا لِقَوْلِهِمْ: إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، وَفِي اتِّفَاقِ هَؤُلَاءِ الْعَدَدِ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِمْ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَزِدْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عَلَى رُكُوعَيْنِ، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى.
(الف) عبد الملک نے اپنی سند سے اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع سجدے کی طرح ہی تھا۔ اس میں اضافہ کیا ہے کہ صفیں اس قدر پیچھے ہٹیں کہ وہ عورتوں تک پہنچ گئیں۔ حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ: ”کوئی چیز ایسی نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہو اور میں نے اس کو اپنی اس نماز میں نہ دیکھا ہو۔ جہنم کو لایا گیا، جس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں اس کے شعلے مجھ تک نہ پہنچ جائیں، یہاں تک کہ میں نے اس میں کھونٹی والے کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچ رہا تھا۔ وہ حاجیوں کے سامان کو اپنی کھونٹی سے چرایا کرتا تھا، اگر اسے علم ہو جاتا تو کہہ دیتا کہ وہ میری کھونٹی سے اٹک گیا، اور اگر اسے پتا نہ چلتا تو وہ اسے لے جاتا۔ اور میں نے جہنم میں ایک بلی کو باندھنے والی عورت کو دیکھا، نہ تو وہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ ہی اس کو چھوڑتی تھی تاکہ وہ زمین کے حشرات کو کھا کر گزارہ کر لیتی، یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی۔ پھر جنت کو لایا گیا، یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا تاکہ اس کے پھل حاصل کر لوں، تاکہ تم دیکھ لو، پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں ایسا نہ کروں۔ جس چیز کا بھی تم سے وعدہ کیا گیا، میں نے اس کو اپنی اس نماز میں دیکھا۔“
شیخ فرماتے ہیں: جو شخص اس قصے میں اور ابوزبیر عن جابر والے قصے میں غور کرے گا وہ جان لے گا کہ یہ ایک ہی قصہ ہے اور یہ وہ نماز ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن پڑھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے۔
(ب) عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمن کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت، عطاء بن یسار اور کثیر بن عباس کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت، ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت اور ابوزبیر کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت اس پر متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز دو رکعت پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
(ج) ان میں سے اکثر کی روایت میں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی دن پڑھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے فوت ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور لوگوں کے اس قول کی تردید میں یہ بات فرمائی کہ سورج ان کی موت کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔ ان راویوں کی اس تعداد کا، ان کے حفظ کی فضیلت کے ساتھ، متفق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع سے زائد نہیں کیے، جیسا کہ امام شافعی اور محمد بن اسماعیل بخاری رحمہما اللہ کا مذہب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6321]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1284. -- باب: من أجاز أن يصلي في الخسوف ركعتين في كل ركعة أربع ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6322
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: زَادَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ فِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَذَكَرَ فِيهِ عَلِيًّا.
طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6322]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ مسلم 908»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6323
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ وَفِي الْأُخْرَى مِثْلَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ. وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ أَعْرَضَ عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي فِيهَا خِلَافُ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
(الف) طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی۔ پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔
محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے ان روایات سے اعراض کیا ہے جن میں جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔
(ب) کثیر بن عباس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
(ج) طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا عمل نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ لیکن سر اٹھانے اور تعداد میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6323]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَانَ يُنَاظِرُهُ: رَوَى بَعْضُكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ". قُلْتُ لَهُ: هُوَ مِنْ وَجْهٍ مُنْقَطِعٌ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ عَلَى الِانْفِرَادِ وَوَجْهٌ نَرَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ غَلَطًا، قَالَ: وَهَلْ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلَاةُ ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، قُلْنَا: نَعَمْ.
(الف) ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ بعض لوگ ان سے مناظرہ کرتے ہیں کہ بعض نے روایت کیا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں تین رکوع کیے۔“ میں نے کہا: یہ حدیث ایک طریق سے منقطع ہے اور منقطع حدیث ہمارے نزدیک اکیلی ثابت نہیں ہوتی، اور ایک دوسرا طریق ہے جسے ہم غلط سمجھتے ہیں، «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کوئی ایسی روایت منقول ہے کہ انہوں نے ایک رکعت میں تین رکوع کیے ہوں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ سلیمان احوال بیان کرتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں کہ زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ سند زیادہ ثابت ہے سلیمان احوال عن طاؤس عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے۔ اسی طرح صفوان بن عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے زمزم کے نزدیک نمازِ کسوف ادا کی تو ہر رکعت میں دو دو رکوع کیے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے، یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6324]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كتاب العم 7/261»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ كَمَا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ كَمَا رَكَعَ، صَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَقْرَأْ بَيْنَ الرُّكُوعِ". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ خَمْسُ رُكُوعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ بِإِسْنَادٍ لَمْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِهِ صَاحِبَا الصَّحِيحِ، وَلَكِنْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَهُوَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا جتنی دیر قراءت کی تھی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح چار رکوع کیے سجدہ کرنے سے پہلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اسی طرح کیا اور رکوع کے درمیان قراءت نہیں کی۔
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ قابل حجت نہیں ہے۔
(ب) بعض روایات میں ایک رکعت میں پانچ رکوع کا تذکرہ بھی آیا ہے، لیکن وہ قابل حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6325]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الدعاء 2234»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6326
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قَالُوا: أنبأ رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى تَجَلَّى كُسُوفُهَا".
ابوالعالیہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوال کی سورتوں میں سے ایک سورہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوال کی سورتوں میں سے کوئی سورہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر قبلہ رخ ہو کر بیٹھے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6326]
تخریج الحدیث: «منكر۔ احمد 5/134»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6327
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ بِذَلِكَ. وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ.
(الف) حسن بصری رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمازِ کسوف پانچ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ہر رکعت میں چار رکوع کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6327]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي في العم»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں